معاملہ امیر الہند کا ـ عبداللہ ممتاز

 

حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کی وفات کے بعد ادھر "امیر شریعت” کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا تھا کہ حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم "امیر الہند” منتخب ہوگئے، تب سے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے، ہمارے جواں سال علما اور اصحاب فکر وقلم مسلسل اپنی خامہ فرسائیاں کر رہے ہیں، کوئی انھیں ماب لنچنگ رکوانے کے لیے خط لکھ رہا ہے تو کسی کا مطالبہ ہے کہ وہ آر ایس ایس کو دہشت گرد گروپ ڈکلیر کروا دیں، کوئی ان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اساتذۂ مدارس کی ایک بڑی تعداد سال بھر سے زائد سے تنخواہوں سے محروم ہیں، ان کی تنخواہوں کا نظم کردیا جائے، کوئی امید لگائے بیٹھا ہے کہ امیر الہند این آر سی اور سی اے اے کے نفاذ پر بندش لگانے کا مطالبہ کریں گے اور بس بندش لگ جائے گی، کوئی انھیں ظالم حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایکشن لینے کی توقع رکھ رہا ہے اور کسی کے خیال میں یوپی الیکشن میں اپنی گرفت مضبوط بناکر ظالم حکومت کا پنجہ مروڑ دےـ

لوگوں نے لفظ "امیر الہند” کا مطلب شاید امیرالمؤمنین ٹائپ کوئی عظیم عہدہ سمجھ لیا اور پھر اپنے سمجھے ہوے معیار پر امیر الہند کو اتارنے لگے اور اپنے مفروضہ کسوٹی پر امیر الہند کو نہ پاکر پھر طعن وتشنیع، تضحیک وتفضیح اور بدظنی وبدگمانی کرنے لگتے ہیں ـ

 

امیر الہند /امیر شریعت کا مطلب کیا ہے؟

فقہا کی رائے یہ ہے کہ جہاں باضابطہ اسلامی خلافت اور اسلامی نظام عدل نہ ہو اور مسلمان کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہتے ہوں وہاں اپنے مسلمانوں میں سے بہتر کو اپنا امیر مقرر کرلے (یہاں تک کہ اگر تین لوگ سفر کر رہے ہوں تو ان ہی تین میں سے جو بہتر ہو انھیں امیر مقرر کرلے) اور اپنے باہمی نزاعات اور معاملات کا حل غیر مسلم عدالت میں حل کرانے کے بجائے ان امیر کی عدالت میں حل کرائے؛ خصوصا نکاح اور فسخ وطلاق کے بعض ایسے اہم مسائل ہیں کہ غیر مسلم عدالت کا فیصلہ مسلمان کے حق میں نافذ ہی نہیں، مثلا کسی کا شوہر بیوی کو خرچہ نہیں دیتا یا بہت مارتا پیٹتا ہے اور طلاق دینے کو بھی تیار نہیں، ایسے میں عورت کے حق میں اگر غیر مسلم عدالت/جج اس عورت کے لیے طلاق فسخ نکاح کا فیصلہ کردے تو وہ شرعا نافذ نہ ہوگا، اس لیے دارالقضاؤں/شرعی پنچایت کی شدید ضرورت ہے، ظاہر ہے جہاں لاکھوں کروڑوں مسلمان رہتے ہوں وہاں سب کے مسائل امیر خود حل کیا کرے یہ ممکن نہیں ہے، اس کے لیے امیر کے حکم سے دارالقضاؤں کا نظام برپا ہو، مسلمان اس امیر کی اطاعت کیا کرے اور اپنے مسائل ان ہی دارالقضاؤں میں حل کرایا کرے.

شرعی پنچایت اور بہار اسٹائل دارالقضاء مستقل ایک علمی بحث ہے، اس میں پڑے بغیر سیدھے سادے انداز میں سمجھیے تو ہندوستان بھر میں جہاں کہیں بھی "شرعی پنچایت” کا نظام ہے اس کے سربراہ "امیر الہند” اور جہاں کہیں دارالقضا کا نظام ہے اس کے سربراہ "امیر شریعت” کہلاتے ہیں ـ

میری معلومات میں اترپردیش اور اتراکھنڈ کے علاوہ ایک آدھ ہی جگہ شرعی پنچایت کا نظام ہے جس کے سربراہ امیر الہند ہوا کرتے ہیں، اس کے علاوہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ میں دارالقضا کا نظام ہے جس کے سربراہ امیر شریعت کہلاتے ہیں، آسام میں بھی دارالقضاء کا نظام ہے؛ لیکن وہ بہار کے دارلقضاء کے ماتحت نہیں ہے، اس لیے آسام پیمانے کے الگ امیر شریعت ہوا کرتے ہیں، آندھرا پردیش میں بھی دارالقضا کا نظام ہے، وہ بھی خود مختار ہے، اس لیے وہاں بھی ایک عدد امیر شریعت ہیں اور مزے کی بات بتاؤں کہ حیدرآباد اکیلے شہر میں میری معلومات میں تین امیر شریعت ہےـ

یعنی جو بھی دارلقضا یا شرعی پنچایت کا نظام برپا کرے اور وہ اس کا سربراہ بن جائے وہ امیر شریعت/ امیر الہند ہےـ ایسے میں محض لفظ سے دھوکا کھا کر کسی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنا اور پھر امید پر کھرا نہ پانے کی صورت میں طعن وتشنیع کا بازار گرم کرنا، چغلی غیبت کرنا اور حمایت ومخالفت کے چکر میں آپس میں دست وگریباں ہونا کون سی دانشمندی ہےـ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہلے ایک مفروض تیار کرتے ہیں اور پھر اس کے خلاف خوب لکھتے اور اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرتے ہیں ـ

اگر آپ کو لگتا ہے کہ امیر شریعت/امیر الہند آپ کے معیار کے نہیں ہیں تو آپ بھی عوام کا اعتماد حاصل کیجیے اور دو چار دارالقضا کھول کر امیر شریعت اور امیر الہند بن جائیے؛ لیکن یوں فضول کی باتوں میں اپنی صلاحیتوں اور قیمتی وقت کو ضائع کرنا تو اچھی بات نہیں ہے. اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائے.