مفتی سعید احمد پالنپوری اوشیوارہ قبرستان میں سپرد خاک

ممبئی:(نمائندہ خصوصی) دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین حضرت مفتی سعید احمد پالنپوری کا آج صبح تقریباً سات بجے سنجیونی اسپتال ملاڈ ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔مفتی صاحب کئی ماہ سے بیمار تھے گزشتہ روز ہی انہیں سینے کی تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل کیاگیا تھا لیکن افاقہ نہیں ہوا اور آج قضائے الہٰی سے تقریباً ۸۰ سال کی عمر میں حضرت کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔نماز جنازہ شام ساڑھے چار بجے کے قریب محراب مسجد وزیر کمپائونڈ چار راستہ گیٹ پر مفتی صاحب کے صاحبزادے حضرت مولانا احمد صاحب نے پڑھائی ۔پھر یہاں سے تدفین کے لیے جسد خاکی کو اوشیوارہ قبرستان جوگیشوری لایا گیا جہاں صرف اہل خانہ ہی شامل تھے پولس کی سخت سیکوریٹی کے درمیان مفتی صاحب کو سپرد لحد کیاگیا۔ شیخ الحدیث ؒ کے انتقال کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا کے توسط سے وائرل ہوئی پورے ملک اور بیرون ملک میں موجود حضرت الاستاذ کے شاگردوں اور متعلقین میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ملک بھر کے ہزاروں علماء و طلباء نے دعائے مغفرت کی۔ حضرت الاستاذ کے انتقال کو کبار علماء نے ایسا علمی خسارہ قرار دیا ہے جس کا قحط الرجال کے اس دور میں پر ہونا ناممکن سا ہے۔ شیخ الحدیث کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف ، مظاہرالعلوم، ندوۃ العلماء سمیت مولانا ارشد مدنی، مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی،ترجمان اہل السنہ مولانا الیاس گھمن، مولانا سفیان قاسمی، مولانا شبیر احمد قاسمی، مولانا محمود مدنی، قاری عثمان منصور پوری، مولانا حسن الہاشمی، شیخ الحدیث احمد خضر شاہ مسعودی، حافظ ندیم صدیقی، مولانا ندیم الواجدی، مولانا متین الحق اسامہ قاسمی، مولانا برہان الدین قاسمی، مولانا شمس الہدی قاسمی، مولانا سلمان حسینی ، ڈاکٹر شکیب قاسمی، ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی وغیرہ نے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے محبین ومتعلقین سے دعائے مغفرت کی اپیل کی ہے۔ مفتی سعید صاحب دارالعلوم میں تقریبا پچاس برسوں سے مدرس تھے انہوں نے طویل عرصے تک بخاری اور ترمذی شریف جیسی حدیث کی اہم کتابیں پڑھائیں، پوری دنیا میں ان کے تلامذہ مختلف جہتوں سے دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں عام طور پر تدریس کے پیشے سے وابستہ اہل علم تصنیف وتالیف کی طرف کم توجہ کرپاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو دوہری صلاحیت کا امتزاج بنایا تھا، انہوں نے اکثر اسلامی اور عربی علوم پر قلم اُٹھایا، بخاری شریف وترمذی شریف کی شرح لکھی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒکی مشہور ومعروف کتاب حجۃ اللہ البالغہ کی بھی اردو شرح لکھی جس پر دیوبند کی شوریٰ نے حضرت مفتی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ مفتی صاحب دارالعلوم دیوبند کے استاذ الاساتذہ تھے، ہزاروں تشنگان نے ان سے استفادہ کیا، ملک و بیرون ملک نے ان کے علمی فیوض سے فائدہ اٹھایا، انہوں نے علوم اسلامیہ کی بڑی قابل قدر خدمات انجام دیں، علم حدیث ان کا خاص موضوع تھا، ان کی وفات علمی حلقے کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ واقعہ ہے ۔ مفتی سعید احمد پالنپوری رحمۃ اللہ علیہ طلباء کے لیے بڑے ہی مشفق اور مہربان تھے، وہ دارالعلوم دیوبند کے ایک عظیم محدث تھے، مسندِ حدیث پر ان کا انوکھا انداز یادگار رہیگا،، انہیں ہمیشہ یاد کیاجائے گا، ان کا علمی سرمایہ ہمیشہ صدقۂ جاریہ رہیگا،وہ اپنے کردار میں قدماء اسلاف کی جیتی تصویر تھے، ان کی وفات کے ساتھ ہی بجا طورپر دارالعلوم دیوبند کی ایک اور تاریخ مکمل ہوگئی۔ مولانا سعید احمد پالنپوری کی پیدائش ۱۹۴۰میں پالنپور گجرات کی بستی کالیڑہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم آبائی وطن میں جب کہ ثانوی تعلیم مدرسہ سلم العلوم پالنپور اور مظاہرالعلوم سہارنپور میں ہوئی، بعد ازاں دارالعلوم دیوبند سے ۱۹۶۲ میں فراغت حاصل کی۔ آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین محنتی اور وقت کے پابند تھے اس لئے ۲۲ سال کی عمر میں ہی آپ کی استعداد وصلاحیت بام عروج کو پہنچ گئی۔ ابتداً آپ کا تقرر دارالعلوم اشرفیہ راندیر (سورت) میں درجہ علیا کے استاذ کی حیثیت سے ہوا، بعد ازاں ۱۳۹۳؁ھ یعنی ۱۹۷۳میں دارالعلوم دیوبند میں تقرر ہوا ، اس دوران آپ نے درس وتدریس کے علاوہ شعبہ افتاء کی نگرانی اور فتویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ کے عہدہ پر بھی معمور رہے۔ مولانا مرحوم نے ترجمۂ قرآن کریم، ابو داؤد شریف، ترمذی شریف، شمائل، مؤطین، نسائی شریف، ابن ماجہ شریف، مشکوٰۃ شریف، جلالین شریف، ہدایہ آخرین، شرح عقائد نسفی اور حسامی وغیرہ کتب کا کامیاب درس دیا اور تصنیف و تالیف میں بھی مشغول رہے۔ مولانا مرحوم نے حرمت مصاہرت، العون الکبیر کے علاوہ عربی شروحات وغیرہ تصنیف فرمائیں اور مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں اور علوم ومعارف کی تسہیل و تشریح کاآغاز فرمایا۔ تفسیر ہدایت القرآن ان کی مقبول عام تفسیر ہے۔ مولانا موصوف کا انداز خطابت نہایت مؤثر، درس نہایت مقبول اور عام فہم ہوتا تھا، اسی لئے تحریریں نہایت مرتب واضح اور جامع ہوتی تھیں۔ آپ کی کئی تصانیف دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کے نصاب درس میں شامل ہیں۔ آپ کا ذوق لطیف، طبیعت سادہ تھی، مزاج میں استقلال اور حقائق و معارف کے ادراک میں یکتائے زمانہ تھے۔آپ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔