مبارک پور نامہ(1) ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

RLSY College, Bettiah(BRABU.MUZ.)

پیش نامہ :
تعلیم کی غرض سے اپنے بڑے بھائی جان قاری سید منظر الحسن صاحب کے ہمراہ جب 23 ستمبر 1993 کو پہلی بار سرزمینِ مبارک پور (ضلع:سہرسہ) پہ قدم رکھا اور مدرسہ اسلامیہ محمودیہ میں داخل ہوا تو ایک نئے ماحول سے میری شناسائی ہوئی۔ چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا، گاؤں کے اندر بھی جگہ جگہ پانی اور دروازوں کے ارد گرد بھی، راستے ٹوٹے ہوئے، گھر سے مسجداور ایک محلے سے دوسرے محلے تک رسائی بھی ایک دشوار تر امرتھا۔دیکھا کہ بہت سے ایسے بچے جنھیں ابھی صحیح سے بولنا نہیں آرہا ہے لیکن تالابوں اور پوکھروں میں بلا تکلف بطخوں کی طرح تیر رہے ہیں۔ کچھ مچھلیوں کے شکار میں لگے ہوئے ہیں تو کچھ لڑکے رات کے اندھیرے میں ٹارچ لے کر شہدکھیل رہے ہیں بلکہ گھر کی خواتین مردوں اور بچوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر چاندنی رات میں سیلابی دنیا کی سیر کر رہی ہیں،اس میں خوش گپیاں بھی چل رہی ہیں، کھان پان کا سلسلہ بھی جاری ہےاور موقع ہاتھ لگنے پر مچھلیوں کو بھی دبوچا جا رہا ہے۔
میرے کلاس روم کا یہ حال تھا کہ آسمان چھت کی سوراخوں سے ہمیں جھانک رہا ہے، نیچے فرش بھی نہر کی تصویر پیش کر رہا ہے، لاغر چوکیوں(تخت) پرہم طلبہ جھوم جھوم کر قرآن مجید یاد کررہے ہیں اور ان چوکیوں کو مزید لاغر کیے دے رہے ہیں۔ نیچے پانی میں کہیں کہیں کچھ مینڈک بھی ہماری آوازوں میں اپنی آوازیں ملا رہے ہیں گویا انھیں بھی ”حافی جی” بننے کا شوق چرایا ہو۔

مبارک پور:
سترہویں صدی میں جون پور ی برادری جون پور سے ہجرت کرکے سرزمین ِ بہار آئی۔ ابتدا میں یہ برادری علاقہ سمری بختیار پور مونگیر اب سہرسہ میں آباد ہوئی پھر بہار کے دیگر مقامات کوبھی اس برادری نے اپنا مسکن بنایا ۔ پپرا لطیف مونگیر اب کھگڑیا، ، چوسا پورنیہ اب مدھے پورا اور راج پور سبور بھاگل پور جیسے مقامات پر یہ برادری بڑی تعداد میں سکونت پذیر ہے۔ جب سے آج تک یہ لوگ اپنی معاشی ، سماجی ، لسانی اور علمی شناخت کے ساتھ ان جگہوں پر آباد ہیں۔
اسی جون پوری برادری پر مشتمل خطہ سمری بختیار پور کی ایک انتہائی ممتاز بستی مبارک پورہے۔یہاں کے زیادہ تر لوگ اہل ِ جائیداور کسان رہے ہیں ۔دھیرے دھیرے جب یہاں دینی اور تعلیمی بیدار آئی تو دینی اور عصری تعلیم میں مبارک پور نے پورے علاقے میں اپنی الگ پہچان بنائی۔جب یہاں مدرسہ قائم ہوا تو ہر ہر گھر میں حفظ ِ قرآن کی قندیلیں جلیں ، ایک گھر میں اگر تین لڑکے ہیں تو سب کے سب حافظ ِ قرآن یا کم از کم ایک حافظ تو ضرور مل جاتا ۔ پھر یہی طلبہ دیوبند و ندوہ اور علی گڑھ کا رخ کرتے اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے اور باوقار مناصب پر فائز ہوتے۔
(جاری)