مبارک پور نامہ (3) ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

 

RLSY College, Bettiah(BRABU.MUZ.)

 

مدرسہ اسلامیہ محمودیہ:

1926میں چند اہلِ خیر حضرات کی مخلصانہ کوششوں ، بطورِخاص زبیر تحصیلدار کے تعاون سے مجاہدِ آزادی مولوی عبد الوحید رحمانی (1885-1976)کی شب و روز کی تگ ودو کے نتیجے اور مولانا محمد علی مونگیری (1846-1927)اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی (1879-1957)کی خاص سرپرستی میں سرزمینِ مبارک پور(مونگیر اب سہرسہ) میں ایک مدرسہ قائم ہوا۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی(1851-1920) کی طرف انتساب کرتے ہوئے اس کا نام مدرسہ اسلامیہ محمودیہ رکھا گیا۔ بانیوں میں ایک خاص نام مولانا محمد یعقوب قاسمی دربھنگوی کا بھی ہے اس لیے کہ اس ادارے کو سجانے سنوارنے اور بلندیوں پر پہنچانے میں ان کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔ مدرسہ محمودیہ نے سمری بختیار پور کے پورے علاقے میں دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت اور دینی فضا ہموار کرنے میں اہم کارنامہ انجام دیا۔اس مدرسے میں وقت کے بڑے بڑے علماء ، صلحاء اور اہل ِ فضل و کمال کی تشریف آوری ہوتی رہی ہے جن میں مفتی کفایت اللہ دہلوی (1875-1952) ،سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی (1888-1959)،شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ،مجاہد ِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی (1901-1962)، مولانا منت اللہ رحمانی (1913-1951)، مولانا ابو الوفا شاہ جہاں پوری (1910-1979)، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی (1936-2002)، مولانا اسعد مدنی (1928-2006) اور مولانا محمد سالم قاسمی (1926-2018)علیہم الرحمہ وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا محمدمحمود ، مولانا نظام الدین، حافظ محمد نذیر، مولانا محمد نسیم الدین، مفتی محمد حصیر الدین، مولانا محمد یونس ()، حافظ نور الہدیٰ، مولانا انوار الحق (1953-2019)، مولانا عبد القادر رحمانی(1949-2021)، مولانا شرف الدین رحمانی ، ماسٹر محمد طاہر ، ماسٹر سید سلیم ، ماسٹر جنید، قاری محمد شعیب اور قاری سید منظر الحسن وغیرہ مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارک پور کے معروف و مقبول اساتذہ میں رہے ہیں۔

مبارک پور کے دو محلے ہیں ۔ ایک مشرقی دوسرا مغربی۔مدرسے کا محل وقوع دونوں کے بیچوں بیچ ہے اور اسی سے متصل جانب ِ شمال گاؤں کی جامع مسجد بھی قائم ہے۔ اس مدرسے کے برکتی وجود ہی کا نتیجہ تھا کہ پوری بستی کا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو قرآن کی تعلیم سے محروم رہا ہو۔اس مدرسے سے نہ صرف یہ کہ بستی کے سینکڑوں طلبہ فیضیاب ہوئے بلکہ آس پاس کے مواضعات و قصبات اور دیگر اضلاع کے طلبہ کی بھی ایک بڑی تعداد نے سیرابی حاصل کی اور ملک و بیرون ِ ملک میں زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنی خدمات فراہم کی اور آج بھی کر رہے ہیں۔

ویسے تو سینکڑوں کی تعداد میں اس کے خوشہ چیں دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور دینی ، علمی ، رفاہی اور اصلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔مولانا منظور الحسن ندوی (سابق مکھیا)،مولانا عبدالرشید(خلیفہ مجاز مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ)، مولانا فضل الرحمن رحمانی(سابق استاذ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر)،مولانا عبد الاحد قاسمی (سابق صدر جمعیۃ علماء سہرسہ)،مولانا انعام الحق مفتاحی (سابق متولی مسجد مبارک پور)،مولانا حفظ الرحمن ندوی (استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)،مولانا محمد اشتیاق صاحب (رکن شوریٰ دار العلوم دیوبند)اور مولانا محمد انظر علی شمسی(صدر جمعیۃ علماء سہرسہ) وغیرہ بھی اسی مٹی سے اگنے والے لعل و جواہر ہیں ۔ اسی طرح مولانا محمد اقبال ،مولانا نثار احمد الحصیری ،مولانا محبوب الرحمن قاسمی ،مولانا سعود عالم قاسمی ، مولانا ضیاء اللہ قاسمی اور مفتی ڈاکٹر سعد مشتاق حصیری، مولانا مرغوب الرحمن قاسمی جیسے علماء کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے۔ ان کے علاوہ بھی قدیم و جدید علماء فضلا اور مدرسہ محمودیہ کے خوشہ چینوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔لیکن اس وقت نوجوانوں میں مفتی سیف الرحمن ندوی اور ڈاکٹر مفتی شمشاد عالم قاسمی اس معنیٰ کر بھی نمایاں ہیں کہ قلم سے دونوں کی گہری وابستگی ہے اور دونوں عربی زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے بھی اسکالر ہیں ۔ ان ہی دونوں کے پیچھے پیچھے یہ فقیر بھی ہے کہ ندوی صاحب تو میرے عزیز جونئیر ٹھہرے لیکن شمشاد عرف بابر صاحب میرے لنگوٹیے یار رہے ہیں ، بیچ میں ذرا وقفہ ضرور رہا ، وہ جامعہ رحمانی مونگیر چلے گئے اور میں جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ ۔اس کے علاوہ محمودیہ سے دیوبند اور دیوبند سے دہلی یعنی جامعہ اور جے این یو تک ہم دونوں ساتھ رہے کبھی وہ آگے اور میں پیچھے اور کبھی وہ پیچھے تو میں آگے ۔ آج الحمد للہ ہم دونوں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر ڈاکٹر بن چکے ہیں ، بس فرق یہ ہے کہ میں صرف دنیا کی زبان میں اور وہ دنیا و آخرت دونوں کی زبان میں ۔