محبت کے اظہار اور اثبات میں فرق ـ محمد اللہ قیصر

نیند کی پہلی جھپکی آئی ہی تھی کہ محلہ میں پٹاخوں کے شور نے بستر چھوڑنے پر مجبور کردیا، باہر نکلا تو دیکھا عجیب سماں ہے، رنگ برنگی بجلیاں آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہیں، تیز موسیقی کی دھمک حرکت قلب میں اٹھا پٹخ کا سبب بن رہی ہے، (معلوم ہوا کہ چند سالوں پہلے تیز موسیقی ایک بچے کے موت کا سبب بن گئی تھی)، اور دوسری طرف نوجوانوں کا ایک طبقہ آتش بازی میں مگن ہے۔
دل میں ایک خیال آیا کہ انہیں نبی سے محبت نہیں، اسلئے تو آداب عشق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، لیکن یہ بالکل غلط ہے، بخدا اپنے آقا سے ان کو بڑی محبت ہے، بے انتہا عشق ہے، ، پھر ایسا کیوں؟ یہ نبی کی تعلیمات کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ کچھ لوگ محبت ثابت کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کے نزدیک اظہار کافی ہے۔
محبت کے اظہار اور اثبات میں فرق ہے، کوئی اپنے محبوب کے چشم ابرو کی ہر جنبش پر سر تسلیم خم کرتا ہے، اپنی خواہش، اپنی چاہت، اپنی خوشی، اپنی مرضی سب کچھ محبوب کی رضا پر قربان کردیتا ہے، وہ نہیں دیکھتا کہ اردگرد کے لوگ کیا کہتے ہیں، دنیا والے اسے "محبت” کی سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں یا نہیں، اس کی بلا سے، اس پر تو صرف یہ جاننے کی دھن سوار ہوتی ہے کہ محبوب کی چاہت کیا ہے، اس پر سو جان قربان کرنے کیلئے ہمہ دم تیار رہتا ہے، محبت کے سارے تقاضے پورے کرنے کے بعد بھی اسے یہ غم کھائے جاتا ہے کہ، پتہ نہیں در محبوب پر اس کی جان نثاری کو قبولیت کا شرف عطا ہوگا یا نہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا اعتقاد ہوتا ہے کہ محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب کے رنگ میں رنگ جائیں، اس کے سانچے میں ڈھل جائیں، ورنہ محبت ادھوری ہے۔
اس کے برعکس کچھ لوگوں کے نزدیک محبت کی معراج اس کا اظہار ہے، چناں چہ اظہار محبت کے ہر وہ طریقے اپناتے ہیں جو اس وقت رائج ہوتے ہیں، وہ دنیا کو دیکھتے ہیں کہ لوگ خواہ وہ کسی قوم، کسی مذہب سے ہوں کسی کیلئے اپنی محبت کا اظہار کس رنگ، کس ڈھنگ سے کرتے ہیں، کہیں پھول پیش کئے جاتے ہیں، کہیں آتش بازی ہوتی ہے، کہیں گھر، دوکان، گلی، محلے بجلی کے قمقموں سے روشن کئے جاتے ہیں، راستے اور چوراہے چراغاں کئے جاتے ہیں، ناچ، گانے کی محفلیں سجتی ہیں، موسیقی کی دھن پر تھرک کر بتایا جاتا ہے کہ محبوب میری نسوں میں خون بن کر دوڑتا یے۔
ایسے لوگ اپنے نفس کے ہر مشورہ عمل کرتے ہیں، ان کے دل میں اظہار محبت کا جو راستہ سوجھتا ہے اسے اپنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، محبوب کی چاہت اس کی مرضی کا کوئی مول نہیں ہوتا، اس کا حقیقی مقصد ہوتا ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو محسوس ہوجائے کہ یہ عشق میں غرق سچا عاشق ہے۔
"عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے” کے تحت مظاہر عشق کا اہتمام بھی ضروری ہے، انکار کی گنجائش نہیں، لیکن اس کے لئے دنیا کے مروجہ طریقوں کے بجائے، وہ طریقے اختیار کئے جائیں جو محبوب کو قبول ہوں، محبت کے تقاضوں پر عمل کیا جائے تو خود بخود اظہار بھی ہوجاتا ہے، حقیقی عشق چھپتا نہیں، زندگی کے ہر ہر قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع، آپ پر کثرت درود، نام مبارک سننے پر صلاۃ و سلام، یہ وہ اعمال ہیں جو قرآن و حدیث نے بتائے ہیں، جو مالک دوجہاں اور آقائے دوجہاں کی نظر میں مقبول و محبوب ہیں، آقا کے جاں نثاروں نے حب نبی کے اظہار کیلئے ان ہی کو وسیلہ بنایا، اور محبت کا تقاضا بھی یہی ہیں، یہ سب عشق نبی کے حقیقی مظاہر ہیں، ان طریقوں میں عشق کے اظہار کے ساتھ اس کا اثبات بھی ہے۔
آج گلی محلہ اور آس پاس کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رمزیت پسندی اور حقیقت سے زیادہ خود ساختہ مظاہر کا اہتمام کا قدر عام ہو چکا ہے، حد تو یہ ہے کہ پندو نصائح میں مشغول، قرآن و حدیث سے واقفیت کے مدعیان بھی اظہار محبت کے ان طریقوں کی تبریر و توصیف میں لگے ہیں۔
میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ لوگ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت سے عاری ہیں جس دل میں حب نبی نہیں اس کے مومن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ بخدا یہ لوگ صرف اظہار پر اکتفاء کرنے کو محبت کی معراج سمجھتے ہیں،سید الکونین، خاتم النبیین، حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کےلئے مقررہ "پروٹوکولز” کی مخالفت کر رہے، آداب شاہی میں ذرا سی چوک شاہی دربار سے دربدری کا سبب بن جاتی ہے، یہاں تو سید الانس و الجن، خیر الانام، تاجدار امم، اشرف الخلائق،افضل الرسل، سید الکونین و الثقلین، اور خالق کون و مکاں کے سب سے چہیتے، سب سے دلارے کی "تعظیم” کے نام پر "مقررہ آداب” میں "سیندھ ماری” کا سوال ہے، ان کے کیا آداب ہوں گے، وہ آداب کس نے طے کئے ہیں، اور ان کے آداب تعظیم میں ذرا سی چوک کس کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے، ذرا سوچیں، ٹھہر کر غور کریں تو روح کانپ جائے گی، کہ ادھر ذرا سی لغزش ہوئی کہ مالک ارض و سماوات کے غضب کا اندیشہ ہے۔
اور جن اقوام نے صرف اظہار محبت کو محبت کا منتہی سمجھا، ان کے یہاں بھی اظہار کے تمام مروجہ طریقوں کے ساتھ نفس کی پیروی ہوتی ہے، چناں جس طریقہ میں اظہار زیادہ ہوتا ہے، وہی اپناتے ہیں، اور اس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی جاتی ہے، سادہ گانوں سے آغاز ہوا اب جدید ترین آلات موسیقی کا استعمال ہوتا ہے، چراغ سے ابتدا ہوئی اب ڈسکو لائٹ سے کم کا تصور نہیں، "کیف و وجد” میں ظاہر ہونے والی، سر کی مخصوص جنبش، اب اچھل کود، تھرکنے، مٹکنے میں تبدیل ہوچکی ہے، محفل مدحت و ثنا خوانی ترقی کرکے "کنسرٹ”کی شکل اختیار کرچکی ہے، یہ حالت ان تمام ملل و اقوام کی ہے جو اپنی مقدس ہستیوں کے تئیں اظہار محبت کو محبت کی انتہا سمجھتے ہیں، ہماری قوم میں بھی ایک طبقہ اظہار محبت کیلئے ہندؤں اور عیسائیوں کی طبیعت سے متاثر نظر آتا ہے، ان کے یہاں بھی گڈ فرائیڈے، گنیش جینتی، کرشنا جینتی، مہادیو جینتی اور دوسرے "بھگوانوں” کے (مزعومہ) یوم پیدائش پر مختلف طریقوں سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، ان کے یہاں بھی طریق اظہار میں تدریجی ترقی ہوئی ہے، وجہ یہی ہے کہ جس طریقہ میں اظہار و اعلان کی زیادتی نظر آتی ہے وہ اپناتے ہیں اور ظاہر ہے طریقے روز بروز ظہور میں آتے رہتے ہیں، انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ شریعت میں ان طریقوں کے اختیار کی گنجائش کتنی ہے، کون سا طریقہ شریعت سے متصادم ہے کون نہیں، کیوں کہ شریعت مقصود ہی نہیں، مقصود ہے، دکھلاوا، دوسروں کو احساس دلانا، اعلان اور اظہار کرنا، یہ طے شدہ امر ہے کہ رمزیت پسندی کا غلبہ جہاں ہوگا وہاں نو بہ نو خرافات ظہور میں آئیں گے، جس کا مشاہدہ ہم کر رہے ہیں۔
جس محبت کے اظہار میں اس کے تقاضے اور محبوب کے مطالبات یاد نہ رہیں وہ بے فائدہ ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*