ایم پی:متنازعہ بیان کے بعد کمل ناتھ کی صفائی،ممبر اسمبلی کا نام یاد نہیں آرہا تھا،امرتی نے کہا:کرسی گئی،تو بدحواس ہوگئے

بھوپال:مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی کمل ناتھ کی ریاستی بہبودی خواتین و اطفال وزارت کی وزیر امرتی دیوی کے بارے میں دییے گئے متنازعہ بیان نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ، جیوتی رادتیہ سندھیا ، وزیر داخلہ نوروتم مشرا سمیت متعدد رہنما مختلف شہروں میں احتجاج کررہے ہیں ۔ امرتی دیوی نے کانگریس کے ورکنگ صدر سونیا گاندھی سے کمل ناتھ کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کردیا ہے ، جبکہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ کانگریس کو اس مسئلہ پرمعافی مانگنی چاہیے۔امرتی دیوی نے مزید کہا کہ (کمل ناتھ) بنگال کے ہیں، انہیں خواتین کی تکریم کا علم نہیں ہے ، کرسی چلی جانے سے بدحواس ہوگئے ہیں ۔ادھر اس معاملہ پر وضاحت دیتے ہوئے سابق وزیراعلی کمل ناتھ نے کہا کہ ’آئٹم‘ توہین آمیز لفظ نہیں ہے۔ ممبر اسمبلی کا نام یاد نہیں تھا ، اس لیے وہ اس لفظ کا تکلم کر گئے ۔ خیال رہے کہ کمل ناتھ اتوار کو ڈبرا کے انتخابی جلسہ میں امرتی دیوی کو ’آئٹم ‘ کہا تھا ۔ اس کے احتجاج میں پیر کو، شیو راج پرانی اسمبلی میں گاندھی کے مجسمے کے سامنے خاموش احتجاج پر بیٹھے تھے۔قومی خواتین کمیشن کی چیئرمین ریکھا شرما نے ٹوئٹ کیا کہ کمل ناتھ کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ایک خط بھی لکھا گیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان کے کے مشرا کا کہنا ہے کہ کمل ناتھ نے کسی بھی خاتون کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا گاندھی خاندان کمل ناتھ کے خلاف کارروائی کرے گا۔ چاہے وہ کمل ناتھ ہوں یا دگ وجے سنگھ ، یہ وہ لوگ ہیں، جو گاندھی خاندان کے باورچی خانہ کا چولہا پھونکتے ہیں ۔شیو راج نے کہا کہ میں اپنی توہین برداشت کروں گا ، لیکن آج کمل ناتھ نے ناانصافی کی ہے ، گوالیار چمبل کی مٹی کی ایک بیٹی کی توہین کی ہے۔ادھر چیف منسٹر شیوراج نے سونیا گاندھی کے نام ایک مکتوب لکھا ہے ۔اتوار کے روز سابق وزیر اعلی کمل ناتھ کانگریس امیدوار سریش راجے کی حمایت میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرنے کےلیے گوالیار ضلع کی ڈبرا پہنچے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بی جے پی امیدوار اور وزیر امرتی دیوی کے ’’آئٹم‘‘ لفظ کا تکرار کیا تھا ۔