مفکرقوم وملّت حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کوسچاخراج عقیدت

نام کتاب: مفکر قوم وملت حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ:
جادہ بہ جادہ ،منزل بہ منزل
ترتیب: نایاب حسن قاسمی
صفحات: 304 قیمت:300؍روپئے
ناشر: مرکزی پبلی کیشنز،نئی دہلی(موبائیل:9811794822)
تبصرہ: شکیل رشید (ایڈیٹرروزنامہ ممبئی اردونیوز)
حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ بلاشبہ’مفکّرقوم وملّت ‘تھے اس لیے مولانامرحوم کی شخصیت اورخدمات پر’ترجمان جمعیۃ اور قندیل ڈاٹ اِن ‘کی مشترکہ خصوصی اشاعت میں مولانا مرحوم کو اس خطاب سے یادکرنا بلاشبہ انہیں سچا خراجِ عقیدت ہے۔مرکزی پبلی کیشنز‘نئی دہلی کے زیراہتمام مولانا مرحومؒ کی شخصیت اورخدمات پر مشتمل یہ کتاب بقول مرتب نایاب حسن قاسمی’’کسی بہت ہی منظم منصوبہ بندی کانتیجہ نہیں ہے،یہ دراصل مولانا مرحوم ومغفور کے تئیں ہماری محبت وعقیدت اوران کی قدرشناسی کے جذبات کے اظہار کاایک حقیر سا نمونہ ہے اوریہ نمونہ بھی ان لوگوں کے قیمتی تاثرات اور تحریری اظہار خیالات کی بہ دولت سامنے آسکا ہے،جنہوں نے مولانا کی وفات کے فوراً بعد بہت بڑی تعداد میں مختلف فورمزپرلکھ کران کے تئیں اپنی عقیدت ومحبت کااظہار کیا اورہم نے ان کی تحریروں کو یکجاکرکے مرتب کرنے کافیصلہ کیا۔‘‘
نایاب حسن قاسمی کا تمام تحریروں کو یکجا کرکے مرتب کرنے کافیصلہ بھی غلط نہیں ہے،ماناکہ یہ مضامین تاثراتی ہیں اوران کے ذریعے مولانامرحومؒ کی شخصیت اورخدمات کے تمام پہلو سامنے نہیں آپاتے؛ لیکن ان مضامین کی اہمیت اس معنی میں دوچند ہوجاتی ہے کہ یہ بقول مرتب’’مضمون نگاروں کے ذاتی تجربات مشاہدات پر مبنی ہیں۔‘‘اوراسی لیے’’ہر مضمون میں یک گونہ انفرادیت پیدا ہو گئی ہے۔‘‘یہ’انفرادیت‘ہی ہے،جو اس کتاب کومولانامرحومؒ پر شائع ہونے والی دوسری کتابوں سے ہمیشہ ممتاز رکھے گی۔مرتب نے کوشش کی ہے کہ مولانا کے ذاتی حالات اورسانحات ان مضامین میں آجائیں۔خود مرتب یعنی نایاب حسن قاسمی نے’نظرات’ کے تحت ’آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا!‘عنوان سے مولانا مرحومؒ سے اپنے تعلق کاذکر کرتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی اوران کے انداز واطوار کا جو نقشہ اورسراپاکھینچا ہے،مولانامرحومؒ پر کسی وقیع علمی تحریر میں بھی شاید وہ نقشہ اورسراپا کھنچا ہوا نظرنہ آسکے۔چند سطریں ملاحظہ کریں:’’پہلی مرتبہ ان کوسننے کے تجربے نے جہاں ان کی خطابی صلاحیتوں کاقائل کیا،وہیں ان کاانوکھا سراپابھی میرے لیے کچھ عجیب خیال انگیزتھا،وہ معمولی سفیدکرتاپائجامہ میں ملبوس تھے اورشانے پر سفیدرومال لٹکایاہواتھا،یہ ان کاایک مخصوص انداز تھا،رفتار واطوار میں شرافت وسادگی اوربے ریائی نے مجھےغیرمعمولی طور پر متاثرکیا۔‘‘
طلاقِ ثلاثہ بِل پر بحث کے دوران لوک سبھا میں چونکہ مولانامرحومؒ اپنی رائے نہیں رکھ سکے تھے اس لیے وہ سوشل میڈیاپرہدفِ تنقیدبنے تھے،اس تعلق سے نایاب حسن قاسمی ایک جگہ لکھتے ہیں’’جب وہ ایک ملک گیر ملّی ادارے کے جنرل سکریٹری ہوتے تھے اوراس کے پلیٹ فارم سے شہروں،قریوں،دیہاتوں کے چکرلگاتے،مسلمانوں کے ٹوٹتے بکھرتے حوصلو ں کو یکجاکرتے،آفت زدہ انسانوں کے لیے اسبابِ خوردونوش مہیا کرتے،تب کبھی کبھی ایسی نوبت آجاتی کہ خودا ن کے پاس کھانے کاپیسہ نہیں ہوتاتھا‘مگروہ ذاتی حالات سے بے پروااپنی دھن میں مگن رہتے اورایک یہ دن تھاکہ اسی ملک کے مسلمان محض ایک سیاسی پروپیگنڈے اورفتنہ انگیزمفروضے کے زیرِ اثران کی ماضی کی تمام خدمتوں کو یکسرفراموش کرکے ان کی ذا ت کو طعن وطنز اوردشنام واتہام کی اَنیوں پراچھال رہے تھے،مولاناکےچہرے پر بے چارگی عیاں تھی۔‘‘نایاب حسن قاسمی کی یہ تحریر بھلے تاثراتی ہو مگرمولانامرحومؒ کی شخصیت پر اپنی جگہ ایک جامع تحریر ہے۔
کتاب میں مجموعی طورپر۶۵مضامین ہیں۔لکھنے والوں میںکوئی ایسا نام نہیں ہے جسے معمولی کہا جاسکے۔مولاناسعودعالم ندوی ازہری ،مولانا افتخار حسین مدنی،مولانا نوشیر احمد(یہ مولانا مرحومؒ کے سکریٹری رہے ہیں)،مولانا محمداسلام قاسمی،مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ،پروفیسر اخترالواسع،محموداحمد خاں دریابادی،حقانی القاسمی ،زین شمسی،مولانا محمد شاہد الناصری الحنفی،سہیل انجم،مسعودجاوید،شاہنواز بدرقاسمی غرضیکہ لکھنے والوں کی فہرست میں ہر وہ نام شامل ہے جس کا مولانامرحومؒ سے ذاتی تعلق تھا۔ان مضامین میں جہاں مولانا مرحومؒ کی ملی خدمات اورعلمی وعملی کارناموں کاذکر کیاگیا ہےوہیں قوم وملت کے لیے انکی فکر اجاگرکی گئی ہے،ان کی سادگی پر روشنی ڈالی گئی ہے،ان کی جدوجہد کے واقعات بیان کیے گئے ہیں‘ان کی صحافتی زندگی کو پیش کیاگیاہے،کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے جوکام کیے وہ سامنے لائے گئے ہیں اوریہ بتایاگیا ہے کہ وہ اسلام اورمسلمانوں کے سچے ترجمان تھے،شریعت پر یااسلام پر یامسلمانوں پر کوئی انگلی اٹھی نہیں کوئی آفت آئی نہیں کہ مولانا مرحومؒ جواب دینے کے لیے تڑپ اٹھتے تھے۔بتایاگیا ہے کہ کیسے مولانا مسلمانوں کی تعلیمی اورسماجی پسماندگی دورکرنے کے لیے عملی جدوجہد کرتے تھے اورکیسے انتظامیہ پر دباؤڈال کر کام کرواتے تھے۔غرضیکہ یہ مضامین مولانامرحومؒ کی زندگی اوران کی خدمات پربھرپورروشنی ڈالتے ہیں۔کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا مرحومؒ کی ملی جدوجہد اورسماجی وتعلیمی خدمات کا تصویری البم شامل ہے….اورمنظوم تاثرات،تعزیتی پیغامات،خطوط اوراخباری رپورٹوںپر بھی ایک گوشہ مختص ہے۔مرتب نایاب حسن قاسمی اورادارۂ تحریر فیروزاختر قاسمی،عبدالباری قاسمی اورابواللیث قاسمی کایہ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمیؒ کو ایک سچا خراج عقیدت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*