مولانا محمد علی جوہرکی کہانی، ایک عقیدت کیش کی زبانی-نایاب حسن

مولانامحمد علی جوہر تحریکِ آزادیِ ہند کے سرخیلوں میں سے ایک اور بیسویں صدی کے عظیم ہندوستانی رہنما ہیں۔علی گڑھ اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ محمد علی جوہر کی شخصیت اور عملی زندگی میں دلچسپی کے بے شمار پہلو ہیں۔وہ ایک شعلہ بجاں سیاسی رہنما تھے اور ایک بہترین خطیب،ایک باکمال صحافی بھی تھے اور اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرنے والے ہندوستانی بھی۔ہندوستان کی تحریک آزادی جو انیسویں صدی میں ہی شروع ہوگئی تھی،اسے تحریکِ خلاف (1919–24)سے ایک نئی سمت و حرارت  ملی،جس میں  ملک کے تمام طبقات نے پرجوش طریقے سے شرکت کی اور خصوصاً  ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فقید المثال اتحاد قائم ہوا ۔ اس پوری تحریک میں کئی بڑے ہندوستانی رہنما شامل تھے،مگر محمد علی جوہر اس کی بنیاد کا پتھر تھے ،اس کے پس پردہ انہی کی لگن،خلوص،تڑپ اور قوم و ملک کے تئیں غیر معمولی عشق کار فرما تھا۔یہ تو حقیقت  ہے کہ اس تحریک کا جو اصل مقصد تھا،وہ حاصل نہ ہوسکا اور خود ترکوں نے ہی خلافت کی قبا چاک کردی،مگر بطور مسلمان اور خلافت کے نظام کی خوبی وافادیت پر یقین کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں نے دوسرے برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر پرزور تحریک چلائی اور اسی کی کوکھ سے ہندومسلم اتحاد و توافق نے جنم لیا،جس کے بعد دونوں طبقوں نے ساتھ مل کر برطانوی سامراج کے خلاف تحریکیں چلائیں  ۔یہ الگ بات ہے کہ اس اتحاد کے اثرات بہت دیر پا ثابت نہ ہوئے اور بہت جلد دونوں فرقوں کے ایک بہت بڑے طبقے کے درمیان ذہنی و فکری خلیج حائل ہوگئی،جو بالآخر تقسیمِ ملک پر منتج ہوئی۔

محمد علی جوہر کی شخصیت و سیاست اور زندگی کی دیگر سرگرمیوں کی تفصیلات پر مشتمل کئی کتابیں لکھی گئی ہیں اور اب بھی لوگ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں، مگر اس حوالے سے مولانا عبدالماجد دریابادی کانام اور کام خاص اہمیت کا حامل ہے؛کیوں کہ مولانا دریابادی کو محمد علی جوہر سے بے پناہ عقیدت تھی ،بہت سی سرگرمیوں میں ان کے رفیق رہے اور ان سے استفادے کا سلسلہ بھی رہا،سو مولانا کی وفات کے بعد ‘‘محمد علی جوہر: ذاتی ڈائری کے چند ورق’’کے نام سے انھوں نے جو سوانح لکھی ہے،وہ بہت ہی شاندار ،جامع اور مولانا کی زندگی کی تمام جہات کابھر پور  احاطہ کرتی ہے۔ساٹھ سے زائد چھوٹے بڑے  ابواب کے تحت  انھوں نے شروع سے وفات تک محمد علی جوہر کی زندگی اور اعمال و تحریکات کا اپنے انوکھے اور دلچسپ انداز میں جائزہ لیا ہے۔یہ دراصل مختلف موقعوں پر لکھے گئے مولانا کے مضامین کا مجموعہ ہے،جنھیں معقول ترتیب و تسلسل کے ساتھ یکجا کرکے شائع کیا گیا ہے۔ پہلی باردارالمصنفین اعظم گڑھ سے۱۹۵۶میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی،بعد میں لکھنؤصدق فاؤنڈیشن سے کمپوز کرواکے شائع کی گئی،جس کے صفحات پونے سات سو ہیں۔

اِس وقت میرے پیشِ نظر ایک ایسی ہی کتاب  ہے،جس کے مصنف محمد عبدالملک جامعی ہیں،کتاب کا نام ‘‘مولانا محمد علی جوہر:آنکھوں دیکھی باتیں’’ہیں  اور جامعی صاحب  کا تعلق بھی محمد علی جوہر سے نیاز مندانہ،عقیدت مندانہ اور مخلصانہ رہا ہے۔عبدالملک جامعی کا وطنی تعلق مرادآباد سے تھا ،ان کے والد  منشی عبدالقیوم صاحب ایک نفیس  رقم خطاط تھے اور اس وقت کے اجلِ علما و دانشوران اور سیاسی رہنماؤں سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔مولانا آزاد کی معرکۃ الآرا ترجمہ و تفسیر قرآن ‘‘ترجمان القرآن’’ کی کتابت انھوں نے ہی کی تھی۔مشہورِ زمانہ اخبار ‘‘مدینہ’’بجنور کی کتابت بھی ایک عرصے تک انھوں نے کی تھی۔ عبدالملک صاحب جامعہ سے گریجویٹ ہوئے ۔درس و تدریس کی خدمت انجام دی اور آزادی سے کچھ پہلے ہی مدینہ منورہ ہجرت کرگئے،جہاں طویل عرصے تک علمی و دینی خدمات انجام دے کر۱۹۹۱ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہیں۔

گو کہ جامعی صاحب کے مولانا محمد علی جوہر سے باضابطہ تعلق کی عمر بہت زیادہ نہیں رہی،جانتے تو بہت پہلے سے تھے،ان کی کئی تقریریں بھی سن رکھی تھیں،مگرجب ۱۹۲۹میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخل ہوئے توجنوری یا فروری ۱۹۳۱ میں   ڈاکٹر ذاکر حسین کے ذریعے ان سے براہِ راست شناسائی ہوئی اور   جنوری ۱۹۳۱میں ہی مولانا کا انتقال ہوگیا،گویا عبدالملک جامعی اور مولانا محمد علی جوہر کے راست تعلق کا عرصہ محض سال بھر کو محیط ہے ،مگر اس قلیل عرصے میں ہی وہ ان کے اتنے قریب ہوگئے تھے کہ ان کے فردِ خانہ کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔مولانا کو ان سے خاص اُنس ہو گیا تھا اور  اپنےبہت سے ذاتی کاموں میں  بھی انھیں شریک رکھتے اور اس طرح عبدالملک صاحب کو مولانا کی سیاسی ،قومی و صحافتی سرگرمیوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ۔مولانا کی وفات کے بعد انھوں نے بھی اپنے مشاہدات و ملاحظات کی روشنی میں ان  کی شخصیت و حیات کے مختلف گوشوں پر کئی مضامین لکھے،جو زیادہ تر  غیر مطبوعہ تھے اور مدینہ منورہ میں ان کے اہلِ خانہ کے پاس محفوظ تھے۔اللہ جزاے خیر دے اردو کے سینئر  صحافی جناب معصوم مرادآبادی کہ انھوں نے یہ قیمتی علمی ،ادبی و تاریخی ورثہ منظرِ عام پر لاکرمولانا محمد علی جوہر کی  شخصیت کے تعلق سے ان کے ایک عقیدت کیش کے خیالات ، افکار و مشاہدات کو زندگی بخش دی ہے۔عبدالملک جامعی صاحب معصوم مرادآبادی کے حقیقی ماموں تھے اور اس نسبت سے ان پر جامعی صاحب کایہ  حق بھی تھا،جسے انھوں نے ان کی وفات کے تیس سال بعد ہی سہی،مگر بڑی خوبی و ہنر مندی  سے ادا کیا ہے۔

یہ کتاب کیا ہے،مولانا محمد علی جوہر کی زندگی کا ایک خوب صورت مرقع،ایک دلکش جائزہ ،حسین و جمیل یادوں  کا سلسلہ۔زبان اتنی ستھری اور نکھری ہوئی ہے کہ کتاب ہاتھ میں لینے کے بعد چھوڑنے کو جی نہیں کرتا اور  پوری کتاب پڑھ کر ہی طبیعت کو سیری ہوتی ہے۔اس کی نثر میں  ایسی  شیرینی اور جاذبیت ہے کہ قاری پر محویت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ جامعی صاحب نے اپنے مضامین میں مولانا محمد علی جوہر کی زندگی،ان کے اہل خانہ و اولاد اور دیگر ذاتی احوال کے ساتھ تحریک خلافت اور ان کی سیاسی معرکہ آرائیوں پر نہایت دلچسپ،معلومات افزا تبصرے کیے ہیں۔ان کی مجلسوں کا رنگ کیا ہوتا تھا،ان کے رفقا و معاصرین انھیں کس نظر سے دیکھتے تھے اور خود ان کا رویہ ان کے ساتھ کیسا تھا،جامعہ سے ان کے تعلق کی نوعیت کیا تھی اور اہلِ جامعہ ان سے کیسی عقیدت رکھتے تھے،ان سارے امور پر نہایت عمدہ مضامین اس کتاب میں پڑھنے کو ملتے ہیں اور بہت سی فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ایک بہت معلوماتی مضمون مولانا کے اخبار‘ہمدرد’کی قدیم فائلوں کے تعلق سے ہے کہ کتنے شمارے کہاں کہاں پائے جاتے ہیں۔اخیر میں چوتھی گول میز کانفرنس میں  مولانا کی تاریخی تقریر کا ترجمہ بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ مصنفِ کتاب کے نام محمد علی جوہر کے متعلقین جن میں ان کی اہلیہ،سعید انصاری،میرن صاحب، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا عبدالماجد دریابادی شامل   ہیں،ان کے خطوط بھی شامل کیے گئے ہیں۔ایک خط جامعی صاحب کا معصوم مرادآبادی کے نام بھی ہے اور سب سے آخر میں مولانا محمد علی جوہر پر معصوم مراد آبادی کا مضمون بھی کتاب کا حصہ ہے۔کتاب کی طباعت نہایت شاندار اور دیدہ زیب ہوئی ہے۔خبر دار پبلی کیشنز دہلی نے اسے شائع کیا ہے ۔۲۰۸صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت تین سو روپے ہے۔ ہندوستان کی تحریک و تاریخِ آزادی اور اس تحریک کے رہنماؤں بالخصوص مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت سے دلچسپی رکھنے والے  تو اس کتاب کا مطالعہ کریں گے ہی ،مگر مطلق مطالعہ و کتب بینی کا ذوق رکھنے والوں کو بھی یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔