مفتی سعید احمد پالن پوری:کچھ یادیں-عبداللہ ممتاز

دارالعلوم دیوبند اپنے قیام کے روز اول سے ہی عبقری شخصیتوں اور نابغۂ روزگار ہستیوں کا مرکز رہا ہے، انہی گہرہاےنایاب ہستیوں میں سے ایک حضرت الاستاذ، فقیہ وقت، شیخ الحدیث حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری تھے جو اب ہمارے درمیان نہیں رہےـ رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ ـ
حضرت مفتی صاحب ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور پوری علمی دنیا کے لیے مشعلِ راہ تھے، آج ان کی وفات کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی ایک تاریخ مکمل ہوگئی ـ حضرت مفتی صاحب کے ملک وبیرون ملک میں پھیلے ہزاروں شاگردوں کے علاوہ وہ تقریبا چار درجن کتابوں کے مصنف تھے، درس کا اسلوب وانداز انتہائی اچھوتا وانوکھا تھا، مشکل سے مشکل مسئلے کو چٹکیوں سمجھا دینے کا خاص فن انھیں حاصل تھا، گفتگو ٹھہر ٹھہر کر فرماتے تاکہ سننے والا خوب اچھی طرح سن اور سمجھ سکے، حضرت مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ابتدامیں مَیں بھی عام مُدرِّسوں کی طرح پڑھاتا تھا، پھر ٹھہر ٹھہر کر بولنے کی مشق وتمرین کی، روزانہ اپنے سبق کو ریکارڈ کرتا اور پھر خود اسے سنتا تھا کہ گفتگو کی رفتار میں کتنی کمی آئی، افہام وتفہیم کے اس خاص ملکہ کی وجہ سے طلبہ میں ان کے تئیں خاص گرویدگی وارفتگی پائی جاتی تھی ـ
بالعموم مدارس میں سال کے آغاز میں کتاب کی ابتدائی عبارتوں پر خوب موشگافیاں ہوتی ہیں، بال کی کھال نکالی جاتی ہے اور لمبی لمبی تقریریں ہوتی ہیں، پھر سال کے آخر میں مقصد صرف نصاب کی تکمیل ہوتی ہے، پھر نفس عبارت سمجھنے پر بھی توجہ نہیں ہوتی اور پوری برق رفتاری سے عبارتوں سے گزر جاتے ہیں؛ لیکن حضرت مفتی صاحب کا درس اس سے بالکل جدا ہوتا تھا، وہ عبارت کی موشگافیوں اور بلا وجہ کی تقریروں کے حق میں بالکل نہ تھے؛ چناں چہ سبق کے پہلے دن جس انداز میں تقریر ہوتی مسلسل اسی انداز میں سبق کے آخری دن بھی تقریر ہوتی ـ
نفس عبارت اور مسئلہ سمجھنے پر خاص زور دیتے، ایران توران کے اعتراض واشکال پیدا کرنا اور پھر ان کے جوابات دینے میں وقت ضائع کرنے (جس میں طالب علم الجھ کر اصل مسئلہ کو سمجھنا ہی بھول جاتا ہے) کے سخت مخالف تھے، اسی روح کو سمجھانے کے لیے حضرت مفتی صاحب نے کافیہ کی شرح "ہادیہ” لکھی جس میں نفس عبارت اور قواعد کو سمجھایا ہے، اس میں کافیہ پڑھانے کا صحیح طریقہ بھی لکھا ہے ورنہ ایک آسان کتاب کے غلط طرز تدریس نے اسے گنجلک اور مشکل ترین کتاب بنادیا تھا جس کا نام سن کر ہی طلبہ کو وحشت ہوتی ہے ـ
مشکل عبارتوں کی تسہیل کرکے تفہیم سے قریب کردینے کا یہ فن ان کی تحریروں میں بھی خوب نمایاں تھا؛ چناں چہ دارالعلوم سے وابستگی سے قبل ہی "افادات نانوتوی” اور "افاداتِ گنگوہی” قسط وار "الفرقان لکھنؤ” میں شائع کرچکے تھےـ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کی "توثیق الکلام” کی بالکل عام فہم زبان اور سلیس اردو میں تشریح "کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟” کے نام سے شائع فرمایاـ غیر مقلدین کے دس سوالوں کا جواب حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے "ایضاح الادلہ” کے نام سے لکھا تھا؛ لیکن اختصار اور ڈیڑھڑھ سو سال پرانی اردو ہونے کی وجہ سے اسے سمجھنا مشکل تھا، مفتی صاحب نے اس کی ایسی آسان اور عام فہم تسہیل کی ہے کہ اب یہ کتاب ہر خاص وعام کے لیے قابلِ استفادہ بن گئی ہے،رحمۃ اللہ الواسعہ، تحفۃ القاری اور تحفۃ الالمعی جیسے دسیوں نام ہیں جن میں مفتی صاحب کا یہ جوہر دیکھ سکتے ہیں؛ لیکن یہاں مشتے نمونہ از خروارہ کے طور پر بس چند نام ذکر کیے گئے ہیں ـ
حدیث پڑھاتے ہوئے اختلاف ائمہ بیان کرتے تو دوسرے امام پر بالکل پِل نہیں پڑتے تھے، بڑے سلیقہ اور مہذہب انداز میں ان کا مذہب بیان فرماتے،کسی باب کے تحت تین چار حدیث اگر دوسرے امام کا مستدل ہو تو دو تین کا جواب دیتے اور ایک آدھ کا کبھی جواب نہ دیتے اور مزاحا فرماتے سب کا جواب ہی دے دوگے تو ان کے پاس کیا بچے گا؟
غیبت ایک ایسا مرض ہے جس میں عام خاص سب مبتلا ہیں، بمشکل کوئی اپنے کو اس سے بچا پاتا ہے، حضرت مفتی صاحب کی مجلس عصر کے بعد ان کے گھر پر ہوتی تھی، جس میں ہر عام وخاص کو آنے اور اس دریاے علم سے فیضیاب ہونے کی اجازت ہوتی تھی، اس مجلس میں علم بہتے تھے اور فقہ وحدیث کی گتھیاں سلجھائی جاتی تھیں، اس مجلس کی سب سے بڑی خصوصیت تھی کہ جو بھی گفتگو ہوتی متکلم اور مخاطب کی ہوتی، کیا مجال کہ کوئی کسی کی غیبت کردےـ
حق گوئی وبے باکی خاص طرہ تھا، حضرت مفتی صاحب جسے حق سمجھتے بلا خوف لومۃ لائم بیان فرماتے اور ناحق پر نکیر کرتےـ دارالعلوم کے استاذ ہونے کے باوجود دارالعلوم کے مزارِ قاسمی میں لگے کتبوں پر سخت نکیر فرماتے اور کہتے "دیوبندیت وبریلویت میں ایک بالشت کا فرق رہ گیا ہے”ـ
جو فرماتے اس پر عمل پیرا بھی ہوتے، پگڑی کی سنت پر عمل کے لیے طلبۂ دورہ حدیث پر زور دیتے، تصویر کشی کو حرام سمجھتے تھے (خواہ وہ ڈیجیٹل ہو) اور پوری شدت سے تصویر کشی سے دور رہتے، علمی انحطاط اور طلبہ کی تعلیم سے عدم دل چسپی پر شاکی رہتے، سال کے آخر میں ایسی تقریر فرماتے جیسے پوری زندگی کا لائحۂ عمل پیش کر رہے ہوں، طلبہ کو تین کیٹیگری میں تقسیم فرماتے اور ان کے کرنے کے کام بتاتے، اساتذہ کی قلت تنخواہ پر حضرات مہتممین کی سرزنش کرتے اور تنخواہ کے معیار کی وجہ سے با صلاحیت طلبہ کے یونیورسٹیوں اور مدرسہ بورڈ میں چلے جانے پر دکھ کا اظہار فرماتے اور کہتے کہ اچھے طلبہ تو یونیورسٹی چلے گئے "امرود کتنا بھی اچھلے کودے تو تربوز نہیں بن سکتا”ـ
استاذی وشاگردی والے تام جھام سے سخت نالاں تھے، فرماتے تھے کہ اس "شاہ گَردی” نے اساتذہ وطلبہ کے درمیان ایک خلیج پیدا کردی ہے، پہلے زمانے میں طالب علم کو "صاحب” (ساتھی) کہا جاتا تھا، پھر عجمیوں کے اثر سے یہ "شاہ گَرد”(بادشاہ کی دھول) یعنی شاگرد بن گیا،اس لیے پہلے استفادہ آسان تھا، اب استاذ "شاہ” ہوتا ہے اور طالب علم اس کی "گَرد” (دھول) اس لیے افادہ واستفادہ اب مشکل ہوگیا ہےـ استاذی وشاگردی کے نام پر ہونے والے تصنع اور تکلفات سے سخت کڑھتے، درس گاہ میں تشریف لاتے اور اگر کسی نے جوتی سیدھی کردی تو فورا سرزنش ہوتی کہ ‘”یہ ادب نہیں ہے، ادب دل سے ہوتا ہے”ـ راستہ چلتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے کوئی چلے تو سخت نا پسند فرماتےـ
خلاصہ یہ کہ اس دورِ قحط الرجال میں وہ نمونۂ سلف، سنت کے پاسدار اور علم وعمل کے پیکر تھےـ تواضع، اخلاص، للہیت اور طلبہ سے محبت وشفقت ان میں رچی بسی تھی ـ
اللہ تعالی ان کے حسنات کو قبول فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، پس ماندگان (جو پوری امت مسلمہ؛ خصوصا حلقۂ دیوبند ہے) کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور دارالعلوم کو ان کا نعم البدل مل جائےـ (آمین)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)