محبت اب غزل گانے لگی ہے ـ گل حوریہ

سُروں سے مجھکو ملوانے لگی ہے
محبت اب غزل گانے لگی ہے

کروں گی خیر مقدم خود میں جا کر
اُداسی میرے گھر آنے لگی ہے

جو ہر اِک بات پر ہنستی تھی کھل کر
وہ لڑکی خود سے شرمانے لگی ہے

یہ سنتے ہیں صبا زخمی گلوں کو
نئے ملبوس پہنانے لگی ہے

میں اپنی نیند کی ممنون ہوں یہ
مجھےخوابوں میں ٹھہرانے لگی ہے

پرانے دوستو تم کس جگہ ہو ؟
جُدائی اب مجھے کھانے لگی ہے

گُل اُمید کی خوشبو بدن میں
کبھی آنے کبھی جانے لگی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*