معاشرتی اصلاح اور اسٹڈ ی سرکل کا قیام-ڈاکٹر مشتاق احمد

 

موبائل:9431414586

کسی بھی قوم کی شناخت کا ضامن اس کا معاشرہ ہوتا ہے کیوں کہ فرد کی کردار و ذہن سازی میں معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لئے تمام ماہرین سماجیات اور سماجی مصلحین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر صالح انسان کا تصور ذہن میں ہے تو سب سے پہلے مثالی معاشرہ بنانا ہوگا۔ جہاں تک مذہب اسلام کا سوال ہے تو تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اسلام نے سب سے زیادہ زور انسان کی کردار سازی پر دیا ہے۔ صالح انسان کا تصور پیش کیا ہے اور مثالی معاشرے کی تشکیل کے راستے بتائے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم نے اپنے مذہبی تقاضوں کو پورا کرنے میں کہیں نہ کہیں کوتاہیاں کی ہیں۔ نتیجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ طرح طرح کے انتشار کی آماجگاہ بن گیا ہے اور ہماری شناخت مسخ ہو کر رہ گئی ہے۔ مثلاً مذہب ِ اسلام آپسی اتحادو بھائی چارہ کا ابدی پیغام دیتا ہے اور متنازعہ زندگی سے دور رہنے کا سبق دیتاہے۔ لیکن آج اپنے آس پاس پر نظر دوڑائیے تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ ہم نے اسلام کے اصلاحی پیغامات و اسباق کو کس قدر فراموش کر رکھا ہے۔ آج ہمارے سماج میں جہیز جیسی لعنت کی وجہ سے کتنی برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں اور ناخواندگی نے ہماری زندگی کو کس قدر اذیت ناک بنا چکی ہے۔ وطن عزیز ہندوستان میں ہماری آبادی پندرہ فیصد ہے۔ لیکن کبھی کورٹ کچہری کا معائنہ کیجئے تو افسوسناک تصویر نظر آئے گی کہ وہاں کی بھیڑ میں ۳۰ سے ۴۰ فیصد کی حصہ داری ہماری ہے۔ اور یہ حقیقت تو اور بھی غمناک ہے کہ ان چھوٹے بڑے مقدمے خاندانی ہیں یعنی ایک بھائی دوسرے بھائی سے برسوں سے مقدمہ لڑ رہے ہیں تو کوئی بہن اپنی موروثی جائیداد میں حصہ داری کے لئے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوئی ہے۔ معمولی تنازعے کی وجہ سے طلاق کے مقدمے کی بھی کمی نہیں اور آپسی دشمنی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات کی تعداد بھی کم نہیں ہیں۔

غرض کہ مذہب اسلام نے جو ایک صالح معاشرے کا تصور پوری دنیا کو دیا ، اس پر خود ہم مسلمان عمل پیرا نہیں ہیں۔ جبکہ روز مذہبی اجلاس میں یہ درس دیا جاتا ہے کہ آپ حضور اکرم صلہ علیہ وصلم نے سب سے زیادہ زور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل پر دیا ہے۔ تاکہ انسان کی زندگی عافیت بخش ہو سکے اور ایک انسان دوسرے کے لئے باعث راحت بن سکے۔لیکن سچائی اس کے برعکس ہے۔ نتیجہ ہے کہ معاشرتی بگاڑ نے ہماری زندگی کے امن و چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہم آپسی سازشوں کی وجہ سے اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اوروں سے مقابلے کرنے کا حوصلہ جاتا رہا۔ ایک طرف ہماری شناخت کو مسخ کرنے کی کوششیں اوروں کی طرف سے مسلسل ہوتی رہی ہیں کہ وطن عزیز میں ایک خاص فکر و نظر کے لوگوں نے مسلمانوں کی زندگی کو اذیت ناک بنانے کے عمل کو اپنا وطیرہ بناچکے ہیں۔ تو دوسری طرف ہم خود آپس میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ایسی صورت میں اگر ہم دنوں دن پسماندگی کے شکارہو رہے ہیں تو اس کے لئے دوسروں سے کہیں زیادہ ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے ہمیں خود احتسابی عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا ۔ جہان عالم کے آئینے میں اپنی تصویر دیکھنی ہوگی کہ ہمارا چہرہ کس قدر داغدار ہوتا جارہا ہے اور ہم قرآن و حدیث کے اسباق سے کتنے دور نکل چکے ہیں۔ ہماری منزل ہم سے دور ہوتی جارہی ہے اور ہم اس کے لئے دوسروں کو موردِ الزم ٹھہرا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز ہندوستان میں حالیہ تین چار دہائیوں میں منافرت کی فضا پروان چڑھی ہے۔ہمارے تئیں ذہنی تعصبات و تحفظات بھی بڑھے ہیں لیکن ان وجوہات سے کہیں زیادہ ہمارے لئے خسارے کا باعث اپنا اعمال و کردار ہے۔ ظاہر ہے کہ فرد کے اعمال و کردار میں جب تضاد پیدا ہوجاتا ہے تو پھر فرد کی جماعت یعنی معاشرے کے اندر انتشار و اضطراب کا پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں ۳۰ سے چالیس سال کی لڑکیاں نکاح سے محروم ہیں تو اس کی واحد وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے نکاح جیسی آسان اور بابرکت سنت کو مشکل بنا دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ ہے جو شادی بیاہ کی رسم کو اپنی شان و شوکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ظاہری چمک دمک کے لئے لاکھوں خرچ کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں کی ہے جن کے لئے بچیوں کی شادی ایک بڑا معاشی مسئلہ اختیار کر گیا ہے۔ ہم ان مسئلوں سے آخر کب تک آنکھ چراتے رہیں گے؟

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی معاشرتی زندگی کا محاسبہ کریں اور مذہب اسلام نے جس مثالی معاشرے کا تصور پیش کیا ہے ، اس کی تشکیل کے لئے آگے آئیں۔ اگر ہر فرد یہ طے کر لے کہ اس کی ذات سے دوسرے کا بھلا ہونا ہے تو خود بخود ہمارے معاشرے سے تمام تر تنازعے کافور ہو جائیں گے اور آپسی اتحاد و محبت کی فضا سازگار ہو جائے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کورٹ کچہری میں ہماری تعداد کم ہو جائے گی۔ ہمارے معاشرے میں جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ ہو جائے گا اور عافیت بخش زندگی مقدر بن جائے گی۔

معاشرتی بگاڑ کو دور کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی ناخواندگی کو دور کرنے کی مہم چلائیں اور تعلیم یافتہ افراد تعمیری فکرو نظر فروغ دیں تاکہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسی فضا قائم ہو کہ ہر شخص تعلیم کی روشنی سے منور ہو سکے۔ عصری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے معیاری تعلیم کی مہم چلائیں اور اہل ثروت افراد اپنے آس پاس کے پسماندہ اور غریب طبقے کے ذہن بچوں کی تعلیم کے مسائل کو حل کریں۔ آج گائوں اور دیہی علاقوں میں سرکاری اسکول کھولے جارہے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں ناخواندگی کا گراف جس رفتار سے کم ہونا چاہئے ، نہیں ہو رہا ہے۔ جبکہ برادار وطن نے اپنی ترقی کی کنجی تعلیم کو سمجھ کر اپنی منزل کو پہنچ رہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے سنجیدہ افراد اپنے سماجی فریضہ کو انجام دیں تاکہ ان غریب و نادار بچوں کو بھی تعلیم کی روشنی مل سکے۔اس کے لئے ایک نسخہ یہ بھی اپنایا جاسکتا ہے کہ قصبائی اسٹڈی سرکل کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یعنی جس گائوں میں دو چار پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اپنے خرچ سے اخبار و رسائل منگوائیں اور ان بچوں کو اس طرف راغب کریں کہ وہ اس استفادہ کریں۔ اس سے ایک ساتھ دوفائدے ہوں گے ۔ اول تو ان بچوں کو اخبار و رسائل کی سہولت فراہم ہو جائے گی جو معاشی مسئلے کی وجہ سے اخبار و رسائل نہیں خرید سکتے ۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ گائوں دیہات کی چائے پان کی دکانوں پر جو بچے نظر آتے ہیں ۔ ان کے لئے تعمیری فکر کے ساتھ یکجا ہونے کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کے فکر و نظر سے آگاہ ہو سکیں گے اور ان کو عصری موضوعات پر تبادلۂ خیال کا موقع مل سکے گا۔ کیوں کہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ دیہی علاقے کے طلبہ عصری موضوعات و مسائل سے آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجہ ہے کہ جب وہ ملازمت کے لئے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لئے شہر کا رُخ کرتے ہیں تو وہ عام معلومات سے بھی محروم رہتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں شروع میں ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ابتدائی سطح سے ہی انھیں یہ سہولت میسر ہوجائے کہ وہ اپنے گائوں میں بھی رسائل و جرائدسے آشنا رہیں تو عام معلومات سے محروم نہیں رہیں گے اور ان کے لئے آگے کا راستہ آسان ہو جائے گا۔ کیوں کہ بہت سے ذہین طلبہ بھی محض اس لئے ناکام ہو جاتے ہیں کہ ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر قصبائی اسٹڈی سرکل کا قیام ہو اور تعلیم یافتہ افراد ان کی رہنمائی کریں تو بروقت وہ اپنے مستقبل کا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔ واضح ہو کہ چھوٹے چھوٹے سے قصبہ میں بھی درجنوں چائے خانے کھلے ہیں لیکن کہیں بھی دارالمطالعہ نظر نہیں آتا۔ اگر گائوں کے چند اہل ثروت و بصیرت افراد اپنے اخراجات سے گائوں میں ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کردیں تو شہر سے دور مضافات میں بھی تعلیمی ماحول سازگار ہو سکتا ہے اور ہمارے معاشرے کی ایک نئی تصویر سامنے آسکتی ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے اور اس پر سنجیدگی سے غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ تقاضائے عہد یہی ہے۔ واضح ہو کہ جو قوم عصری تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے وہ پسماندگی کا شکار ہو جاتی ہے اور ان کے لئے طرح طرح کے مسائل دنوں دن بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں دیگر طبقوں کی طرح ہم بھی ترقی کی رفتار میں شامل ہوں تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی اصلاح کو اولیت دیں اور تعلیمی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے قصبائی سطح سے کوشش شروع کریں کہ تعلیمی ماحول سازگار ہو سکے۔