مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒ ایک عہد ساز شخصیت ـ مولانا محمد شمیم اختر ندوی

چوں کہ ہمارا خانوادہ(جوکہ شمالی بہارکےضلع سيتامڑھی کےمشہور قصبہ پوپری کےمتصل گاؤں’’گاڑھا ‘‘ميں واقع ہے۔)شروع سے ہی علماء و صلحاء کا مرکز رہا،اس لیے بچپن سے ہی ہندوستان کے مشہور علماء کرام و بزرگانِ دین کا نہ صرف تذکرہ سنا بلکہ ان کو دیکھنے کا بھی شرف حاصل ہوتارہا۔
ہمارے دادا حضرت مولانا منظر الحسن بن مولانا محمد سلیم قاسمی رحمھما اللہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں 65 19ءسے 70 19ء کے درمیان ناظم بیت المال رہے اور جمعیۃِ علماء ضلع سیتامڑھی اور کانگریس کمیٹی کے بھی ایک عرصہ تک صدر رہے اس لیے پوپری اور اس کے اطراف وا نواح میں ہونے والے دینی و تنظیمی اجلاس عموماً آپ ہی کی قیادت میں ہوا کرتے تھے اور اس طرح تشریف لانے والے اکابر علماء کی آمد ہمارے یہاں ہوجایا کرتی تھی، یہ سلسلہ دادا کے بعد والد صاحب حضرت مولانا محمد نبی اختر مظاہری رحمۃ اللہ علیہ (خطیب و پرنسپل مدرسہ عزیزیہ جامع مسجد پوپری بازار ضلع سیتامڑھی بہار) کی زندگی میں بھی جاری رہا اور آپ کی وفات کے بعد بڑے بھائی ڈاکٹر محمد کلیم اختر صاحب(صدر امارت شرعیہ پوپری بلاک و سکریٹری مدرسہ عزیزیہ جامع مسجد پوپری بازار)کے حالیہ دور میں بھی جاری وساری ہے الحمدللہ۔
اسی سلسلے کا ایک واقعہ جو مجھے یاد آرہا ہے ،کچھ اس طرح ہے، ہماری عمر چھ سات برس کے درمیان رہی ہوگی کہ ان ہی ایام میں ایک بار ہفتوں پہلے سے گھر دروازے پر بڑی چہل پہل دکھائی دینے لگی تھی، صاف صفائی اور دیگر انتظامات کیلئے گھر باہر کے لوگ دادا محترم حضرت مولانا منظر الحسن رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت کے مطابق مستقل کام میں لگے ہوئے تھے اور ہم بھائی بہن وغیرہ بھی دادا کے دیےہوئے ترانے اور استقبالیہ اشعار الگ الگ یاد کرنے میں مصروف تھے، مجھے تو اردو پڑھنے نہیں آتی تھی تو کبھی دادا تو کبھی گھر کے دیگر لوگ یاد کراتے تھے، ابا رحمۃ اللہ علیہ نے ہم لوگوں کو بتایا تھا کہ بہار کے بہت بڑے بڑے علماء یہاں آنے والے ہیں، ہم لوگ خوشی سے اچھلتے،کودتے اور ہر روز ان حضرات کی آمد کے دن گنتے تھے۔
بہرحال وہ دن بھی آگیا جب حضرت امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ،حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ علیہ،حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ، قاضی شریعت حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ عليہ،حضرت مولانا ابو اختر صاحب ودیگر اکابر کا نورانی قافلہ متعینہ تاریخ میں براجمان ہوا اور ہمارے گھر دروازے کے ساتھ پورا گاؤں ان کے نورانی قدموں سے جگمگا اٹھا ،ان حضرات کی کیا میٹینگ ہوئی، وہ تو نہیں معلوم؛البتہ اتنا یاد ہے کہ ہمارے دروازے کے بیچ والے ہال میں بہت دیرتک ان حضرات کی گاؤں اور اس کے اطراف کے معززین سے گفتگو ہوتی رہی،اسی بیچ باری باری بڑی بہن قدسیہ اختری،بڑے بھائی ڈاکٹر محمد کلیم اختر،اور راقم الحروف کو بلایا گیا اور تیاری کے مطابق اشعار سنانے کےلیے کہا گیا ،یاد آتا ہے کہ ان اکابر نے ہم لوگوں کو بہت دعائیں دیں،اس کے بعد جب یہ حضرات کھانے سے فارغ ہوئے تو حضرت امیر شریعت سید شاہ منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ ( 1912ـ 1991) نے پہلے دروازے پر گاؤں کے بڑے بوڑھے،نوجوان مردوں کو توبہ و انابت کی تلقین کرتے ہوئے بیعت فرمایا،پھر گھر پر تشریف لائے اور بہت ساری خواتین کو بیعت سے سرفراز فرمایا، جب حضرت امیر شریعت آرام کےلیے دادا کے کمرے میں تشریف لے گئے تو اسی دوران دادا محترم رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بھی قاعدہ بغدادی لیکر بلایا اور حضرت امیر شریعت نے مجھے’’الف ،با ‘‘پڑھاتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر خوب دعائیں دیں۔
یہ پہلا موقع تھا جب ہم نے مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کو غیر شعوری کے زمانہ میں دیکھا تھا،اس وقت کون سی شخصیتیں شکل و شباہت کے اعتبار سے کیسی تھیں کچھ یاد نہیں ،بس اتناد یاد ہےکہ بہت سے سفید پوش بڑے وقار کے ساتھ دروازے پر تشريف فرماتھے اور پورا گاؤں ان بزرگوں کی خدمت و اطاعت کیلئے بےتاب ۔
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کو دوسری بار اس وقت بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا ،جب 1994ء میں رویت ہلال کے مسئلہ کو لیکر بڑا انتشار پیدا ہوگیا تھا اور اس سلسلے میں امارت شرعیہ پٹنہ میں بہار کے اجلہ ٔعلماء کی ایک اہم میٹنگ بلائی گئی تھی،والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میٹنگ میں مدعو تھے ،میں ان دنوں حفظ قرآن کے بعد عربی دوم میں زیرِ تعلیم تھا اور والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش کے برعکس دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ جانے کیلئے بہ ضد تھا، والد صاحب عموماً اس طرح کے معاملات میں اپنے محبوب استاذ حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ علیہ سے مشورہ لیا کرتے تھے ؛چناں چہ آپ نے امارت کی میٹینگ میں جاتے ہوئے مجھے بھی اپنے ساتھ لے لیا اور فرمایا اب تمہاری اگلی تعلیم قاضی صاحب کے مشورے سے ہوگی،بہرحال امارت شرعیہ پہونچنے کے بعد اگلے دن صبح کے گیارہ بجے امارت کے کانفرنس ہال میں حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ صاحب کی صدارت میں میٹینگ شروع ہوئی، بہار کے مختلف حلقوں کے بڑے بڑے علماء کرام و مفتیان عظام شریکِ میٹینگ تھے،اس میٹنگ میں حضرت قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کے درمیان خبر اور شہادت کے مسئلہ پر بہت دیر تک زبردست بحث جاری رہی؛ تاآں کہ دن کے ایک بج گئے ،بالآخر ایک پانچ رکنی کمیٹی بناکر فیصلہ کا اختیار کمیٹی کے سپرد کردیا گیا،اس کے علاوہ اس بات پر بھی رائے طلب کی گئی کہ چاند کے اعلان کو ریڈیو اور ٹی وی کی نیوز پڑھے جانے تک کےلیے آیا مؤخّر کیا جائے یا ٹی وی اور ریڈیو سے وقت خرید کر علی الفور اعلان کا اہتمام کرایا جائے،مجھے یاد آرہا ہے کہ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت قوت کے ساتھ اس بات کو اٹھایا کہ اعلان کو مؤخر نہ کیا جائے بلکہ وقت خریدا جائے اور الحمدللہ باتفاق رائے فیصلہ بھی اسی پر ہوا،اسی طرح کچھ اور امور پر بھی بحث و تمحیص ہوئی اور پھر میٹینگ اختتام پذیر ہوئی،اگلے دن امارت شرعیہ میں پانچ سو لوگوں کی آنکھوں کے مفت آپریشن کے لیے ایک شاندار افتتاحی تقریب امارت کے میدان میں منعقد ہوئی جس میں شہر کے معززین کے علاوہ وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو بھی بحیثیت مہمان خصوصی تشریف فرما تھے، قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی موقع کی مناسبت سے خدمت خلق کے عنوان پر بڑی موثر گفتگو ہوئی اور اسی طرح دیگر لوگوں نے اظہار خیال فرمایا۔ پروگرام کے بعد جب حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ سے والد صاحب نے میری ملاقات کرائی اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا تو حضرت نے اپنا دست شفقت سر پر رکھا اور فرمانے لگے کہ اسے مونگیر بھیج دیجئے یہ وہیں پڑھینگے ان شاءاللہ۔
بہرحال جب قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کیا گیا تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ آپ انہیں شوق سے ندوہ بھیج دیں ،میں نے خود اپنے بعض متعلقین کو وہاں بھیجا ہے اور ماشاءاللہ سب کی بہتر تعلیم ہورہی ہے،پھر قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ندوۃ العلماء کے اس وقت کے مہتمم اور موجودہ ناظم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے نام ایک خط بھی لکھ دیا اور اس طرح میرا ندوہ جانا طے ہوگیا،والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ندوہ کے طلبہ کے داڑھی کاٹنے کی شکایت ملتی رہتی تھی ؛اس لیے وہاں بھیجنے کیلئے شرحِ صدر نہیں ہوپارہا تھا ؛البتہ آپ ندوہ العلماء کی تعلیم سے حددرجہ مطمئن اور اس کے مؤید بھی تھے؛چناں چہ آپ نے میرے بعد میرے چھوٹے بھائی یامین اختر کو بھی ندوہ بھیجا اور وہ بھی الحمدللہ وہاں سے فارغ ہوئے۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء سے 1999ء میں فراغت کے بعد جب میں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو پھر الحمدللہ کئی بار ممبئی اور بہار میں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ سے براہ راست ملنے اور مختلف اجلاس میں آپ کی فکر انگیز گفتگو سننے کا خوب موقع ملا ، ایک ملاقات کے دوران ممبئی میں میرے قیام کو لیکر قدرے خفگی کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ آپ کو پوپری میں ہی کام کرنا چاہیے ،جہاں آپ کے باپ دادا نے کام کیا ہے،ممبئ یا دیگر شہروں کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جن کا کوئی پس منظر نہیں ہوتا،بات اتنی بھلی تھی کہ دل کو لگ گئ ،اسی دوران سن 2010 ء میں والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کا سانحہ پیش آگیا اور میں حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحت اور دیگر بہی خواہوں کے اصرار پر بہار آگیا، ابتداء ایک تنظیم ’’آل انڈیا سماجی و رفاہی کونسل‘‘کی بنیاد ڈالی اور کچھ کرنے کا عزم وحوصلہ لیکر آگے بڑھا ؛لیکن چند ماہ کے قیام کے دوران ہی مجھے یہ احساس ہوگیا کہ بہار کی سرزمین پر تنقیدوں کے نشتروں کے درمیان کام کرنا بڑوں کے ہی بس کی بات تھی، ہم چھوٹوں کی نہیں،علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے سوسال پہلے سچ فرمایا تھا کہ:’’ بہار اگر ایک طرف مردم خیز ہے تو دوسری طرف مردم خور بھی‘‘۔
ہندوستانی مسلمانوں پر جن چند خاندانوں کا بڑا احسان ہے،ان میں خانوادۂ قاسمی،خانوادہ ٔحسنی،خانوادۂ رحمانی اور خانوادۂ مدنی سرفہرست ہیں۔حضرت رحمۃ اللہ کے دادا حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، بانی دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنؤ (1846_ 1927) کی زندگی کا مطالعہ کریں ،والد حضرت مولانا سید شاہ محمد منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ (بانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)کی حیات طیبہ کو دیکھیں یا خود حضرت مرحوم موصوف کی عملی زندگی کا خاکہ سامنے رکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان حضرات نے اپنی زندگی کے صبح وشام،دن رات کو صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی اور ہندوستانی مسلمانوں کی دینی،علمی ،اور ملی سربلندی و سرفرازی کےلیے نہ صرف وقف کر رکھا تھا ؛بلکہ اسے ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا،تادم آخر اسی میں لگے رہے اور اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کردیں۔
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کی تربیت آپ کے والد رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ اس انداز سے کی تھی کہ آپ کی شخصیت میں دینی و عصری علوم کے ساتھ سیاسی بصیرت بھی بدرجۂ اتم پیدا ہوگئی تھی ؛ ملک کے دو مشہور دینی ادارے دار العلوم ندوہ العلماء لکھنؤ،دار العلوم دیوبند اور اسی طرح یونیورسٹی سے بھی آپ نے کسب فیض کیا تھا، چناں چہ آپ کی ان سب خوبیوں بالخصوص سیاسی بصیرت سے ملت اسلامیہ ہندیہ کو بہت نفع پہنچا ،خاص طور پر جب آپ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ پٹنہ کی قیادت کا موقع ملا،سچ پوچھیں تو مسلم پرسنل لا ءبورڈ کی ہندوستان کے چپہ چپہ میں اور امارت شرعیہ پٹنہ کی پورے بہار میں آپ کے دور قیادت میں تجدید ہوگئی ،کامیابی و ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے؛لیکن طلاق ثلاثہ کے موضوع پر ہندوستان کے شہر شہر اور قریہ قریہ میں جو دستخطی مہم چلائی گئی اور احتجاجی اجلاس ہوئے وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ،اسی طرح امارت شرعیہ پٹنہ کے پلیٹ فارم سے دین بچاؤ دیش بچاؤ کے عنوان پر گاندھی میدان پٹنہ میں جو آپ نے اجلاس طلب کیا ، وہ ملک کی تاریخ کا وہ تاریخ ساز اجلاس ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا،اہل سیاست کے ہوش اڑ گئے،آزادی کے بعد پہلی بار پٹنہ کے گاندھی میدان سمیت پورے شہر کو انسانی سروں سے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے لوگوں نے دیکھا تھا۔
اسی طرح امارت شرعیہ کو تنظیمی اعتبار سے مضبوط اور وقار بخشنے کیلئے آپ نے مسلسل تقریباً پندرہ ضلعوں کا دورہ فرمایا اور ہر ضلع میں دو، دو روز قیام کرکے عوام و خواص کے مسائل کو بذات خود سنا اور ان کے حل کی تدبیریں تلاش کیں، ضلع اور بلاک کی سطح پر الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دیں، سیتامڑھی مہسول میں منعقد ہونے والے دوروزہ امارت کانفرنس میں خود میں بھی ممبئی سے شریک ہوا تھا،ایک بڑے میدان میں پارلیمنٹ سجی رہی اور یکے بعد دیگرے کئی نشستوں میں آپ عوام وخواص کے درمیان اسٹیج پر جلوہ افروز ہوکر گھنٹوں ملی و سماجی اور دینی مسائل کو سنتے رہے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوشش بھی کرتے رہے ۔اسی اجلاس میں حضرت سے میری آخری بالمشافہ ملاقات تھی،اپنے گھر گاڑھا پوپری آنے کی دعوت دی تو فرمانے لگے کہ آپ نے پہلے سے بتایا ہوتا تو ضرور کوئی ترتیب بن جاتی ؛لیکن اب تو شیڈول بن گیا ہے اور اس میں گنجائش کی کوئی شکل بھی نہیں ہے؛ لیکن زندگی نے وفا کی تو آئندہ ضرور آئیں گے ان شاءاللہ۔ افسوس کہ بہار کے پندرہ اضلاع کا دورہ مکمل ہونے کے بعد ہی پورے ملک میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا اور اس طرح حضرت امیر شریعت دیگر اضلاع کا دورہ نہیں کرسکے اور اب تو ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آپ خود بھی اس پیاسی امت کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
حضرت امیر شریعت سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ چونکہ بائيس سال بہار ودھان پریشد کے ایم ایل سی رہے اور اس دوران دوبار ڈپٹی اسپیکر بھی بننے کا بھی موقع ملا ؛اس لیے ملکی سیاست اور اس کے نشیب و فراز سے آپ خوب واقف تھے، ملک کے متعصب مزاج سیاست دانوں کے قلب و نگاہ میں مسلمانوں کے تئیں پیدا ہونے والے رکیک و گھٹیا خیالات و منصوبے کو بھانپنے اور سمجھنے کا ہنر رکھتے تھے۔
ملک کی کسی اسمبلی یا پارلیمنٹ میں بننے والے قانون کا بہ نظر غائر جائزہ لیتے اور جہاں کہیں کوئی کمی یا مستقبل میں اس کے غلط اثرات مرتب ہونے کا خطرہ محسوس کرتے تو کھل کر میڈیا کے سامنے اپنی بات رکھتے؛بلکہ ضرورت محسوس کرتے تو اہل سیاست سے ملاقات بھی کرتے،رائٹ ٹو ایجوکیشن پر بننے والے قانون کے نتائج کو جب انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی زد میں مدرسے بھی آسکتے ہیں تو آپ نے اس شعبہ کے متعلقہ وزیر سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داران کے ساتھ کئی کئی ملاقاتیں کیں، جرح کیا اور اس میں ترمیم کو یقینی بنایا اور الحمدللہ مدارس اسلامیہ ہندیہ کو اس کی زد سے بچا لیا،اس میدان میں آپ اپنے والد ماجد حضرت مولانا سید محمد منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ کی طرح بہت بیدار مغز تھے۔
دینی علوم کی ترویج و اشاعت کےلیے آپ نے جامعہ رحمانی مونگیر کو ہمہ جہت ترقی دی،تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ تعمیراتی کام بھی الحمدللہ آپ کے دور میں خوب ہوئے ، اپنے دادا حضرت مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کےلیے آپ نے قدیم صالح اور جدید نافع اصول کو سامنے رکھتے ہوئے نصاب تعلیم بھی ایسا مرتب فرمایا کہ فضلاء رحمانی عصری چیلنجوں کا نہ صرف مقابلہ کرسکیں؛بلکہ اسلام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور مسلمانوں کے عقیدۂ توحید میں تشکیک و ریب پیدا کرنے والی ہر کوشش کو زبان و قلم سے ناکام بھی بنا سکیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی کا راز صرف اور صرف تعلیم میں پنہاں ہے یہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دل کی آواز تھی،مقابلہ جاتی امتحانات میں ہمارے بچے بھی آگے بڑھیں، اور اعلی علمی کورسیس میں داخلہ کے اہل بن سکیں، یہ آپ کے دل کی دھڑکن تھی؛چناں چہ آپ نے اپنی اس آواز و دھڑکن کو عملی جامہ پہنانےکیلئے ملک کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز فرمایا اور رحمانی فاؤنڈیشن اور رحمانی ۳۰؍ قائم کرکے وہ کارہائے نمایاں انجام دیا ،جسکی نظیر لوگ مشکل سے ڈھونڈ سکتے ہیں، آج ان دونوں اداروں کی بدولت ہمارے بچے ملک کی سرفہرست کمپنیوں، اعلی سرکاری و نیم سرکاری شعبوں میں برسر روزگار ہیں؛بلکہ لگاتار اس میدان میں بازی مارتے جارہے ہیں،امارت شرعیہ کے ذریعہ بھی آپ نے پورے بہار کے ہر ضلع اور ہر قصبے میں انگلش میڈیم اسکول کے قیام کا اعلان فرمایا ؛بلکہ کئی ایک جگہ عملی اقدام بھی جاری تھا ،اللہ کرے کہ حضرت کا یہ ادھورا خواب آپ کے بعد والے شرمندۂ تعبیر کرسکیں۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے،علم و عمل ،تقوی و طہارت،فکر مندی و فکر سوزی اور دن رات امت کی سرفرازی کےلیے لائحہ عمل تیار کرتے رہنا آپ کا مشن تھا،تھکنا کسے کہتے ہیں ؟زندگی میں جانا ہی نہیں،عمر کے ساتھ بیماری بھی پیر پسارتی رہی ؛لیکن آپ سب کو پچھاڑکر آگے بڑھتے ہی رہے اور کام کرتے کرتے 3 اپریل 2021 کو 77 سال کی عمر میں اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کردی،
انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اللہ تعالیٰ اس مرد مجاہد کی خدمات کو قبول فرمائے اور وسیلۂ نجات بنائے ۔(امین یارب العالمین)