محبت اندروں کا سلسلہ ہے ـ سیماب ظفر

یہ دل سے آپ اپنا رابطہ ہے
محبت اندروں کا سلسلہ ہے

کسی شیریں زباں کا شعبدہ ہے
مرے بارے تمہیں جو وسوسہ ہے

مرے موقف کی سنوائی نہ ہو گی
محبت میں ہزیمت طے شدہ ہے

کمائی ہے وہ میری زندگی کی
تمہارے واسطے جو مسئلہ ہے

مری چوکھٹ پہ دستک دینے والے
مجھے اس اجنبیت کا گلہ ہے

مجھے الجھائے رکھنا مخمصوں میں
مرے بیدادگر کا یہ مشغلہ ہے

ہمہیں ان خال و خد میں تم ملو گے
مرا چہرہ تمہارا آئینہ ہے

یہ میری شاعری اپنی نہیں ہے
کسی کی ان کہی کا ترجمہ ہے

یہ کس ساحر کا مصرعہ آج چکھا!
زباں پر کیا نرالا ذائقہ ہے!

دمِ رخصت پکارا تھا کسی کو
مری آواز تب سے لاپتہ ہے

مری مٹھی سے پھسلا ایک لمحہ
کئی صدیوں پہ پھیلا حادثہ ہے

اور اب ہم رات کو روتے نہیں ہیں
یہ تبدیلی نہیں، اک سانحہ ہے

یہیں اک روز ہم تم پھر ملیں گے
یہاں اس راہ میں اک دائرہ ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*