مولانا معزالدین،جنھیں کتابوں سے عشق تھا- محمد شہاب الدین قاسمی

ناظم اعلیٰ جمعیةعلماءجھارکھنڈ

حضرت مولانا سید اسجد مدنی کے ذریعہ سے پچھلے دو روز سے جناب مولانا معزالدین قاسمی ؒ کی بگڑتی طبیعت کے سلسلہ میں معلومات ملتی رہیں تا آنکہ آج گیارہ بجے دن حضرت مولانا کے فون کی گھنٹی بجی اور فرمایا! کہاں ہو تم؟ میں نے جواب دیا گھر میں، فرمایا! اپنا واٹسپ کھولو! اپنے واٹسپ میں جناب مفتی عفان منصور پوری کی طرف سے ”افسوس ناک خبر“میں جناب مولانا معز الدین قاسمیؒ ناظم امارت شرعیہ ہند و سکریٹری ادار ة المباحث الفقہیہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پڑھ کر گہرا صدمہ پہنچا۔مولاناؒ کے انتقال کی خبر سنتے ہی پچھلے پچیس سالہ علمی اور تنظیمی رفاقت،اکابر و اسلاف کے تذکروں پر مشتمل نشستیں اور جمعیة علماءہند کے سلسلہ میں نہ جانے کتنی یادیں دل و دماغ میں یکے بعد دیگرے تازہ ہوتی گئیں اور ان یادوں کا نقش ابھر کر سامنے آنے لگا،راقم سطور اورجناب مفتی عمیر عالم قاسمی اگر چہ مولاناؒ کے مدتوں بعد جمعیة علماءہند کے دفترآئے، نیز عمر و لیاقت کسی اعتبار سے ہم ان کے برابر نہیں تھے، تا ہم مولانا ؒ اور مولانا عبد الحمید نعمانی اپنی علمی نشستوں کا نہ صرف ہمیں حصہ بناتے بلکہ قابل قدر مقام بھی دیتے، جس کی وجہ سے ہم لوگ بے تکلف ہر مسئلہ پر کھل کر بحث کرتے۔ّّآج سے پچیس سال پہلے میرا جمعیة علماءہند کے دفتر اصلاح معاشرہ میں تقرر ہوا،دار العلوم دیوبند سے پڑھ کر آیا تھا، کتابیں تازہ تھیں، مطالعہ اور پڑھنے کا ذوق طبیعت کا حصہ تھے،دفتر آکر جناب مولانا معزالدین قاسمیؒ کی علمی، فکری شخصیت اور نعمانی صاحب کے ذوق مطالعہ نے اسے مزید تقویت دی، چنانچہ اس زمانہ میں ایک آدھ مضمون ہفت روزہ الجمعیة میں شائع ہوجایا کرتا تھا اور یہ دونوں اکابر اس سلسلہ میں اپنی رائے اور تائید و حوصلہ افزائی کے کلمات کہتے۔مولانا معز الدین قاسمیؒ ایک صاف گو،اپنی رائے اور موقف پر جمنے والے، اکابر کی روایات کے امین، انکے علمی ورثہ کے محافظ اور جمعیة علماءہند کی تاریخ ان کے حافظہ میں اس طرح محفوظ تھی کہ جس گوشہ سے متعلق ان سے پوچھا جاتا وہ بلا تامل معتبر و مستند کتابوں کے حوالوں سے اسے بیان کر دیتے،حضرت مولانا سید اسجد مدنی بارھا فرمایا کرتے تھے کہ”جب بھی مجھے کسی مسئلہ میں اشکال اور تردد ہوتا اور مولاناؒ سے پوچھتا تو یا تو اسی وقت یا چند منٹوں میں اس کی تفصیلات و متعلقات سے آگاہ کر دیتے“ جمعیة علماءہند کی تاریخ کے سلسلہ میں گویا وہ ذخیر معلومات تھے، مولاناؒ اپنے ساتھ بہت سارے قیمتی،نادر،تاریخی اور علمی جواہر پارے لے کر چلے گئے۔
مولاناؒ کو کتابوں سے عشق تھا ہندوپاک میں کوئی بھی علمی، تاریخی اور تحقیقی تصنیف منظر عام پر آتی، مولاناؒ تک یا تو وہ کتاب پہنچ جاتی یا اس سلسلہ میں وہ مکمل معلومات حاصل کر لیتے،آج تو انٹر نیٹ کا دور ہے، آج یہ ساری چیزیں اتنی مشکل نہیں ہیں، یہ اس زمانہ کی بات ہے جب لوگوں کے پاس موبائل فون تک نہیں تھے، اس زمانہ میں کتابوں کی فراہمی،ان کی تفصیلات حاصل کرنا کتنا مشکل کام تھا اس کا اندازہ آج نہیں کیا جا سکتا ہے اور جب انٹرنیٹ پر کتابوں کی دستیابی کا دور شروع ہوا تو اس سہولت سے بھی مولانا مرحوم نہ صرف استفادہ کرتے، بلکہ شائقین علم و فن کے لیے افادہ کی راہیں ہموار کرتے اور اس سلسلہ میں مختلف ناموں سے واٹسپ گروپس بنا کر نادر و نایاب یانئی مطبوعات علم و تحقیق کے میدان میں کام کرنے والوں تک پہنچاتے رھتے۔مولاناؒ سادہ زندگی گذارتے تھے،دنیا سے حد درجہ بیزاری تھی، ان کے اٹھنے بیٹھنے سے دنیا بیزاری کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا،لیکن کتابوں کے سلسلہ میں خوبصورت اور معیاری ذوق رکھتے تھے،کتابوں کی بہترین اور معیاری گیٹپ کے ساتھ طباعت ان کا محبوب مشغلہ تھا،کتابوں کے اوراق، ان کے حروف کے فاؤنٹس،حسن ترتیب، خوبصورت عربی خطوط کا انتخاب،دیدہ زیب ٹائٹل اور ان کی معیاری تجلید کے سلسلہ میں نمایاں ذوق کے مالک تھے، مولانا ؒ کا قیام گاہ گویا ایک کتب خانہ تھا، جہاں صرف کتابیں ہی کتابیں تھیں۔
فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ کی ذات والا صفات رجال کار کو جمع کرنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان سے کام لینے کے سلسلہ میں اپنی مثال آپ تھی،جناب مولانا معز الدین قاسمیؒ حضرت فدائے ملت کاھی حسن انتخاب تھے،جنہیں ان کی صلاحیت کے مطابق کام سپرد کئے،چنانچہ امارت شرعیہ ہند،ادارة المباحث الفقہیہ اور رویت ہلال کمیٹی جیسے اداروں کے امور مولاناؒ خود ہی انجام دیتے تھے، ادارة المباحث الفقہیہ کی مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ ملک کے نامور مفتیان کرام اور علماءشریک ہو کر متعلقہ موضوع پر بحث و تمحیص کر رہے ہوتے تھے،لیکن مباحث کے اجمال کے لیے مفتیان کرام کی جو کمیٹی بنتی تھی، اس کا حصہ مولانا ؒ ضرور ہوا کرتے تھے،مولاناؒ کواگرچہ درس و تدریس کی مشغولیت نہیں رہی، تاہم علمی نکات اورتنقیح مسائل فقہیہ کے اسلوب سے خوب واقف تھے،کتابوں اور عربی عبارات کے استحضار سے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ برسوں سے وہ بڑی بڑی کتابیں پڑھا رہے ہوں۔آج سے چھ ماہ پہلے مولاناؒ سے ملاقات ان کے کمرہ میں ہوئی،کہنے لگے!بیٹھو؛ نعمانی صاحب بھی آرہے ہیں،نعمانی صاحب کے آنے کے بعد خود چائے بنائی اور گھنٹوں کتابوں اور دیگر موضوعات کے حوالہ سے گفتگو کی،پاکستان سے چند نئی مطبوعات کے تعلق سے بھی معلومات فراہم کیں، دفتر جمعیة علماءہند سے مجھے رخصت ہوئے بیس سال کا عر صہ ہوا،اس طویل مدت میں مولاناؒ کے کمرہ میں اس کے علاوہ کہ کتابوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ نا کافی ہو گئی ہے،دوسری کوئی اور تبدیلی نہیں دیکھی،یہ چند بکھرے اور غیر مرتب جملے احوال دل ہیں، کوئی مضمون یا مرثیہ نہیں:
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں جانے والے میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*