Home تجزیہ مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری اور کچھ اہم سوالات- سعید حمید

مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری اور کچھ اہم سوالات- سعید حمید

by قندیل

مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری پورے ملک میں بحث و مباحثہ کا سبب بن گئی ہے ، اور آج بھی میڈیا و سوشل میڈیا میں اس پر گرما گرم بحث جاری ہے ۔ جس نوعیت کی ویڈیو کلپ مفتی سلمان ازہری کی سامنے آئی ہے جس پر پورے ملک میں واویلا کھڑا کیا گیا اور جس کے بعد کل گھاٹ کوپر میں اے ٹی ایس ، گجرات پولس اور ممبئی پولس کے زبردست جم غفیر کو لیکر مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری عمل میں آئی ، وہ سب ایک سرکاری ڈرامہ اور پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ پر کیا ہوا ایکشن ہے ۔ اس کا مقصد شاید یہ ہے کہ مسلمانوں کی آواز اٹھانے کی اگر کوئی ذرا بھی کوشش کرے ، چاہے وہ مذہبی شخصیت ہی کیوں نہ ہو ، تو اسے دہشت زدہ اور خوفزدہ کیا جائے ،ورنہ کیا بات ہے کہ تعزیرات ہند دفعہ ۱۵۳ (۱لف ) ، ۵۰۵  وغیرہ میں درج کیس کی کارروائی گجرات اے ٹی ایس کو سونپی گئی ؟ تعزیرات ہند کی دفعہ میں درج ایف آئی آر کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ عام اور معمولی نوعیت کا کیس ہے ، دہشت گردی کا معاملہ نہیں ورنہ یہ کیس یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت درج کیا جاتا ۔ تو پھر ا س معاملے کو کارروائی کےلیے اے ٹی ایس کے سپرد کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ بظاہر یہ معاملہ اے ٹی ایس کے اختیار کا نہیں ہے ۔ دوم ، جس ویڈیو کلپ کو شکایت کےلیے بنیاد بنایا گیا ہے ، اس کے مشاہدے سے بھی یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مفتی سلمان ازہری نے حالات حاضرہ کے تناظر یا پس منظر میں ایک عام بات کہی تھی ۔ اس میں دو فرقوں کے درمیان کشیدگی یا ٹکراؤ پیدا کرنے والی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے ۔ مفتی سلمان ازہری کے بیان میں کسی دھرم یا طبقہ کی مخالفت کا کوئی بیان بھی نہیں ہے اور مقرر نے اپنے فن خطابت کا سہارا لیکر ایک عام بات کہی ، اسے دو فرقوں میں منافرت اور کشیدگی پیدا کرنے کا جرم ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا ، اس لیے اس کیس میں تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳ (الف) (ب) کا اطلاق غلط طریقے سے کیا گیا ہے ۔ یہ سرکاری اختیارات کا بیجا استعمال ہے ۔مفتی سلمان ازہری کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۵۰۵ کا بھی اطلاق کیا گیا ہے ۔ یہ دفعہ کسی بھی طبقہ یا گروہ یا افراد کو کسی دوسرے کے خلاف مشتعل کرنے کی حرکت پر سزا کی دفعہ ہے ، اس کے لیے تین سال کی سزا اور جرمانہ یا دونوں عائد کیے جاسکتے ہیں ۔ قانون کی نظر میں یہ دفعہ بھی معمولی نوعیت کی ہے اور جس طرح مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری کا ڈرامہ رچا گیا اس سے تو یوں محسوس ہوتا ہے یا میڈیا ، سوشل میڈیا میں یہ تاثر پیش کیا گیا گویا ملزم کے خلاف بہت ہی سنگین جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ عدالت میں اور ٹرائل میں یہ سارے الزامات ٹک نہیں پائیں گے اور اوندھے منہ گر پڑیں گے لیکن لگتا ہے کہ سرکار اور پولس کا مقصد بھی ٹرائل نہیں ہے ، بلکہ میڈیا ٹرائل ہے اور عدالت میں چاہے اس کیس کا جو حشر ہو ، اس واقعہ کو میڈیا ٹرائل کے لیے استعمال کیا گیا اور مزید استعمال کیا جائے گا ۔

مفتی سلمان ازہری پر ایک الزام دفعہ ۱۸۸ کے تحت عائد کیا گیا ہے ، وہ بھی معمولی نوعیت کا ہے اور اس الزام میں کہا گیا ہے کہ ایک بااختیار پولس افسر نے ان کو احکامات جاری کیے تھے ، اس کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی ۔ ایک دفعہ ۱۱۴ بھی عائد کی گئی ہے ، جس کا مقصد شاید ایف آئی آر میں دفعات کی تعداد میں اضافہ کرنا تھا ، اس دفعہ کے تحت ملزم کو اکسانے کی کوشش کرنے والے شخص پر بھی اس کیس کا اطلاق ہوگا ، چاہے وہ واردات کے ٹھکانے پر موجود رہا ہو یا نہ رہا ہو ۔ اس نوعیت کی دفعات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر پولس بعد میں دو چار دس مزید لوگوں کو اس کیس میں ٹھونس سکے تو ٹھونس دینے کی گنجائش بر قرار رہے۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ دفعہ بھی معمولی نوعیت کی ہے ، لیکن اس کیس کو جس طریقے سے ہینڈل کیا گیا، وہ غیر معمولی ہے ، اس لیے یہ بات بھی سمجھنا ہو گا کہ اس گرفتاری کے پس پشت حقیقی مقصد کیا ہے ؟ اس گرفتاری کا وقت ہمیں ایک سراغ دیتا ہے کہ یہ گرفتاری ایسے وقت میں انجام دی گئی جبکہ گیان واپی مسجد کے متعلق ایک ریٹائر ہونے والے جج نے اپنے آخری دن ایسا متنازعہ فیصلہ سنایا کہ سارے علمائے کرام احتجاج کا پیکر بن چکے ہیں۔ پورے ملک میں بے چینی ہے اور پہلی مرتبہ ایسا بھی ہو رہا ہے کہ مسلم مذہبی قیادت کھل کر عدالت کے فیصلہ پر تنقید کر رہی ہے ۔

کیا مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری کسی قسم کا پیغام ہے کہ چاہے ظلم کا سلسلہ کتنا ہی دراز ہو جائے ، علمائے کرام اپنی زبان بند رکھیں ؟ حالانکہ یقین کے ساتھ یہ بات نہیں کہی جا سکتی لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری ایک پیغام ہے کہ جرات مند علمائے کرام کے حوالے سے سرکاری ارادے ٹھیک نہیں ہیں ۔ورنہ  مفتی سلمان ازہری پر جو الزام عائد کیا جا رہا ہے ، اس سے کہیں زیادہ سنگین جرم میرا روڈ کی بی جے پی ایم ایل اے گیتا جین ، کوکن کے بی جے پی ایم ایل اے نتیش نارائن رانے ، حیدر آباد کے ایم ایل اے راجہ سنگھ ، سدرشن ٹی وی کے چیف ایڈیٹر سریش چوانکے ، نفرت وادی صحافی نوپور شرما اور بے شمار دیگر افراد نے کیا ہے لیکن کیا ایف آ ئی آر درج ہو نے اور عدالتوں کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ایکشن ہوا ؟ سریش چوانکے پر تو اٹھارہ سو ایف آئی آر ہیں ۔ راجہ سنگھ پر درجنوں کیس ہیں ، لیکن ان کو مہاراشٹر میں داخل ہونے یا تقریر کرنے سے بھی نہیں روکا جا رہا ہے، گرفتاری تو بہت دور کی بات ہے ۔کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن کے دور میں سیاسی مفادات کے مدنظر فوجداری نظام انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔مختصرا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفتی سلمان ازہری کی گرفتاری آنے والے حالات کے مدنظر مسلم مذہبی قیادت کی جرات اور حوصلوں کو ٹٹولنے کی کوشش ہے ۔ یہ ساری مسلم قیادت اور خاص طور پر مسلم مذہبی قیادت کے لیے ایک چیلنج بھی ہے ، کسی فرد واحد کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، اس لیے اس معاملے میں غور و خوض ، حکمت عملی اور لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے اجتماعی اقدام و کارروائی کی ضرورت ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like