محبت و اخلاص کے پیکر : ڈاکٹر ممتاز احمد خاں

قمر اعظم صدیقی 

بھیروپور ، حاجی پور ، ویشالی

9167679924

چند ماہ قبل کی بات ہے ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق اس دار فانی کو لبیک کہ کر اپنے معبود حقیقی سے جا ملے ۔ ضلع ویشالی کے لوگوں کا غم ابھی ہلکا بھی نہ ہوا تھا کہ ہم لوگوں کو ڈاکٹر ممتاز احمد خاں بھی داغ مفارقت دے گے ۔ جس سے محبان اردو کو دوبارہ عظیم سانحہ سے گزرنا پڑا۔ ڈاکٹر ممتاز صاحب کے گزر جانے کے بعد ویشالی ضلع کے اردو حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر ہونا ناممکن نظر آتا ہے ۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے( آمین)۔ اور ان کے دوست احباب شاگرد اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

ڈاکٹر صاحب کے انتقال کی خبر جب مجھے ملی میں مظفر پور میں تھا ۔ یہ خبر بہت ہی افسوس ناک تھی کیو نکہ موصوف بالکل صحت مند تھے۔ حقیقت حال جاننے کی غرض سے میں نے اپنے ماموں جان انوارالحسن وسطوی صاحب کو فون لگایا اور تفصیل معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بخار کھانسی اور تنفس میں تنگی کی وجہ سے حاجی پور کے ہی کسی پرایویٹ اسپتال میں ایڈمٹ کرایا گیا لیکن حالات زیادہ بگڑنے کی وجہ سے بہتر علاج کے لیے پٹنہ کے کسی پرایویٹ نرسنگ ہوم میں لے جایا گیا ۔ لیکن وہاں بھی ایک ہی روز رہ پاے اور پھر معبود حقیقی سے جا ملے ۔ موت کا وقت قریب آجاے تو نہ دوا ہی کام آتی ہے اور نہ دعا ہی کام آتی ہے۔

مرحوم پروفیسر صاحب سے نہ تو میری کوی رشتہ داری تھی نہی شاگرد اور استاد کے رشتہ کا کوی معاملہ تھا۔ ممتاز صاحب کو میں نے اپنے ماموں جان انوار الحسن وسطوی کے توسط سے جانا اور پہچانا تھا۔بچپن میں جب بھی ماموں کے یہاں جاتا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوتی یا پھر کسی پروگرام میں ملتے اس وقت سے لے کر اپنے گزرنے کے قبل تک جب بھی کسی بھی موقع سے ملتے تو بہت ہی خندہ پیشانی سے ملتے خیر عافیت دریافت حکرتے میرے والد گرامی کے احوال بھی دریافت کرتے ۔ ڈاکٹر صاحب متعدد مرتبہ میرے غریب خانے پربھی تشریف لا چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جب بھی میرے گھر تشریف لاتے زیادہ تر موقع سے میرے ماموں جان کے ھمراہ ہی ہوتے تھے۔ چند دفعہ اکیلے بھی تشریف لاے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب میرے نکاح کے موقع پر بھی والد صاحب کی حقیر سی دعوت پر تشریف لاکر کر نکاح خوانی کی محفل کو عزت بخشی اور مجھے اپنے دعاؤں سے نوازا۔ ڈاکٹر صاحب میرے غریب خانے پر آخری دفعہ 4 دسمبر 2020 کو آے تھے۔ اور میری ان‌سے آخری ملاقات ایک ماہ قبل ان کی ہی کتاب ” قندیلیں کی رسم اجرا کے موقع پر ان کی قیام گاہ پر ہوی تھی ۔ میں ان سے اس قدر متاثر تھا کہ ان کے آخری سفر میں شامل ہوے بغیر میں نہ رہ سکا۔ میں اپنے تمام کاموں کو منسوخ کرکے ان کے آخری دیدار کے لیے حاجی پور آگیا۔ ان کے اوپر ترتیب دی گی گئی کتاب ” ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ایک شخش ایک کارواں ” کی میں نے چند تحریریں پڑھیں تو معلوم ہوا کہ موصوف اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی کے بھی بہترین استاذ ہیں۔ ان کے دوست ارون کمل کی تحریر سے معلوم ہوا کہ درمیان میں ہی انہوں نے ایم اے اردو کو چھوڑ کر ایم اے انگریزی میں داخلہ لے لیا۔ اور اسے مکمل کرنے کے بعد ایم اے اے اردو کو مکمل کیا۔انہوں نے ابتداءی دور میں شعر و شاعری بھی کی۔ بعد میں نثر نگاری کو اپنایا ۔ بہت سارے پروگراموں میں میری شرکت ہو چکی ہےجس میں میں نے انہیں سنا اور دیکھا ۔ ان کی فکر اور خیالات اسلامی ہوا کرتے تھے۔ وہ جس سے بھی ملتے خندہ پیشانی سے ملتے ۔ ان کے اندر غریب اور امیر کا کوی امتیاز نہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی مالدار کو ترجیح نہ دی ۔ وہ اپنی گفتگو میں بھی اکثر کہا کرتے کے مالدار لوگ بہت مغرور ہوا کرتے ہیں میں ایسے لوگوں کو اپنے نزدیک سٹنے نہیں دیتا ہوں۔

ڈاکٹر ممتاز احمد خان ایک شخش ایک کارواں میں پروفیسر ارون کمل لکھتے ہیں "متاز میں لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کی, مدد کرنے کی اور ان سےگھل مل جانے کی عجیب سی جادو بھری طاقت ہے ۔وہ اتنا ایماندار اور بہت گہڑے ارتھوں میں دھارمک ہے۔ انٹینسلی ریلیجس ہے ۔ اس لیے وہ بہت پیارا اور اچھا انسان ہے” اسی کتاب میں شاعر ذکی احمد ذکی نے اپنے منظوم تہنیت میں یہ اعتراف کیا ہے کہ

"کوئی ان کے دامے الفت سے نکل سکتا نہیں

ان سے ملنے کی سدا رہتی ہے مجھ کو آرزو

یہ حقیقت ہے ذکی اس میں نہیں کوی غلو

سنت احمد پہ عامل ہیں یہ صاحب بالعموم

مسکراتے ہی ملیں گے لاکھ ہو غم کا ہجوم ”

اسی طرح بہت سارے لوگوں نے اپنی تحریروں میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے اندر حد درجہ خلوس و محبت اور فکر اسلامی پیوست تھا ۔ وہ کبھی مسلک کے جھنجھٹ میں نہیں پڑے۔ وہ کہا کرتے تھےکہ کوئی بھی میرا مسلک پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میرا مسلک اسلام ہے ۔ علمائے کرام کی موصوف بےحد قدر کرتے تھے۔اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے متعلقین میں اکابرین کے ساتھ ساتھ عام فہم لوگ بھی شامل تھے ۔ کم پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ بھی اتنے ہی وسیع قلبی کا مظاہرہ کرتے ۔ ان کی زندگی ان کے ملنے جلنے والے لوگوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

1980 ء میں موصوف کی تقرری بحیثیت لکچرر آر – این کالج حاجی پور میں ہوی۔ وہ اپنی محنت و لگن سے 14 سالوں تک آرین کالج میں رہ کر اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دیتے رہے۔ 1994 میں موصوف کا تبادلہ بہار یونیورسٹی کے پی جی شعبہ اردو میں ہوا ۔

اللہ نے موصوف کو جو جسامت اور خوبصورتی عطا کی تھی وہ قابل رشک تھا ۔ گورا چٹا چہرہ میانہ قد چہرے پر خسخسی داڑھی کبھی شرٹ پینٹ ، کبھی کورٹ ٹائی اور کبھی کرتا پاجامہ زیب تن کرتے کبھی کبھی شیروانی بھی پہنتے تھے۔

 

ڈاکٹر صاحب کے متعلق تحریر لکھی جائے اور ان کی اردو تحریک کا ذکر نہ ہو تو یہ ان کے ساتھ حق تلفی سمجھی جائے گی۔ 1980ء سے اب تک اردو کی جتنی بھی تنظیمیں ضلع ویشالی میں کام کر رہی ہیں ان میں ان کا سرگرم حصہ رہا ہے۔ضلع کے اردو تحریک کاروں میں ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کا نام سر فہرست رہا ہے ۔ بچپن سے اب تک میں نے ضلع ویشالی میں اردو کے دو دیوانوں کو دیکھا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ان لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی اردو ہے تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ ایک نام محترمی ممتاز احمد خاں صاحب کا اور دوسرا نام میرے ماموں جان جناب انوارالحسن وسطوی صاحب کا ہے۔ ان دونوں کی قیادت میں کام کرنے والوں کا ایک کارواں ہر زمانے میں سرگرم عمل رہا ہے ۔ ماضی میں جب ڈاکٹر ممتاز احمد خاں انجمن ترقی اردو ویشالی کے صدر اور ماموں جان جنرل سکریٹری ہوا کرتے تھے تو ان لوگوں نے نہ جانے کتنے سمینار ، طالب علموں کے لیے اسلامی کوئز مقابلے، تحریری اور تقریری مقابلے اور مشاعرے کا انعقاد کر کے اردو کو توانائی بخشی اور طالب علموں میں اردو کا ذوق پیدا کیا۔ اس زمانہ کے انجمن ترقی اردو کے ویشالی ساخ کے کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ یہاں کے کئے گئے کاموں سے اہل بہار پوری طرح واقف ہی نہیں تھے بلکہ رشک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔ اردو تحریک کے ایک اہم قائد قمر اعظم ہاشمی نے 1996 ء میں حاجی پور کے ایک سیمینار میں بہت ہی صاف گوئی کے ساتھ کہا تھا کہ ہم لوگوں کو انجمن کی ویشالی شاخ سے سبق لینا چاہیے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی کاوشوں اور محنتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ضلع ویشالی میں اردو کے درجنوں قلم کار، شاعر ادیب پیدا ہوے اور اردو کی جو چھوٹی بڑی تنظیمیں چل رہی ہیں ان سب کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے نام جاتا ہے۔ آخر میں میں یہی درخواست کروں گا کہ اردو کو فروغ دینے میں تمام محبان اردو اور ڈاکٹر صاحب کے چاہنے والے لوگ اردو کو فروغ دیں ۔ مرحوم کے لیے یہی سچی خراج عقیدت ہو گی ۔