مغل طرز ِتعمیرکے امتیازات و خصوصیات-غوث سیوانی

امریکی قصر صدارت وائٹ ہائوس ہو یا انگلینڈ کی رانی کا محل، عرب کے بادشاہوں کے شاہی محلات ہوں یا یوروپ کے حکمرانوں کی تعمیرات،آپ کو ایک بھی ایسی عمارت نہیں ملے گی جو مغل طرز تعمیرکی جھلک سے باالکل خالی ہو۔ اصل میں ’’ہند۔ اسلامی‘‘ طرزتعمیر کی مغل دور میں خوب ترقی ہوئی ۔ مغلوں نے اس میں نئے نئے تجربے کئے اور ان کے حسن ونزاکت کے سبب دنیابھر میں انھیں شہرت حاصل ہوئی۔ مغل طرز تعمیر میں فارس، ترکی، وسطی ایشیا، گجرات، بنگال، جونپوراور جنوبی ہند کی طرز تعمیر کومرکب شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔اسی کا نام مغل طرز تعمیر ہے۔ ماہر تعمیرات پیرسی براؤن نے ہندوستانی فن تعمیر کا موسم بہارمغل دور کو قراردیا ہے، جب کہ ساری دنیا کی طرز تعمیر پر تبصرہ کرنے والے ا سمتھ نے مغل فن تعمیر کو آرٹ کی رانی کا نام دیاہے۔ مغلوں نے بڑے بڑے محلات،باغات، قلعے ، دروازے، مساجد ومقبرے وغیرہ تعمیر کرائے۔انھوں نے ایسے باغ بنوائے جن میں جھرنے اور چشمے تھے۔انھوں نے محلوں اور دیگر عیش و آرام والی عمارتوں میں بہتے پانی کی نہریں جاری کیں جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔
مغلوں کی ابتدائی تعمیرات
بابر پہلا مغل بادشاہ تھا جس نے بھارت میں اپنے مختصر دور حکومت میں فن تعمیر میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی تھی مگر اسے تعمیرات کا موقع نہیں ملا۔اس کے بعد ہمایوں تخت نشیں ہوا۔ ہمایوں کے دور کے سیاسی حالات کچھ ایسے تھے کہ وہ زیادہ کچھ تعمیر نہیں کراپایا۔ 1533 ء میں، ا س نے ’’دین پناہ‘‘ نامی شہر کی بنیاد رکھی جو اب ’پرانا قلعہ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس میں شیرشاہ سوری نے بھی تعمیرات کرائیں جن میں کچھ انفرادیت ہے۔ اس کے علاوہ، ہمایوں کی تعمیر کردہ دو مساجد،کا ذکر ملتا ہے جو 1540 ء میں فتح آباد میں تعمیر کی گئی تھیں۔ یہ فارسی طرز میں بنائی گئی تھیں۔
مغل تعمیرات کی خصوصیات
مغل عہد کی تعمیرات کی ابتدا فتح پور سیکری سے ہوتی ہے اور ان کا نکتہ عروج شاہ جہاں کے عہد میں دکھائی دیتا ہے۔ہند اسلامی طرز تعمیر کا آغاز اگرچہ عہد سلطنت میں مسجد قوت الاسلام، قطب مینار، ڈھائی دن کا چھونپڑا جیسی عمارتوں سے ہوچکا تھا اور اس کے بعد کئی قلعے بنے تھے ،جن میں شاندار عمارتیں تعمیر کرائی گئی تھیں مگر یکسانیت، جاذبیت کا جو حسین امتزاج مغل عہد کی عمارتوں میں دیکھنے کو ملا وہ پہلے نہیں ملا تھا۔ مغل دور میں فن تعمیر کے میدان میں پہلی بار سائز اور ڈیزائن کا مختلف انداز میں استعمال ملتا ہے۔ سجاوٹ کے لئے سنگ مرمر پرنقش ونگار اس دور کی خصوصیت ہے ۔اس دور میں رنگ برنگی پھول پتیوں کا بھی بے حد دلکش استعمال کیا گیا ہے۔ اس دور میں تعمیر گنبد اور ٹاورز کو ’’کلش‘‘ کے ساتھ سجانے کا رواج بھی چلا۔ اس دور کی تعمیرات میں اکبر کا مقبرہ ،ہمایوں کا مقبرہ، نورجہاں وجہانگیر کے مقبرے( لاہور، پاکستان)، تاج محل، اعتمادالدولہ کا مقبرہ، اورنگزیب کا مقبرہ (اورنگ آباد) ، فتح پور سیکری اور اس کے محلات،آگرہ کا قلعہ اور اس کی عمارتیں، دہلی کا لال قلعہ اور اس کی عمارتیں، دلی کی جامع مسجد، گھٹا مسجد،فتح پوری مسجد وغیرہ خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ہزاروں عمارتیں مغل عہد میں تعمیر ہوئیں جن میں سے کچھ کو بادشاہوں نے بنوایا تو کچھ کی تعمیر شاہی خاندان کے افراد، امراء وروساء نے کرائیں۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں اب باقی نہیں ہیں مگر جو باقی ہیں، وہ مغلوں کے ذوق تعمیر کی داستان بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔
اکبر کا ذوق تعمیر
شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی تعمیرات کو ان کی، ہندو،مسلم مخلوط طرز تعمیر کے لئے جانا جاتا ہے۔ ابوالفضل نے اکبر کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’شہنشاہ خوبصورت عمارتوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے اور اپنے دماغ اور دل کے خیالات کے ساتھ پتھر اور گارے کو شکل دے دیتا ہے۔‘‘ اکبر پہلا مغل شہنشاہ تھا، جو بڑے پیمانے پر تعمیر کرنے کے لئے وقت اور وسائل رکھتا تھا۔ اس نے بہت سے قلعے بنوائے، جن میں سب سے مشہور آگرہ کا قلعہ ہے۔ سرخ پتھر سے بنے ،اس قلعے میں بہت سے بڑے بڑے دروازے ہیں۔
1572میں اکبر نے آگرہ سے 36 کلومیٹر دور فتح پور سیکری میں قلعہ نما محل کی تعمیر شروع کرائی۔ یہ آٹھ برسوں میں مکمل ہوا۔ پہاڑی پر آباد ،اس محل میں ایک بڑی مصنوعی جھیل بھی تھی۔ اس کے علاوہ اس میں گجرات اور بنگال کے انداز میں بنی کئی عمارتیں تھیں۔ ان میں گہری گپھائوںاور چھتریوں کے علاوہ جھروکھے بھی تھے، جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں۔ہواخوری کے لئے بنائے گئے پنچ محل میں شاندار ستون نظر آتے ہیں جو چھت کو سہارا دیتے ہیں۔ ان کا انداز مندروں کے ستونوں جیسا ہے۔رانیوں کے لئے بنے محلوں میں گجرات اسٹائل دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح کی عمارتوں کی تعمیر آگرہ کے قلعے میں بھی ہوئی تھی۔ اگرچہ ان میں سے کچھ ہی بچی ہیں۔ فتح پور سیکری کی تعمیرات میں سب سے زیادہ بااثر وہاں کی مسجد اور بلند دروازہ ہے جو اکبر نے اپنی گجرات فتح کی یادگار کے طور پر بنوایا تھا۔ دروازہ نصف گنبد کے انداز میں بنا ہوا ہے۔گنبد کا آدھا حصہ دروازے کے باہر والے حصے کے اوپر ہے اور اس کے پیچھے چھوٹے چھوٹے دروازے ہیں۔ یہ انداز ایران سے لیا گیاہے۔ یہیں حضرت سلیم چشتی کی مزار بھی ہے جو سنگ مرمر کی نفیس جالیوں سے مزین ہے۔
اکبر، آگرہ اور فتح پور سیکری دونوں جگہوں کے کام میں دلچسپی لیتا تھا۔دیواروں اور چھتوں کی زینت بڑھانے کے لئے استعمال کئے گئے روشن، نیلے پتھروں میں ایران یا وسط ایشیا کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اکبر کے دور حکومت کے آغاز میں دہلی میں تعمیر ہمایوں کا مقبرہ شاندار ہے، جس میںسنگ مرمر کا بہت بڑا گنبد ہے۔ اسے تاج محل کامقدمہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک خاصیت دو گنبدوں کا استعمال ہے۔ اس میں ایک بڑے گنبد کے اندر ایک چھوٹا گنبد بھی بنا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں آس پاس باغات بھی ہیں۔ اس کی تعمیر اکبر کی ماں حاجی بیگم نے کرائی تھی۔
جہانگیر کے دور کی عمارتیں
جہانگیر کے دور حکومت کے آخر تک ایسی عمارتوں کی تعمیر کا آغاز ہو گیا تھا، جو مکمل طور پرماربل سے بنتی تھیں اور جن کی دیواروں پر قیمتی پتھروں پرنقاشی کی جاتی تھی۔ یہ انداز، شاہ جہاں کے وقت میںاور بھی مقبول ہو گیا تھا۔ شاہ جہاں نے اسے تاج محل کی تعمیر میںبھی استعمال کیا۔جہانگیر نے تعمیر کے میدان میں بہت دلچسپی نہیں دکھائی ۔ اس نے باغبانی اور پینٹنگ کو زیادہ اہمیت دی۔ جہانگیر کے کچھ اہم تعمیراتی کاموں میں ایک سکندرہ( آگرہ) میں واقع اکبر کا مقبرہ ہے جس کا منصوبہ خود اکبر نے بنایا تھا، لیکن 1612 ء میں،اسے جہانگیر نے مکمل کرایا۔یہ عمارت بنیاد سے مینار تک پانچ منزلہ لگتی ہے۔مقبرے کے دروازے کو سرخ وسفید پتھروں سے بنا یا گیا ہے۔ اسی دور میں اعتمادالدولہ کا مقبرہ بھی تعمیرہوا جسے جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے بنوایا تھا۔ یہ ایک خوبصورت اور بے مثل وبے مثال عمارت ہے۔ اس کے علاوہ جہانگیر کے عہد میں عبدالرحیم خانخاناں کے مقبرے کی تعمیر بھی ہوئی جو ایرانی انداز میں ہے۔ یہ دلی کے نظام الدین علاقے میں واقع ہے۔ جہانگیر کے دور میں کشمیر میں بھی کچھ شاندار تعمیرات ہوئیں جن میں ملکہ نورجہاں کی خاص دلچسپی شامل تھی۔
فن تعمیر کا سنہرا دور
شاہ جہاں کے دور حکومت میں مسجدوں کی تعمیر کا فن بھی اپنے عروج پر تھا۔اس دور کی دو سب سے خوبصورت مساجد ہیں، آگرہ قلعے کی موتی مسجد، جو تاج کی طرح مکمل سنگ مرمر کی بنی ہے اور دہلی کی جامع مسجد، جو سرخ پتھر کی ہے۔ جامع مسجد کی خصوصیات میںاس کے بہت بڑے بڑے دروازے اور گنبد ہیں۔شاہجہان کے دور حکومت کو تعمیراتی لحاظ سے سنہرا دور کہا جاتا ہے، جب عجائب روزگار تاج محل تعمیر ہوا۔ اس کے علاوہ آگرہ کے قلعے کے اندر کئی شاندار عمارتیں بنوائی گئیں نیزدلی کے لال قلعے میںعالی شان محلات اور مکانوں کوبنایا گیا۔شاہجہاں کے دور میں جو بھی عمارتیں بنوائی گئیں، ان میں سنگ مرمر کا انتہائی نفاست کے ساتھ استعمال کیا گیا۔دلی کی جامع مسجد، لال قلعے کا دیوان عام، دیوان خاص،مثمن برج،ساون بھادوں،شیش محل، انگوری باغ وغیرہ آج بھی باقی ہیں اوراپنے بانی کے ذوق تعمیر کی گواہی دے رہے ہیں۔
مغلوں کا آخری دور
اورنگزیب نے بہت زیادہ عمارتوں کی تعمیر نہیں کرائی، تاہم ہندو، ترک اور ایرانی طرز کے اختلاط کی بنیاد پرمغل فن تعمیر کی روایت کو آگے بڑھایا۔اسی طرح مغل تعمیری روایت نے کئی علاقائی راجائوں،نوابوں، جاگیرداروں کے قلعوں اور محلوں کی طرز تعمیر کو متاثر کیا۔ امرتسر میں سکھوں کا گولڈن ٹمپل بھی گنبد اور محراب کے اصول پر تعمیر ہوا ہے اور اس میں مغل فن تعمیر کی روایت کی کئی خصوصیات، استعمال میں لائی گئیں۔ راجستھان کے قلعوں اور محلوں میں بھی مغلوں کی طرز تعمیر کی واضح جھلک آپ کو مل جائیگی۔ کشمیر سے حیدرآباد تک، لکھنو سے احمدآباد تک ، بنگال سے فیض آباد اور لاہور سے مرشدآباد تک جتنی بھی عالیشان تعمیرات بعد کے دور میںوجود میں آئیں، ان میں مغلوں کا اثر ضرور دکھائی دیتا ہے۔حالانکہ بعد کے دور میں ان تعمیرات نے یوروپ وامریکہ کے ماہرین فن کو اپنی جانب متوجہ کیا اور انھوں نے جو بھی عمارتیں بنائیں،ان میں مغلوں کی طرز تعمیر کی جھلکیاںموجود ہیں۔ بھارت کی پارلیمنٹ ہویاراشٹرپتی بھون ہرجگہ آپ کومغل طرزتعمیر نظرآئے گی۔ یہاں تک کہ حالیہ تعمیر اکشردھام مندر (نئی دہلی) تک میں آپ کو مغل انداز کہیں نہ کہیں ضرور دکھ جائے گا۔اسی طرح پاکستان کی بھی نئی اور پرانی عالیشان عمارتوں میں یہ طرزموجودہے۔ عرب بادشاہوں کا شاید ہی کوئی محل ہوجو مغل اسٹائل سے پوری طرح خالی ہو۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*