مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ کی سوانح ‘بحر کوثر کی ایک آب جو’پر مذاکرہ

 

اورنگ آباد:مشہور و معروف مفسر قرآن،پدم بھوشن مولانا عبدالکریم پاریکھ نے قرآن کریم کے ساتھ انسانیت کی بے پناہ خدمت کی ،انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن اور اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے وقف کردی تھی،حکومت ہند ملک میں امن وامان،اخوت وبھائی چارہ کو فروغ دینے کے لیے ان کی کاوشوں کے مدنظر انہیں پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ان خیالات کا اظہارمولانا نسیم الدین مفتاحی صدر مدرس جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم اورنگ اؑباد نے مولانا پاریکھ کی ۳۱ ویں برسی پر منعقدہ مذاکرہ میں کیا۔یہ مذاکرہ مولانا کی سوانح”بحرکوثر کی آب جو“پر منعقد کیاگیاتھا۔ شرکاے مذاکرہ مولانا محمد الیاس فلاحی (نائب صدر جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر) مولانا عبدالرحمن ندوی،مولانا قاضی نوشادالدین ندوی،عبدالجبار باغبان (صدرجامعہ اسلامیہ کاشف العلوم)ایم ڈی طیب تھے۔ مولانا الیاس فلاحی نے پاریکھ صاحب کی قرآن کی خدمت اور اس کے پیغام نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں تک پہنچانے کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مولانا نے ناگپورشہرمیں ہزاروں افراد کو قرآن کریم ترجمہ کے ساتھ پڑھنے والا بنایا،خصوصاَانہوں نے خواتین میں نہ صرف قرآن کا شوق پیدا کیا بلکہ انہیں قرآن کی معلمہ بنایا اور انہیں محلوں میں پڑھانے کے لیے معقول مشاہرہ بھی دیا۔ان کی کتاب ”لغات القرآن“ قرآن کے معانی ومطالب کوسمجھنے کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل کتاب ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے قرآن سمجھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ مذاکرہ کی ابتدا میں فاؤنڈیشن ک صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے بتایاکہ مولانا پاریکھ صاحب نے مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن ندوی کی قائم کردہ تحریک پیام انسانیت کے ذریعے ملک میں ہندو مسلم اتحاد وتفاق،آپسی بھائی چارہ کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا تھا، ہر جگہ انسانیت کا قتل عام ہورہا تھا،انسان انسان کا دشمن بن گیا تھا،اس وقت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی نگرانی میں انہوں نے پیام انسانیت کا کام کیا۔آج ان کی ۳۱ ویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف کرنے، ان کی کاموں اور کارناموں کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے یہ مذاکرہ منعقد کیاگیا ہے۔ مولانا کی تمام زندگی کا نچوڑ ان کے فرزند عبدالغفور پاریکھ نے اپنے والد پرلکھی کتاب”بحرکوثر کی آب جو“ میں کردیا ہے۔یہ کتاب مولانا پاریکھ کی قرآنی خدمات، ملک بھرمیں ان کے اسفار اور تقاریر،ملک کی بڑی شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر ہے ساتھ ہی مولانا کے انتقال کے بعدملک بھر کے تمام زبانوں کے اخبارات نے جو خبریں،اداریے اور مضامین شائع کیے ہیں ان کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گی ہے۔ مولانا عبدالرحمن ندوی نے کہاکہ پاریکھ صاحب اکثر اورنگ ا ٓباد آیاکرتے تھے اور وہ جب بھی آتے ،یہاں کی سربرآوردہ شخصیات خصوصاَغیر مسلم دانشوروں سے ضرور ملتے اورملک کی موجودہ صورتحال پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے تھے۔ قاضی نوشاد الدین ندوی نے بھی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی طالبعلمی کے دور سے مولانا سے رابطے کا تذکرہ کیا۔