محبت کا جلی عنوان شاہد علی خان ـ حقانی القاسمی

مئی کا مہینہ تھا شاید یا جون کا ـــــمکتبہ جامعہ سے شاہد علی خاں صاحب نے ٹیلی فون کیا کہ جلد از جلد اپنی ایک تصویر بھجوادو۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر دو تین ہفتے کے بعد ٹیلی فون آیا کہ کتاب نما کے کور پر تمہاری تصویر چھپ گئی ہے۔ اب جلدی سے مہمان اداریہ لکھ کر بھیج دو۔ میں متذبذب کہ کتاب نما کے مہمان اداریے اکثر بزرگ اور معتبر قلم کار لکھتے رہے ہیں۔ میں لکھوں تو کیا لکھوں۔ نہ کوئی نیا موضوع، نہ کوئی نیا مسئلہ، سارے مباحث پر توگفتگو ہوہی چکی ہے۔ گفتگو کے لیے اب بچا ہی کیا ہے۔ خیر کسی طرح جبر کرکے میں نے مہمان اداریہ لکھا اور کتاب نما کے حوالے کردیا ۔ اداریہ کتاب نما میں چھپا، دعاؤں کے در کھل گئے اور محبتوں کی بارش ہونے لگی، تب مجھے احساس ہواکہ کتاب نما کی رسائی کیسے کیسے علاقوں اور منطقوں تک ہے۔ کتاب نما میں خطوط کے کالم میں جو تاثرات چھپے، اس میں اتفاق بھی تھا اور اختلاف بھی۔ مجھے اختلاف والے حصے سے زیادہ دلچسپی تھی کہ اختلاف سے نئی جہتیں روشن ہوتی ہیں۔ نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ جستجو کا جذبہ بڑھتا ہے۔ اس پورے معاملے میں میرے لیے فخر اور خوشی کی بات یہ تھی کہ میرا مہمان اداریہ کتاب نما کے مدیر شاہد علی خاں کو نہ صرف پسند آیا تھا بلکہ بار بار وہ تعریف کرتے ہوئیتھکتے نہیں تھے۔ شاہد علی خاں صاحب اس کے بعد مجھ پر خاص توجہ فرمانے لگے۔ تبصروں کے لیے کتابیں بھی عنایت کرتے۔ ان کا رویہ میرے تئیں نہایت مشفقانہ تھا اور اسی ر ویے کی وجہ سے میں مکتبہ جامعہ سے بہت قربت محسوس کرنے لگا تھا۔ شام کو ذاکر باغ میں واقع استعارہ کے دفتر سے لوٹتے وقت میں اکثر اپنی رہائش گاہ سے پہلے ان سے ملاقات کے لیے راستے میں ہی رک جاتا۔ وہاں نئی نئی کتابیں نظر آتیں۔ نئے نئے رسالے نظر نواز ہوتے۔ مکتبہ جامعہ میں میرے ذوق کی تسکین کا سارا سامان تھا، اس لیے میں زیادہ سے زیادہ مکتبہ جامعہ میں حاضری دینے کی کوشش کرتا۔ شاہد علی خاں سے میری ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے اوپر ان کا اعتماد بڑھتا جارہا ہے اور وہ میری کسی بات کو کبھی ٹالتے نہیں۔ وہ میری رائے کو خاص اعتبار دیتے تھے جب کہ ان کے بیشتر لمحے اہلِ علم کے درمیان ہی گزرتے تھے جن میں اکثریت جامعات کے اساتذہ اور پروفیسران کی ہوتی تھی اور میں Academics سے دور اردو کا ایک Outsider جس نے کبھی اردو کی کوئی نصابی کتاب نہیں پڑھی۔ ماہنامہ کتاب نما سے میرا جو گہرا رشتہ قائم ہوا، وہ ان کی ادارت تک برقرار رہا اور جب وہ رٹائر ہوئے تو مکتبہ جامعہ سے میرا تعلق رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا کہ میرے لیے کشش کا مرکز وہاں وہی جو شخصیت تھی اس کا نام شاہد علی خاں تھا۔ ان کے اندر وہ ساری خوبیاں تھیں جو قائم گنج کے اکثر پٹھانوں میں ہوتی ہیں۔ شاہد علی خاں صاحب کے غصے کے بارے میں میں پہلے ہی بہت کچھ سن چکا تھا لیکن میرے ساتھ ان کا رویہ پٹھانوں جیسا کبھی نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ محبت اور ملائمت سے بات کرتے۔ ان کا یہ انداز مجھے بہت اچھا لگتا تھا کہ چھوٹوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے اور طلبا کی رہنمائی کرتے۔ اکثر ریسرچ کے طالب علموں کو ان سے رجوع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ مکتبہ جامعہ میں ریسرچ اسکالروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی اور مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ جس محقق نے بھی جامعہ کی کتابوں سے اپنا رشتہ جوڑا اس کی تحقیق میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہی۔
شاہد علی خاں سے دلی میں ملاقاتیں تو رہیں مگر ان سے تعارف کا اصل سلسلہ علی گڑھ سے شروع ہوا جہاں مکتبہ جامعہ کی ایک شاخ تھی اور میں اکثر شام کو وہاں شمشاد مارکیٹ میں واقع مکتبہ جامعہ میں ضرور حاضری دیتا اور نئی کتابوں پر ایک نظر ضرور ڈالتا تھا۔ مجھے اچھی کتابیں خریدنے کا شوق علی گڑھ کے زمانے سے ہی ہے۔ میں بھوکے رہ کر بھی کتابیں خریدتا تھا۔ اسی زمانے میں کتاب نما نے ایک بک کلب کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ میں اس کلب کا ممبر بن گیا۔ اس کلب کی طرف سے پوسٹ کارڈ پر کتابوں کی اطلاع ملتی تھی۔ پوسٹ کارڈ پر شاہد علی خاں کا نام درج ہوتا تھا۔ علی گڑھ سے الوداع ہونے کے بعد مجھے اسی طرح کے مکتبہ کی تلاش تھی، سو دلی میں مکتبہ سے میرا رشتہ استوار ہوا۔ میرے ذہنی وجود پر مکتبہ جامعہ کی ایک واضح شناخت تھی اور کتاب نما سے ایک خاص لگاؤ تھا جو علی گڑھ کے زمانے سے ہی تھا۔ میری بڑی خواہش تھی کہ کتاب نما میں میرے مضامین شائع ہوں۔ علی گڑھ کے زمانے میں یہ خواہش تو پوری نہ ہوسکی، صرف چند خطوط ہی کتاب نما کی زینت بن پائے مگر دلی آنے کے بعد کتاب نما میں تبصروں اور مضامین کا سلسلہ شروع ہوا اور اس میں میری محنت سے کہیں زیادہ شاہد علی خاں کی محبت کاد خل تھا۔ ان کی وجہ سے مجھے پاکستان کے ادبی حلقوں میں بھی ہلکی پھلکی پہچان ملی۔ وہاں کے معتبر قلم کار جب رد عمل کے طورپر کچھ لکھتے اور اس میں میرا ذکر ہوتا تو مجھ سے کہیں زیادہ خوشی شاہد علی خاں صاحب کو ہوتی تھی۔ کتاب نما میں چھاپنے سے پہلے وہ خطوط دکھلاتے ہوئے کہتے حقانی دیکھو تمہاری تعریف میں کیا کیا لکھا ہے اور اکثر میری تعریف وہ خود دوسروں کے سامنے کیا کرتے تھے۔ اکثر کہتے تھے کہ حقانی کا قلم بہت پختہ ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنا اچھا لکھتا ہے۔ وہ اکثر باہر سے آنے والے ادیبوں سے بھی میری خوب تعریف کیا کرتے تھے۔
شاہد علی خاں صاحب میرے لیے ایک شجر سایہ دار تھے۔ میں نے ان کی صحبتوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ ادیبوں کے بہت سے قصے سنے ہیں۔ وہ خاص طورپر بمبئی کی داستان ضرور سناتے تھے۔ مکتبہ جامعہ بمبئی میں جب تک رہے، مکتبہ میں ادیبوں کا جمگھٹا رہتا۔ یوسف ناظم، باقر مہدی اور بھی دیگر شخصیات وہاں تشریف لاتیں۔ شاہد علی خاں صاحب نے پوری زندگی مکتبہ جامعہ کے لیے وقف کردی تھی۔ وقت کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ صبح جاؤ یا شام کو وہ اپنی کرسی پر بیٹھے نظر آتے اور سگریٹ ان کے ہاتھ میں ہوتا اور چائے کی پیالی بھی اکثر ہوتی۔ میں نے بہت کم سگریٹ اور چائے کے بغیر بہت کم انہیں دیکھا ہے۔ ان کی سگریٹ نوشی کو دیکھ کر مجھے علی گڑھ کا وہ زمانہ یاد آتا تھا جب میں بھی چین اسموکر ہوا کرتا تھا اور سگریٹ کی جدائی ایک لمحے کے لیے مجھے برداشت نہیں ہوتی تھی، حتیٰ کہ سگریٹ کا ساتھ ان دنوں میں بھی نہیں چھوٹا جب تنگدستی غالب تھی کیونکہ سگریٹ کے بغیر میری شناخت ادھوری تھی۔ جب کبھی میرے ہاتھ میں سگریٹ نہ ہوتا تو میرے دوست طنزاً کہتے کہ حقانی کے شاید بُرے دن آگئے ہیں۔ شاہد علی خاں نے بھی تمام تر عوارض کے باوجود سگریٹ سے اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ جب کہ ڈاکٹروں کی طرف سے شدید منع تھا۔ آج بھی جب ان کے قوی مضمحل ہوگئے ہیں اور قوت مدافعت بھی کم ہوگئی ہے پھر بھی سگریٹ کا شوق کم نہیں ہوا ہے۔ سگریٹ پیتے پیتے کتابوں کے بل بھی بناتے ہیں۔ باتیں بھی کرتے ہیں۔ ان کے ارد گرد ایک حلقہ رہتا ہے جو اکثر گفتگو میں مصروف رہتا ہے مگر شاہد صاحب کو گفتگو سے زیادہ دقت نہیں ہوتی۔ وہ کم سنتے ہیں بلکہ کبھی بھی تو سنتے ہی نہیں۔ آپ کچھ کہیںگے، وہ سنیں گے کچھ اور۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اتفاق سے تین ایسے لوگ آگئے جن کی سماعتیں کمزور تھیں۔ تینوں بہت ہی بلند لہجے میں بول رہے تھے مگر تینوں میں سے کوئی کسی کی بات صحیح طورپر سمجھ نہیں پارہا تھا۔ سب ایک دوسرے کے کان میں Translate کررہے تھے۔ میں نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے سماعتوں کا یہ سفر دیکھا۔ میرے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں نے شاہد صاحب سے کہا تو وہ بھی مسکرانے لگے۔
شاہد صاحب کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ دُھن کے پکے ہیں جو ٹھان لیتے ہیں وہ کرگزرتے ہیں۔ انجام کی پرواہ نہیں کرتے، چنانچہ جیسے ہی مکتبہ جامعہ سے رشتہ ٹوٹا تو انہوں نے فوراً نئی کتاب کی داغ بیل ڈال دی۔ ابوالفضل انکلیو کے ٹھوکر نمبر 3 میں انہوں نے اپنا اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ وہاں وہ اکثر اکیلے بیٹھے رہتے تھے۔ دیگر بیٹھنے والوں میں پروفیسر توقیر احمد خاں کے علاوہ خاکسار تھا۔ بعد میں تعداد بڑھتی گئی، کرسیاں کم پڑنے لگیں۔ مصروفیات کی وجہ سے میرا آنا جانا بھی کچھ کم ہونے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد وہاں پہنچا تو انہوں نے نہ آنے کی وجہ پوچھی۔ میں نے کہا: اب ہمارے لیے کرسیاں ہی کہاں بچی ہیں۔ ان پر پھر سے پروفیسروں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ کتاب کی دکان تو وہاں نہیں چلی، مگر وہاں ایک ریسٹورینٹ کھل گیا ہے جو خوب چل رہا ہے کہ ہمارے معاشرے کو کتابوں کی خوشبو سے زیادہ کھانے کا ذائقہ عزیز ہے۔ ادب ہمارے معاشرے کی ترجیحی فہرست سے غائب سا ہوگیا ہے۔ نئی کتاب کے بجائے لوگوں کو نئے ذائقے زیادہ پسند آرہے ہیں۔ ہمارے سماج کو مغلوں کی تاریخ نہیں مغلئی ڈش چاہئے۔ شاہد صاحب نے نئی کتاب کا دفتر اوکھلا ہیڈ شفٹ کردیا اور وہاں انہوں نے کتابوں کی فروخت اور اشاعت کا سلسلہ قائم کیا جو جاری ہے۔ انہوں نے اس دوران نئی کتاب نامی ایک رسالہ بھی جاری کیا جس کے سرپرستوں میں مقتدر شخصیات بھی شامل تھیں۔ شاہد صاحب کی وجہ سے کتاب نما کی طرح نئی کتاب کو بھی ایک نئی پہچان ملی۔ میں نے اس نئے مجلے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
آنکھوں کا ’انکار‘ بھی کبھی کبھی بہت معنی خیز اشارہ بن جاتا ہے۔ بہت سی تحریروں سے آنکھیں رشتہ قائم کرنے سے انکار کردیتی ہیں کہ ایک ہی جیسے مناظر سے آنکھوں کو وحشت ہونے لگتی ہے اور کبھی کبھی تو ذہن سے زیادہ تھکن آنکھیں محسوس کرتی ہیں۔ آخر آنکھوں کو بھی تو نیا طور اور نئی تجلی کی تلاش رہتی ہے۔ مضامین کے انبوہ میں آنکھیں صرف انہیں سطروں پہ ٹھہرتی ہیں جن میں کچھ نیا ہوتا ہے کہ ان کی نہ زبان صحیح ہوتی ہے اور نہ بیان اور المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لکھنے والے 1910 کی تحریریں 2010 میں اپنے نام سے چھپوانے میں کسی قسم کی قباحت نہیں محسوس کرتے۔ ایک صاحبِ نظر کا خیال ہے کہ آج کے مابعد جدید مضمون نگاروں میں یہ وبا عام ہوتی جارہی ہے بلکہ یہی ان کی شناخت بنتی جارہی ہے۔
سہ ماہی ’نئی کتاب‘ میں بھی تخلیقات کا ہجوم ہے مگر اس کی جن چند تحریروں سے دل روشن ہوا اور آنکھیں شاد ہوئیں، ان میں شمیم طارق کی تحریر عصری ادب میں قرآنی قصوں کی معنویت اور پروفیسر وہاب قیصر کا مضمون غالب دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ حسن اتفاق یہ ہے کہ دونوں وہ جامعاتی نقاد نہیں ہیں جن کی تحریروں کی طفلیت اور طفولیت سے اب لوگ آشنا ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں ہی تحقیق وتنقید کے میدان میں آزادہ رو ہیں۔ کسی تحریک یاازم کے اسیر نہیں اور خاص بات یہ ہے کہ دونوں ہی اپنے مضامین میں نئے زاویوں کی جستجو کرتے رہے ہیں، اسی لیے ان کے مضامین میں قاری کشش بھی محسوس کرتا ہے اور اسے اپنے مطالعہ کا حصہ بناتے ہوئے مسرت بھی ہوتی ہے۔ اس نوع کی وحشت نہیں ہوتی جو نصابی نوٹس یا ’Coma Criticism‘ پڑھنے کے بعد اکثر ذہنی وجود پر طاری ہوتی ہے۔ شمیم طارق نے اپنے مضمون میں قرآنی قصوں کی معنویت کے حوالے سے دانشورانہ اور عالمانہ گفتگو کرتے ہوئے بہت سے ایسے اشارے بھی دیے ہیں جن کی بنیاد پر تخلیق کار نئے جزیروں کی جستجو کرسکتے ہیں اور ادب میں نئی جہتوں کا اضافہ بھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مذہبی روایات کے پسِ منظر میں لکھے ہوئے افسانوں میں سے جن کو اتفاق واختلاف کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے مکمل افسانہ قرار دیا جاسکتا ہے، وہ ’کشتی‘، ’آخری آدمی‘ (انتظار حسین)، ’گناہ کی مزدوری‘ (مرزا حامد بیگ)، ’شہر ملامت‘ (مظہر الزماں خاں) اور ’بعلم بن بعور‘ (جیلانی بی اے) ۔۔۔ وغیرہ ہیں۔ ان افسانوں سے قرآنی قصوں کی عصری معنویت واضح ہوتی ہے کہ کس طرح افسانوں کا تعلق کتھاؤں، داستانوں، دیومالا اور اساطیر کے بعد قرآنی قصوں سے استوار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا مکمل پس منظر یہ ہے کہ مشرق ومغرب کے فنکاروں نے ہردور میں آسمانی کتابوں اور الہامی سرچشموں سے کسبِ فیض کیا ہے۔ مشرق میں وید، جاتک اور قرآن، مغرب میں توریت، زبور اور انجیل سے مذہبی واعظین ومبلغین ہی نہیں، انسانی جذبات واحساسات کی فنی ترسیل کرنے والے بھی استفادہ کرتے رہے ہیں۔ بائبل کے مواد وموضوعات سے اخذ واکتساب کی مثالیں دنیا بھر کے ادب میں پائی جاتی ہیں، اردو ادب بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ اردو ادب نے قرآن سے بھی استفادہ کیا ہے۔ چونکہ اردو تخلیق کاروں کی نظر ہرقسم کے قصص پر ہے، اس لیے ان کی تخلیقات کی روشنی میں مختلف روایات کے تقابل میں مدد ملتی ہے اور یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن قصص کے حوالے سے لکھے جانے والے افسانے لسانی، فنی او رموضوعی معنویت میں مغرب سے مختلف ہیں۔شمیم طارق نے اپنے مضمون میں انتظار حسین کا خاص طورپر حوالہ دیا ہے کہ ’تخلیقی سطح پر بھی انہوںنے باور کرایا ہے کہ ان کے افسانوں کا خمیر Metahistory سے اٹھا ہے۔ انہوں نے مذہبی روایتوں، اساطیری داستانوں اور حکایتوں سے حاصل کیے ہوئے مروج سانچوں میں تبدیلی کرکے افسانے کو نئی صورت وسیرت عطا کی ہے۔ ان کے افسانوں میں اگر بودھی جاتک کتھائیں اور ہندو دیومالا سے استفادہ ہے تو قرآن حکیم سے بھی استفادہ کیاگیا ہے۔ انہوںنے عقائد کی تاویل وتوجیہ کے بجائے ان کے قبول عام تصور کو مرکز توجہ بنایا ہے، اس لیے تخلیقی سطح پر داستان، حکایت، دیومالا، روایت، حقیقت اور ماورائیت کبھی الگ الگ اور کبھی ملی جلی حیثیت میں سامنے آتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ مذہبی روایات بھی ان کے یہاں خالص مذہبی روایات نہیں رہ گئی ہیں۔ ان کے ذریعہ انہوںنے اس معنویت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جو آج کی زندگی اور معاشرے کی دین ہے۔ مثال کے طورپر ان کا افسانہ ’آخری آدمی‘ قرآن اور توریت میں بیان کی گئی روایت کی بنیاد پر تخلیق کیاگیا ہے کہ ’یوم السبت‘ کی بے حرمتی کے نتیجے میں کس طرح حضرت موسیٰ کے بعض پیروؤں کو بندر بنادیاگیا۔‘
یہ مضمون ایسا ہے کہ جس کی تہہ میں اگر اترجائے اور اس کی توسیع کی جائے تو بہت سی نئی حقیقتوں کا عرفان ہوگا اور تخلیق کاروں کو بھی نئی زمینیں نصیب ہوں گی۔ اس طرح کے موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے کہ آج اس نہج پر سوچنے والوں کی بہت کمی ہے۔ وہاب قیصر کا مضمون بھی غالب شناسی میں ایک اضافہ ہے کہ انہوںنے غالب کے جگر کا ایک نیا معنیاتی زاویہ تلاش کیاہے اور سائنس کی روشنی میں غالب کے 37 اشعار کی تشریح کی ہے جو جگر سے متعلق ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’سائنس کی روشنی میں جگر کی حقیقت اور اس کے عوامل کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہ ہمارے اعضائے رئیسہ میں سے ایک ہے۔ یہ انسانی جسم میں کیمیائی توازن برقرار رکھنے کے لیے پانچ سو سے زیادہ امور انجام دیتا ہے۔ یہ غذا کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ اس کے خلیات (Cells) خون سے زہر کو الگ کرتے ہیں۔ یہ لوہا، وٹامنس اور دوسری ضروری کیمیائی اشیا کو محفوظ رکھتا ہے۔ ان گنت ہارمونس پیدا کرتا ہے۔ غذا میں استعمال ہونے والے کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں تبدیل کرتا ہے اور اس کو خود جگر میں اور دوسرے عضلات (Muscles) میں گلائیکوجن کی شکل میں محفوظ کرتا ہے تاکہ جسم کو توانائی کی ضرورت پیش آنے پر گلائیکوجن کو دوبارہ گلوکوز میں تبدیل کرکے اس کو فراہم کرسکے۔ کبھی کبھی جگر میں زخم ہوجانے پر خون میں گلوکوز کی مقدار گھٹ جاتی ہے جس کی پابجائی کے لیے ڈاکٹر انہیں مسلسل شکر دینے کی تلقین کرتے ہیں۔ مرزا غالب نے لفظ جگر کو اس کے مختلف معنوں میں اور اس کی ترکیبوں کو محاورے کے طورپر اپنے اشعار میں جگہ دی ہے۔ جن محاوروں کو انہوں نے استعمال کیا ہے، وہ محاورے خونِ جگر، زخمِ جگر، داغِ جگر، نشانِ جگر، پارۂ جگر، لختِ جگر، جگر پیٹنا، جگرداری، جگر تشنۂ فریاد، جگر تشنۂ ناز اور جگر تشنۂ آزار ہیں۔ انہوں نے لفظ جگر کو اپنی نثر میں بھی محاورے کے طورپر استعمال کیا ہے۔‘
مضمون پڑھنے کے بعد ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ نصابی نقادوں نے تفہیمِ غالب کے اس سائنسی طریقۂ کار کے بارے میں شاید ہی کبھی سوچا ہوگا کہ ان کی سوچ نہایت محدود اور ناقص ہوتی ہے۔ شمیم طارق اور وہاب قیصر کے علاوہ بھی کچھ اہم مضامین نئی کتاب میں شامل ہیں جو بعض قاری کے لیے کشش کا باعث ہوسکتے ہیں۔ شعری اور افسانوی حصہ بھی ٹھیک ہے۔ تبصرے اور تجزیے بھی خوب ہیں۔ خاص طورپر محمود شیخ کا خط تو ایسا ہے جو آج کی بہت سی تحریروں پر بھاری ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’اردو زبان وادب پر پروفیسری اور عہدہ پروری حاوی ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جنہیں اکیڈمک ویژن کے باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔‘ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ بیشتر دانش گاہی ادیب ایک مخصوص حصار میں قید ہوتے ہیں، اس سے باہر ان کے لیے کوئی دنیا نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کا فکری دائرہ نہایت تنگ ہوتا ہے۔ شاہد علی خاں کی ’نئی کتاب‘ میں مجلس مشاورت اور ادارت کی ایک لمبی چوڑی فوج ہے مگر اس کے باوجود جامعاتی مضامین کی کثرت اور معیاری اور مستند مضامین کا نہ ملنا ایک بہت بڑا المیہ ہے اور یہ صرف نئی کتاب کا نہیں ہررسالے کا المیہ ہے۔ جوش ملیح آبادی نے رسالہ کلیم کی اشاعت اسی لیے بند کردی تھی مگر آج کے مدیران جوش کی تقلید نہیں کرسکتے کہ اس تیرہ بخت فضا میں تھوڑی سی روشنی تو چاہیے۔ اسعد بدایونی کا ایک اچھا شعر ہے:
سبھی کے اپنے مسائل ہیں،اپنی تدبیریں
کوئی چراغ جلاتا کوئی بجھاتا ہے
شاہد علی خان نے نئی کتاب کی شکل میں جو چراغ جلایا ہے، خدا کرے یہ چراغ جلتا رہے کہ تاریکی میں تھوڑی سی کمی تو ہوگی۔ یہ اور بات کہ کبھی کبھی چراغوں سے بھی تیرگی پھیلتی ہے۔ شاہد علی خان نے ماہنامہ کتاب نما سے جو اپنا ادارتی سفر شروع کیا تھا، وہ سفر جاری ہے۔ ایک کتاب سے رشتہ ٹوٹا تو دوسری کتاب سے جڑ گیا اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کتاب نما والے شاہد علی خان نئی کتاب میں بھی انفرادی آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان پر جمود طاری نہیں ہوا جبکہ آج کے ادب پر یہی تو ایک شے ہے، جو حاوی ہے۔
یہ رسالہ اب بند ہوچکا ہے مگر نئی کتاب پبلی کیشن اب بھی قائم ہے کہ شاہد صاحب کی تنہائی کا یہی ایک سہارا ہے۔ عمر کے اس مرحلے میں جب تنہائیاں ستاتی ہیں تو ایسی ہی مشغولیت انسان کا مداوا ثابت ہوتی ہے۔ شاہد صاحب مجلسی آدمی ہیں اس لیے کاروبار میں تمام تر زیاں کے باوجود یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل وہ اس کے ذریعہ اپنے ماضی کا تسلسل قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ جب کہ اس عمر میں لوگ ماضی سے تمام رشتے توڑکر ایک گوشۂ عافیت میں قید رہنا چاہتے ہیں لیکن شاہد صاحب کو شاید کبھی اس طرح کی قید تنہائی پسند نہیں آئی۔ شاہد صاحب اس قید تنہائی کو کیسے برداشت کرپائیں گے جو ہر انسان کا مقدر ہے۔ وہاں تو وہ کتابیں بھی نہیں ہوں گی جو تنہائی کی بہترین رفیق ہیں۔
جو زندگی کتابوں کے درمیان گزری ہو، وہ کتابوں کے بغیر کتنی بے معنی، بے کیف ہوگی۔ شاہد علی خا ں صاحبِ کتاب نہیں ہیں مگر کتنی کتابوں پر ان کی محبتوں اور محنتوں کے دستخط ہیں، اس سے اب کتنے لوگ واقف ہیں، مجھے مکتبہ جامعہ کی اکثر کتابوں پر ان ہی کی محبتوں کا عنوان نظر آتا ہے۔