ایم پی : ہجوم کے ہاتھوں پیٹے گئے شخص کے خلاف ہی 9 سنگین دفعات میں مقدمہ درج

 

اندور: اندور میں چوڑیاں بیچنے والے ایک نوجوان پر حملے کے معاملے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ ملزم گولو عرف تسلیم علی کے خلاف پاکسو ایکٹ سمیت نو سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے پیر کی شام اس شخص کو ایک 13 سالہ اسکولی طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور کاغذات جعل سازی کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ چھٹی کلاس میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے بننگا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے کہ اتوار کی سہ پہر تسلیم علی (25) اپنانام گولو بن موہن سنگھ بتا کر چوڑیاں بیچنے اس کے گھر آیا اور اسے اسے خوبصورت بتاتے ہوئے بری نیت سے اس کے جسم کو چھوا۔عہدیداروں نے بتایا کہ نابالغ لڑکی نے شکایت میں کہا کہ جب اس کی والدہ علی کے پاس پہنچی، تو اس نے اس فعل کوروکا، چوڑی بیچنے والے نے مبینہ طور پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر بھاگنے لگا لیکن پڑوسیوں نے اس کا پیچھا کیا۔ انہوں نے ایف آئی آر کے حوالے سے بتایا کہ علی کے جلدبازی میں چھوڑدئے گئے ایک بیگ میں دو آدھار کارڈ ملے تھے اور ان میں سے ایک میں اس کانام اسلم بن مورسنگھ چھپاہے، جبکہ دوسرے آدھار کارڈ پر تسلیم بن مہر علی چھپا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ بچی کی شکایت پر علی پر تحفظ اطفال جنسی جرائم ایکٹ (پاکسو ایکٹ) اور سیکشن 420 (دھوکہ دہی)، 471 (جعلی دستاویز کو اصل کے طور پر استعمال کرنا) اور تعزیرات ہند کی دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دریں اثنا ریاستی کانگریس کے ترجمان امین خان سوری نے ٹویٹر پر 44 سیکنڈ کی ایک ویڈیو جاری کی، جو کہ اترپردیش کے ضلع ہردوئی کے رہنے والے والے چوڑی بیچنے والے کی ہے۔ اس ویڈیو میں چوڑی بیچنے والے نے کہاکہ میرے گاؤں میں برسوں پہلے بنائے گئے آدھار کارڈ میں میرا بول چال کا نام بھورا لکھا گیا تھا، جبکہ بعد میں بنائے گئے آدھار کارڈ میں میرا نام تسلیم علی لکھا گیا تھا۔ ان میں سے کوئی آدھار کارڈ جعلی نہیں ہے اور یہ دونوں حقیقی ہیں۔