مدھیہ پردیش کی خاتون وزیر کا متنازعہ بیان:نفرت پھیلانے والے مدرسے بند کیے جائیں

اندور:مدھیہ پردیش میں ان دنوں بیانات پر کافی ہنگامہ برپا ہے۔ متنازعہ بیانات مسلسل جاری ہیں۔ اسی معاملے میںشیو راج سنگھ حکومت کی وزیر اوشا ٹھاکر کی طرف سے ایک متنازعہ بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ملک کے مدرسوں کو بندکرنے کی وکالت کی ہے۔ اوشا ٹھاکر نے کہا کہ کھانا ہر ایک لیے دستیاب ہونا چاہئے، مگرآئین کی الگ تعریف کرنا، بچے بچے ہوتے ہیں ، طلباء طلباء ہوتے ہیں مگر سب کی مجموعی تعلیم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب پر مبنی تعلیم بنیاد پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔مدھیہ پردیش کی وزیر کا کہنا ہے کہ مدرسے نفرت پھیلا رہے ہیں اور تمام بچوں کو اجتماعی تعلیم دی جانی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں ٹھاکر نے کہا کہ ثقافت کیا سکھاتی ہے؟ اگر آپ اس ملک کے شہری ہیں، تو پھر آپ دیکھیں گے کہ تمام دہشت گردمدارس ہی سے پروان چڑھتے ہیں۔ انھوں نے جموں و کشمیر کو دہشت گردوں کی فیکٹری بناکر رکھ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آسام میں مدرسہ بند کرکے یہ ظاہر کردیا گیا ہے کہ جو بھی قوم پرستی میں رکاوٹ بنے گا، اس اس کے خلاف قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے کی سرکاری مدد بند کی جائے