مولانامحمد قاسم مظفرپوری کی وفات پرتنظیم ائمۂ مساجد سہرسہ کے زیراہتمام تعزیتی نشست

سہرسہ:مشہور علمی شخصیت، امارت شرعیہ کے قاضی شریعت، مدرسہ رحمانیہ سوپول کے سابق شیخ الحدیث مولاناقاسم مظفرپوری کے انتقال پر آج سمری بختیارپور کی رانی باغ جامع مسجد میں تنظیم ائمہ مساجد سہرسہ کے زیراہتمام تعزیتی نشست کاانعقادکیاگیا جس میں علاقہ کے سرکردہ علما، ائمہ اور اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تعزیتی نشست کی صدارت مفتی سعیدالرحمن قاسمی نائب صدرمفتی امارت شرعیہ پٹنہ اور نظامت وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کے ڈائریکٹر و صحافی شاہنوازبدرقاسمی نےکی-
اس موقع پر مفتی سعیدالرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں مولانامرحوم سے اپنے گہرے مراسم کوبیان کرتے ہوئے کہاکہ مولاناکے ساتھ ہمارے کئی اسفارہوئے اورامارت میں بھی بارہا ملاقاتیں ہوتی رہیں،اس دوران ہم نے ان کے علمی مقام کواس درجہ پرپایاکہ وہ تفسیر،حدیث اورفقہ کے ساتھ عربی ادب میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے،فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں ان کے مقالات کوکافی اہم دی جاتی تھی۔انہوں نے کہاکہ مولانامرحوم اختلافی باتیں اوردوسروں کی ادنی سی بھی برائی سنناپسند نہیں کرتے تھے،آج ہماراحال یہ ہے کہ ہم اپنی کمی نہیں دیکھتے ،چھوٹی چھوٹی باتوں پرعلما کولعن طعن کرنے لگتے ہیں۔علاقہ کے مشہور عالم دین مولانامظاہرالحق قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ مولاناقاسم صاحب سفرمیں بھی اپنے علمی مشاغل جاری رکھتے۔ وہ نام ونمودسے بے پروا ہوکرللہیت کے ساتھ دینی خدمات کی انجام دہی میں منہمک رہتے۔ مفتی نصراللہ قاسمی نے کہاکہ دھیرے دھیرے ہمارے درمیان سے صالح علما اٹھتے جارہے ہیں ،ایسے وقت میں ہمیں اپنے صالح معاشرہ کے وجود کے لیے یہ دعاء کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں ایک صالح عالم عطافرمادے جس کے زیرسایہ رہ کر آپ کی شریعت پرمکمل کاربندرہ سکوں۔لیکن ہم نے توعلماء کی قدرہی کرناچھوڑدیاتواس طرح کی دعاء کی توفیق ہمیں کہاں میسرہو۔انہوں نے کہاکہ خداکی قسم علماء کی توہین کرکے اوران سے رشتہ منقطع کرکے آپ کامیابی کاتصورکرہی نہیں سکتے۔جامعہ رحمانی کے استاد مولاناسیف الرحمن ندوی نے کہاکہ کوروناوائرس کی زدمیں جب سے ہماراملک آیاہے تب سے مسلسل ہمارے اکابرعلما ہمارے درمیان سے گزرتے جارہے ہیں۔ایسے دورمیں جوتھوڑے بہت علما رہ گئے ہیں ان کی سلامتی کے لیے دعا کریں اوراپنے ہرمعاملے کے حل کے لیے ان سے رجوع کریں ۔ مولاناضیاء الدین ندوی نے کہاکہ عوام کی گمراہی کاسبب عوام کاعلما سے رابطہ کامنقطع ہوناہے۔اس لیے علما سے اپنارشتہ استوارکیجیے اوران کی باتوں پرعمل کرنے کامزاج بنائیے۔ وہیں مفتی فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ کسی بزرگ شخصیت کے انتقال پرتعزیتی نشست منعقدکرکے صرف ان کے صفات وکمالات کوبیان کرنے پراکتفانہ کیاجائے بلکہ یہ فکراوڑھیں کہ ہمارے اورہمارے معاشرے کاہرفردان صفات وکمالات کاحامل کیسے بنے۔اس موقع پرتنظیم ائمہ مساجدکے صدرحافظ ممتاز رحمانی،مولانا سعید الرحمن قاسمی،مولانا انظرمفتاحی،مولاناافسرامام قاسمی،صحافی وجیہ احمدتصور،عقیل احمدعرف اندبابو،چاندمنظرامام،ماسٹر سلطان احمد،حافظ فیروز عالم،قاری اخترسیٹن آباد، قاری وثیق الرحمن، حافظ نوشاد،مولانا جعفرامام قاسمی،حاجی منہاج عالم،دہلی اقلیتی کمیشن کے رکن و صحافی افضل ندیم وغیرہ موجود تھے۔