معاشرے کا کنٹرول علما کے ہاتھوں سے کیوں نکل گیا؟ ـ قیام الدین قاسمی

پہلے تو علما شاہی سلطنتوں کی سرپرستی میں تھوڑا بہت معاشرے کے رخ و مزاج کو کنٹرول کر بھی لیتے تھے؛ کیوں کہ عوام بادشاہ یا اپنے جاگیردار کا حکم ماننے پر مجبور ہوتی تھی،مگر اب انڈیویجولزم (انفرادی منہج زندگی) اور لبرلزم (آزادانہ منہج زندگی) نے وہ گل کھلائے ہیں کہ یہ معاشرہ اب شتر بے مہار کی طرح شر کی جانب سرپٹ دوڑتا جارہا ہےـ

چوں کہ اللہ کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے العلماء ورثۃ الانبیاء کہہ کر اس امت کی باگ ڈور علما کے ہاتھوں میں دی ہے، تو اب یہ معاشرہ یا تو عالم کے کنٹرول میں ہوگا یا باطل کے اور آج کے عالم میں اتنا خلوص اور پختہ ایمان تو ہے نہیں کہ اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑکر خود کو امت کی خدمت کے لیے وقف کردے اور اس کی معاشی مجبوریوں نے اسے انڈیویجولزم کو اپنانے پر مجبور کردیا ہےـ ظاہر سی بات ہے جس کو یہ پتہ چلے کہ میری ترغیب و ترہیب اور حق گوئی سے میرے بیوی بچوں کے پیٹ پہ لات پڑجائے گی، روزی روٹی کے لالے پڑجائیں گے، امامت یا تدریس سے فارغ کردیا جائے گا،ایسے میں کون کسی کی اصلاح کرنا چاہے گا،اس لیے اب اکثر علما نے قوم کی فکر کرنا چھوڑ دیا ہےـ

جو علما معاشی طور فارغ البال ہیں ان کے اندر عموماً امت میں ترغیب و ترہیب کی فکر نہیں ہوتی ہے، وہ بس یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم عالم ہوگئے تو مخدومِ امت بن گئے، اب عوام چل کر آئے ہمارے پاس،ہماری خدمت کرے ہماری عزت کرے، یعنی وہ اپنے منصب کا فائدہ تو اٹھانا چاہتے ہیں، مگر اس منصب کے ساتھ آنے والی ذمے داریوں کا نہ تو انہیں احساس ہے اور نہ ہی اقدامات ـ

اب جو بچے کھچے علما ہیں جو ترغیب و ترہیب کا کام اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور کرتے بھی ہیں انہوں نے ترغیب و ترہیب کے مفہوم کو ہی محدود کیا ہوا ہے، ان کے نزدیک ترغیب و ترہیب کا مفہوم بس یہ ہے کہ زبان سے ان کو فضائل اور وعدے وعید سنادو بس اپنی ذمے داری سے عہدہ بر آ ہوگئے، ہم نے وارث نبی ہونے کا حق ادا کردیا،
نہ کوئی عملی اقدام، نہ نفسیاتی طور پر قائل کرنے کے حربوں کی خبر ، نہ تو موجودہ معاشرے کی حقیقی مشکلات و مسائل کی خبر اور نہ ہی ان کے حل کی تدابیر ملحوظ نظر ـ بس وہی قرآن کی آیت و انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین اور حب الدنیا و کراھیۃ الموت جیسی حدیثیں ہمارے نزدیک مسائل اور ان کے حل کا مبتدا و منتہا ہوتی ہیں ـ
ہمیں یہ نہیں سمجھ میں آتا کہ قرآن و حدیث نے یہ مسائل و حل عمومی بتلائے ہیں، جو ہر زمانے پر صادق آتے ہیں،مگر صرف یہی مسائل ہوں گے اور صرف یہی حل ہوں گے یہ ہمارے اپنے ذہن کی اختراع ہے اور یہی ذہنیت پھر علما کو سوچنے سمجھنے غور فکر کرنے سے ان کے ذہنوں کو روکے رکھتی ہےـ
اگر ہر زمانے کے الگ الگ مسائل نہ ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہزارے اور ہر صدی پہ ایک مجدد کے وجود کی خبر ہمیں نہ دیتےـ

اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں آتا تو اٹھئے اور اپنے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے پاس جائیے اور اس سے پوچھئے کہ آپ کے علاقے کے مسائل کیا کیا ہیں اور ان کے حل کیا ہیں؟ یقین جانیں نوے فیصد حضرات ان مسائل کی صحیح تشخیص سے قاصر نظر آئیں گے، کیوں؟ کیوں کہ ہم نے بس قرآن و حدیث کے جان لینے اور اس کے ذریعے زبانی ترغیب و ترہیب کو کافی سمجھ لیا ہےـ نیز کبھی ہمیں یہ بتلایا اور پڑھایا ہی نہیں گیا کہ معاشرے کی تبدیلی میں کون کون سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں،معاشرے کی ذہنیت، رخ اور مزاج کو بدلا کیسے جاسکتا ہے، اب عالم ہارڈ وئیر کے دماغ سافٹ وئیر میں ہمارے اداروں سے جیسی سیٹنگ ڈالی جائے گی ویسے ہی نتائج برآمد ہوں گے نا ـ

اور دوسری جانب باطل ہے جو اپنی مشنریاں بناکر ہزاروں لوگوں کی معاشی کفالت کرکے ذہنوں کو بدلنے، معاشرے کو بدلنے کے پیچھے کارفرما عوامل سے صرف واقف ہی نہیں ہورہا، بلکہ ریسرچ کرکے نت نئے عوامل کو دریافت کرنے میں مصروف ہے، تو اب معاشرہ اس کے کنٹرول میں نہ جائے تو کس کے کنٹرول میں جائے، قضیۃ و لا ابابکر لھاـ

یاد رکھیں و اما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض یہ فطرت کا اصول ہے،جس کا اطلاق سب پر ہوتا ہے پھر اس کے بعد امت مسلمہ کے لیے و أنتم الاعلون ان کنتم مؤمنین کی ایک مزید قید کا اضافہ کیا گیا ہےـ اب اگر علما یہ سوچتے ہیں کہ فطرت کے دیگر اصولوں اور عوامل کو نظر انداز کرکے محض مومن بن کر دنیا اور معاشرے کا کنٹرول حاصل کرلیں گے تو :
ایں خیال است و محال است و جنوں