کیا مولانا مودودی کی فکر تشدّد اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی ہے؟ ۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

بیسویں صدی عیسوی کے مظلوم اور بدنام اسلامی مفکرین میں مولانا سید ابو الاعلی مودودی سرِ فہرست ہیں ۔ اپنوں نے ان سے غیریت برتی ہے اور غیروں کی کرم فرمائیاں بھی کم نہیں ہیں _ مولانا کا قصور بس یہ تھا کہ انھوں نے اسلام کو جامع دین قرار دیا ، جو زندگی کے ہر میدان میں ، حتیٰ کہ سیاست کے میدان میں بھی انسانوں کی رہ نمائی کرتا ہے۔ بس پھر کیا تھا؟ انہیں ‘سیاسی اسلام’ کا نظریہ ساز قرار دے دیا گیا اور یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسلام کے غلبے کے لیے ہر طرح کی پُر تشدّد کارروائیاں کرنے پر ابھارتے ہیں _ اس طرح یہ تاثر عام کیا گیا کہ ان کے افکار تکثیری سماج کے لیے مہلک ہیں اور مختلف مذاہب والوں کے درمیان منافرت پھیلانے والے ہیں۔

یہ غلط فہمی عالمی سطح پر پھیلائی گئی ہے اور اپنے ملک (ہندوستان) میں بھی اس کو ہوا دینے والے کم نہیں ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ کچھ دنوں قبل اس شکل میں ہوا کہ چند نام نہاد دانش وروں نے ملک کے وزیر اعظم کو خط لکھ کر ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ حکومت کے خرچ سے چلنے والی مسلمانوں کی تین بڑی یونی ورسٹیوں : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبوں کے نصاب سے مولانا مودودی کی کتابیں نکال دی جائیں ، کیوں کہ یہ شدّت پسندی کو پروان چڑھاتی ہیں۔ ملک کا گودی میڈیا ، جو مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ہر کام کو اچک لیتا ہے ، اس نے اس کا پروپیگنڈہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، تاکہ ان یونی ورسٹیز کے ذمے داروں پر دباؤ بناکر مطلوبہ کارروائی کروائی جاسکے۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر اور سابق چیرمین ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کو کہ انھوں نے پورے اعتماد کے ساتھ اس جھوٹے پروپیگنڈہ کا رد کیا اور مولانا مودودی پر لگائے جانے والے الزام کی پُر زور انداز میں تردید کی _ انھوں نے ایک انٹرویو میں بہت دوٹوک انداز میں کہا : ” میں پچھلے پچاس سال سے مودودی کو پڑھ رہا ہوں ، پڑھا رہا ہوں۔ میں نے ان پر پی ایچ ڈی کرائی ہے۔ ان پر کئی کتابیں اردو اور انگریزی میں لکھی ہیں۔ مجھے ایک سنگل لائن کہیں یہ نہیں ملی جس میں انھوں نے کسی دہشت گردی ، تشدّد ، غیر جمہوری اور خفیہ سرگرمی کی حمایت کی ہو۔ ان کا ایک جملہ بھی نقل نہیں کیا جاسکتا جسے کسی قانون ، جمہوریت یا کسی دستور کے خلاف قرار دیا جاسکتا ہو۔”

پروفیسر فہد نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ علم سیاسیات پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ان کا غیر معمولی کام ہے۔ مولانا مودودی کے سیاسی افکار پر بھی انھوں نے تحقیقی کام کیا ہے۔ اس موضوع پر ان کی ایک کتاب گزشتہ برس شائع ہوئی تھی۔ اس کا نام ہے : جبر و جمہوریت اور سیّد مودودی – ” یہ کتاب تین (3) ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں انھوں نے ہندوستان کے مسلم مفکرین : شاہ ولی اللہ دہلوی ، سر سید احمد خاں ، مولانا حمید الدین فراہی ، مولانا حسین احمد مدنی ، ڈاکٹر محمد اقبال ، مولانا ابو الکلام آزاد ، حکیم حیدر زماں صدیقی ، علامہ سید سلیمان ندوی ، مولانا محمد میاں ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ، مولانا قاری محمد طیّب ، مولانا حامد الانصاری غازی اور مولانا محمد اسحاق سندیلوی رحمہم اللہ کے سیاسی افکار سے بحث کی ہے۔ باب دوم میں مولانا مودودی کی فکر کی عصری معنویت متعدد پہلوؤں سے واضح کی ہے۔ باب سوم میں مولانا مودودی کی سیاسی فکر پر تفصیل سے بحث کی ہے اور مروّجہ سیاست کے تمام پہلوؤں پر مولانا کی تحریروں کی روشنی میں ان کے افکار پیش کیے ہیں۔

اس وقت ، جب کہ بعض اسباب سے ملک میں مولانا مودودی کے افکار زیر بحث ہیں ، جو لوگ حق کے متلاشی ہیں اور مولانا کے افکار کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہتے ہیں ، انہیں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ اس شخصیت کا حاصلِ مطالعہ ہے جس کی پوری زندگی مولانا کے سیاسی افکار پر تحقیق و تصنیف میں گزاری ہے۔
نام کتاب : جبر و جمہوریت اور سیّد مودودی
مصنف : ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی
صفحات : 288، قیمت :300 روپے
ناشر : القلم پبلیکیشنز، بارہ مولہ، کشمیر
تقسیم کار : ھدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس نئی دہلی
فون :9891051676-91+