مفتی سعید صاحب کیوں مشہور ہوئے؟توصیف القاسمی

مفتی سعیداحمد پالنپوری (وفات 19/ مئی 2020 مطابق 25/ رمضان1441 بروز منگل) دارالعلوم دیوبند کے ایک سینئر ترین اور قابل ترین استاد تھے؛ جو اب اللہ کو پیارے ہوگئے شہرت کو نہ چاہتے ہوئے بھی مشہور ہو جانا، حدیث کی رو سے مومن کو جلد ملنے والے بشارت ہے۔مفتی سعید صاحب پالن پوری بھی اس بشارت کے حاملین میں سے ایک ہیں۔ہم اپنے اس مضمون میں مفتی صاحب کی "وجوہ شہرت” سے بحث کریں گے۔
مفتی سعید صاحب پالن پوری کی تاریخ پیدائش ، ابتدائی وانتہائی تعلیم و تربیت ، اساتذہ کرام، تصنیف وتالیف وغیرہ قسم کی چیزیں، اکثر و بیشتر سوانح نگار بتلا رہے ہیں اس لئے ان چیزوں سے ہم دانستہ صرف نظر کریں گے۔
مفتی سعید صاحب پالنپوری انتہائی محنتی استاد تھے ،ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے 46 کے قریب شروح و کتب تحریر فرمائیں، جن میں تفسیر "ہدایت القرآن” اور حجۃ اللہ البالغہ کی شرح "رحمۃ اللہ الواسعہ” جیسی کتابیں شامل ہیں۔افتاء سے فراغت کے بعد مفتی صاحب نے حفظ قرآن پاک کیا،اس عمر میں حفظ قرآن پاک کرنا ایک مشکل ترین کام ہے،انگلش زبان کی کہاوت ہے Old perrot can’t be taught یعنی بوڑھے طوطے کو سکھایا نہیں جا سکتا،مگر مفتی صاحب نے یہ کام کر دکھایا۔ مفتی صاحب مرحوم نے 2010 میں دوران درس خود بتلایا کہ میں انگلش زبان و ادب سیکھ رہا ہوں؛ یعنی "سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی”مفتی صاحب اس مقولہ کی صحیح تفسیر تھے۔مزید یہ کہ معاشی بہتری کے لیے مفتی صاحب نے اپنا "مکتبہ حجاز” بھی قائم کیا،جوکہ نشر واشاعت کی دنیامیں ایک معیاری نام ہے۔
مفتی صاحب مرحوم کی "وجوہ شہرت” میں جہاں ان کا علمی فضل و کمال تھا؛ اسی کے ساتھ ساتھ ان کا "ملکہ افہام و تفہیم” بھی ایک اہم اور قابل قدر ملکہ سمجھا جاتا ہے۔اپنے مافی الضمیر کو سمجھانے میں مفتی صاحب طاق تھے۔ ان کے درس کی مقبولیت اسی لیے تھی کہ وہ احادیث کے معنی ومفہوم کو طلباء کی ذہنی سطح تک لےآنے کا ہنر جانتے تھے، ان کے درس کے شوقین طلباء کی زبانوں پر یہ مقولہ رہا کرتا تھا کہ ‘مفتی صاحب کے درس میں بیٹھ کر نہ معلوم کب کب کے سوالات واشکالات رفع دفع ہو جاتے ہیں’۔
آیات واحادیث کو صحیح پس منظر میں نہ رکھ کر "ذاتی خیالات و تصورات” کی ترجمانی میں فٹ کر دینے سے بہت سی غلطیاں اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں۔ مگر مفتی صاحب اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ آیات واحادیث کو صحیح پس منظر میں رکھ کر منشآ نبوی کے عین مطابق نتائج نکالے جائیں۔ ماشاءاللہ مفتی صاحب اس کام کے بڑے ماہر تھے، مفتی صاحب "آیات و احادیث” کے صحیح معنی و مفہوم کے لیے بڑےسے بڑے عالم دین پر بھی سخت تنقید کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔
بہت سی ایسی باتیں جو کہیں نہیں ملتی تھی،وہ مفتی صاحب کے سبق میں مل جایا کرتی تھیں۔ مثلا عام طور سے مشہور ہے کہ شیطان، فرشتوں کا استاد تھا؛مگر مفتی صاحب مرحوم بتلاتے تھے کہ بھائی یہ لفظ "معلم الملائکہ” بفتح اللام تھا۔ مگر کسی نے اس کو معلم "بکسراللام” پڑھ دیا اور بس یہ "نالایق” فرشتوں کا استاد مشہور ہوگیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ "فرشتوں کا سکھایا ہوا” اس کا ترجمہ ہونا چاہیے تھا۔ بہت سی ایسی غلط باتیں جن کے خلاف بولنا بہت مشکل کام تھا، مفتی صاحب بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ مدلل زبان میں ان چیزوں کو واضح کردیتے تھے،مثلا عام طور سے مشہور ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا۔ مفتی صاحب اس جملے کی بڑی پر مغز اور بامعنی تفسیر کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ جن چیزوں میں اجتہاد ہوچکا، یا جن مسائل میں امت کے اندر اختلافات، بحث ومباحثے ہوچکے اب ان میں مزید اجتہاد نہ کیا جائے،ان کو علی حالہ رہنے دیا جائے۔ یعنی "گڑے مردے نہ اکھیڑے جائیں”۔ہاں پیش آمدہ نئے مسائل پر اجتہاد کا دروازہ قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر اجتہاد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو دین اسلام قیامت تک کے لئے کیسے راہنما ثابت ہوگا ؟
مسلک دیوبند کی وہ "روح” جس کی نسبت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی طرف کی جاتی ہے، اس روح کے زخمی ہو جانے یا اس روح کے بدل جانے کا مفتی صاحب کو بڑا صدمہ اور بڑا حزن و ملال تھا، مفتی صاحب اپنے اس حزن و ملال کے اظہار کے لئے ایک لفظ بار بار استعمال کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ "سارے دیوبندی، بریلویوں کی گود میں جا کر کے بیٹھ گئے”اور یہ حقیقت بھی ہے کہ گزشتہ تقریبا چالیس سالوں میں مسلک دیوبند کے حاملین کی سوچ و فکر کا جو انداز ہے وہ بہت کچھ بدل چکا ہے۔یعنی اکابر پرستی، شخصیت پرستی، مسلک پرستی میں مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
دیوبند میں قائم "مزار قاسمی” کے بارے میں طلبہ و عوام کے اندر بے سرپیر کی باتیں رائج ہیں اور ایک پراسرار سی عقیدت پائی جاتی ہے۔مفتی صاحب مرحوم اس قسم کی طلسماتی اور پراسرار عقیدت کے سخت خلاف تھے اور دوران درس ہی ان چیزوں پر سخت تنقید کرتے تھے۔تصوف اور پیری مریدی کی وہ صورتحال جو اج کل "تسبیح و نوافل”اور "کاروبار”سے عبارت ہے، اس مصنوعی تصوف کے سخت خلاف تھے۔بار بار کہتے تھے کہ بزرگوں کے 75 فیصد کرامات کے واقعات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ 25 فیصد ہم تک صحیح طرح سے ،بعینہ شکل میں نہیں پہنچے،کہتے تھے کہ بیعت کی دوقسمیں ہیں
1 بیعت ارشاد 2 بیعت ایمان بیان ایمان کے جو دلائل ہیں لوگ انہی کو بیعت ارشاد پر فٹ کر دیتے ہیں۔
ہمارے زمانہ طالب علمی میں مفتی صاحب نے حدیث اور سنت میں فرق کرنے والی بحث چھیڑی،مفتی صاحب کی یہی بحث انکی کتاب "علمی خطبات” کے اندر بھی ہے۔ اس بات پر دارالعلوم دیوبند کی علمی فضا میں سخت اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔اور اپنے اپنے موقف پر رسالے چھپ چکے تھے تھے۔حدیث اور سنت میں فرق کے تعلق سے مفتی صاحب مرحوم کا جو موقف تھا؛ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن آج بھی وہ میرے ذہن و دماغ کا حصہ ہے آج بھی مفتی صاحب کی بیان کردہ تصریح و وضاحت مجھے پسند آتی ہے۔
زمانۂ طالب علمی سے ہی راقم کی سوچ مفتی صاحب کے بارے میں یہ بن چکی تھی کہ مفتی صاحب اکابر پرستی، شخصیت پرستی اور مسلک پرستی کے سخت ترین خول کو توڑنا چاہتے ہیں۔اور اس کو انتہائی نرم و معتدل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شاید اکیلے ان کے بس میں یہ چیز نہیں تھی۔لیکن پھر بھی جتنا ان سے ہوسکتا تھا انہوں نے کیا۔ اللہ تعالی ان کی اس کوشش کو قبول فرمائے۔مفتی صاحب بہت طویل زمانے سے سے دورہ حدیث کی کتابیں پڑھا رہے تھے خود راقم نے بھی انہیں سے بخاری شریف پڑھی اور راقم کے والد محترم مولانا محمد عرفان صاحب نے بھی انہی سے حدیث کی کتابیں پڑھیں۔اس طرح سے مفتی صاحب دونوں نسلوں کی استاد ٹھہرے۔
آج مفتی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے، ہم ان کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں، اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائے اور ان کے علمی فیض کو پوری دنیا میں جاری و ساری فرمائے، اللہ تعالی ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)