مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی:سوانحی نقوش-نظام الدین محی الدین

گوہرِاشک ترے در پہ نچھاور کر دوں
میرے دامن میں نہیں کچھ بھی عقیدت کے سوا

حضرت مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی رحمة الله عليه نے شمالی بہار کے ضلع مدھوبنی کی علمی ، ادبی ، تہذیبی و ثقافتی بستی ململ میں 1945 میں اپنی آنکھیں کھولی ، آپ کی نشو و نما ایک متوسط گھرانے اور علمی ماحول میں ہوئی ،
آپ نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی ایک قدیم مکتب چشمہ فیض میں حاصل کی، آپ کے ابتدائی اساتذہ میں گاؤں کے ہی ایک نامور اور مشہور زمانہ شاعر حافظ محمد عقیل صاحب عاقل ، اور حافظ محمد اسماعیل صاحب رحمہما اللہ کے نام قابل ذکر ہیں، ابتدائی تعلیم کے بعد حفظ قرآن پاک کے لئے مونگیر تشریف لے گئے اور جناب قاری بخاری صاحب رحمہ اللہ کے زیر نگرانی آپ نے حفظ قرآن پاک کی تکمیل کی ، جبکہ اس وقت آپ کی عمر صرف 12 سال کی تھی ـ
تکمیل حفظ قرآن پاک کے بعد عربی تعلیم کے حصول کے لیے آپ نے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کا ارادہ فرمایا، اور وہاں آپ نے ابتدائی ششم سے عربی سوم تک کی تعلیم حاصل کی ، مشہور زمانہ اور نابغہ روزگار شخصیات کے سایہۂ عاطفت میں رہ کر علمی و ادبی تشنگی کو دور کرتے رہے ـ
مونگیر کے زمانۂ طالب علمی میں آپ کے مشہور اساتذۂ کرام میں عالمی شہرت یافتہ فقیہ، عالم ربانی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ کے علاوہ مولانا یحی صاحب رحمہ اللہ اور مولانا ابو اختر قاسمی کے نام شامل ہیں،مونگیر کے قیام کے دوران امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ آپ پر اپنی خاص توجہ و عنایت فرما تے تھے ،آپ ان کے منظور نظر رہے ، جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے بعد ایک سال آپ نے مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں بھی تعلیم حاصل کی ۔

1962 میں آپ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ کے مشورہ پر ازہر ہند دارالعلوم دیو بند تشریف لے گئے اور مکمل پانچ سالوں تک وہاں رہ کر جلیل القدر علما، اجلۂ اساتذۂ کرام سے تعلیم حاصل کی اور 1967 میں دارالعلوم سے سند فراغت حاصل کی ـ
سنہ1969 کی بات ہے جب آپ نے گاؤں کے ایک قدیم مکتب چشمہ فیض میں تدریسی زندگی کا آغاز کیا ، دو سال تک آپ اس مکتب میں بحیثیت ایک مدرس پڑھاتے رہے ، پھر 1971 میں آپ کو اس مکتب کا صدر مدرس مقرر کردیا گیاـ
مکتب چشمہ فیض گاؤں کا ایک قدیم مکتب تھا ،جس کی مچھلی شہر جونپور کے ایک بزرگ صفت عالم دین حضرت مولانا عبد الباری مچھلی شہری جونپوری رحمہ اللہ نے 1246 ہجری مطابق 1823 میں بنیاد ڈالی تھی اور سالوں سے یہ مکتب ابتدائی تعلیم کا ٹمٹماتا چراغ تھاـ
سنہ 1975 میں ململ کے دور رس بزرگوں نے اس وقت کے فعال و متحرک نوجوان مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی نور اللہ مرقدہ کو اہتمام کی غیر معمولی ذمے داری سپرد کی ـ
یہ وہ سال تھا جب چراغ سحر کی طرح ٹمٹماتے چراغ کی شکل میں موجود اس قدیم ترین مکتب چشمۂ فیض کی لو اچانک تیز ہوگئی اور اس کے مقدر کا ستارہ طلوع ہواـ مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی کے مہتمم بننے کے روز اول ہی سےچشمہ فیض ململ کی نشأة ثانية کا عمل شروع ہواـ
مہتمم کی ذمہ داری سنبھالتے ہی آپ نے اس کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا ، علاقے کا دورہ کرکے لوگوں کو علوم اسلامیہ اور مدارس کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کیا ، اس کے حلقے بڑھائے، اہل رائے اور بہی خواہوں سے رائے طلب کی ، اور مختلف زاویوں سے اس کی ترویج و اشاعت کے ساتھ تعلیمی معیار کو بڑھایا اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ کے اشارے پر عربی درجات کا سلسلہ شروع فرمایا ۔
سنہ 1992 پورے متھلانچل کے لئے خصوصا اور پورے بہار کے لئے عموما ایک تاریخی دن تھا ، جب آپ نے مدرسہ چشمۂ فیض ململ کا باضابطہ تعلیمی الحاق عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم ندوہ العلما سے کرایا ، جس کے بعد مدرسہ چشمۂ فیض ململ ریاست بہار کا روشن و تابناک منارۂ علم و عرفاں بن گیا ، بہار سمیت سمیت نیپال و بنگال سے بڑی تعداد میں طالبان علوم نبوت جوق در جوق یہاں آنے لگے اور پھر یہ ادارہ ایسا جیتا جاگتا علم و آگہی کا مرکز بنا کہ پورا علاقہ اس کی روشنی سے جگمگا اٹھا،موجودہ وقت میں یہ ادارہ تحفیظ قرآن پاک کے علاوہ عالیہ ثانیہ( عربی ششم ) تک کی تعلیم کا اہتمام کرکے نسل نو کو سنوارنے اور سجانے میں مشغول ہے ۔
سنہ 1992میں ہی آپ نے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں اور تجربوں کے بعد صنف نازک کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ فرمائی اور جامعہ فاطمة الزہرا کے نام سے ایک مستقل ادارہ کا قیام فرمایا،جو علاقے کا سب سے پہلا عورتوں کی تعلیم و تربیت کا مرکز بنا ، آپ نے دینی و عصری علوم کا ایسا سنگم تیار کیا کہ سینکڑوں کی تعداد میں بچیاں یہاں رہ کر کسب فیض کرتی ہیں ـ
موجودہ وقت میں جامعہ فاطمة الزہرا ململ ابتدائی تعلیم سے بخاری شریف تک کی تعلیم کا اہتمام کرتا ہے ۔اب تک سینکڑوں کی تعداد میں بچیاں ردائےفضیلت حاصل کرچکی ہیں ۔
یہ دونوں ادارے مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی نور اللہ مرقدہ کی نمایاں خدمات میں سے ہیں، جن کی آپ نے زندگی بھر آبیاری کی اور لہلہاتا ، پھلتا پھولتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔
اللہ پاک آپ کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ـ اب یہ ادارے قوم و ملت کی امانت ہیں جسے حضرت مرحوم نے اپنے اخلاف کے سپرد کر کے دنیا کو الوداع کہا:
کیفیتِ چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا مَیں

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*