مولانا محمد قاسم مظفرپوری علم و حلم کے اعلی مقام پر فائز تھے:قاری شبیر احمد

مولانامحمد قاسم مظفرپوری کی رحلت پوری امتِ مسلمہ کا خسارہ: مولانا صفی الرحمن قاسمی

ممتاز عالمِ دین و فقیہ مولانا محمد قاسم مظفرپوری کے انتقال پر مکتبہ رحمت مادھوپور مظفرپور کے تعزیتی اجلاس میں علما کا اظہار خیال

مظفرپور:(عبدالخالق قاسمی)فکر قاسمی کے ترجمان،فقیہ العصر، نمونۂ اسلاف حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری،قاضی شریعت دارالقضا امارت شرعیہ پٹنہ و سابق شیخ الحدیث مدرسہ رحمانیہ سوپول و بانی مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور کی رحلت پر مکتبہ رحمت میں سہ روزہ تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی آخری نشست آج 4 ستمبر بروز جمعہ کو مدنی جامع مسجد مادھوپور میں بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا ـ اس نششت میں موقر علماے کرام نے اپنے تاثرات پیش کئے اور حضرت مولانا قاسم مظفرپوری کو خراج عقیدت پیش کیاـ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ دربھنگہ کے روح رواں قاری شبیر احمد نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب علم و عمل کے اعلی مقام پر فائز تھے،عجزو انکساری کے علمبردار تھے،ایذا رسانی کے معاملے میں حضرت مولانا بہت محتاط تھے،اپنی ذات سے کسی کو تکلیف پہنچانا کبھی گوارہ نہیں کرتے تھے،مولانا تو دنیا سے رحلت فرما گئے مگر ان کی یاد ابھی بھی باقی ہےـ انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں مزید کہا کہ جو لوگ اعلی مقام اور اچھے منصب پر ہوتے ہیں تو ان کی نگاہ چھوٹوں پر بہت کم ہوتی ہے،مگر حضرت اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کرتے تھے،وہ گھنا سایہ دار درخت تھے جس کے تلے ہم پناہ لئے ہوئے تھےـ حضرت قاضی صاحب بڑے باکمال علمی آدمی تھے،آپ نے نصف صدی تک صرف مدرسہ رحمانیہ ہی نہیں بلکہ آس پاس کے حلقوں کو بھی اپنے علم سے سیراب کیا،انہوں نے حضرت قاضی صاحب کے علمی وارثین مولانا عبداللہ مبارک ندوی، برادرزادہ مولانا رحمت اللہ ندوی مدنی،مولانا نعمت اللہ قاسمی مکی سے غائبانہ طور پر کہا کہ مولانا نے جو چراغ مدرسہ طیبہ کی شکل میں جلایا ہے اس کی حفاظت اور آبیاری کرنا آپ حضرات کی اخلاقی ذمہ داری ہےـ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے صدر مدرس مولانا صفی الرحمن قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ایک ایسا ناقابل تلافی خسارہ ہے جس کی بھرپائی بہت مشکل ہے، حضرت کا ہمارے درمیان سے چلا جانا یہ گھر،گاوں اور خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا خسارہ ہےـ حضرت کی علمی، تحقیقی و تدریسی خدمات بہت وسیع ہیں اور شاگردوں کی فہرست بہت لمبی ہے،جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں ـ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے استاذ مولانا دبیر احمد قاسمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا بہت ساری خصوصیات و امتیازات کے حامل تھےـ عجزو انکساری اور تواضع کی وجہ سے ہر عام و خاص میں آپ انتہائی مقبول تھے،آپ سادگی کے عظیم پیکر تھےـ حضرت مولانا قاسم مظفرپوری ہمیشہ اپنے آپ کو علمی مشاغل میں مصروف رکھتے تھے، کوئی چھوٹا طالب علم بھی ملتا تو ان سے علمی مذاکرہ شروع کردیتےـ آپ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحہ کی قدر کرتے تھےـ اتنے بڑے عالم ربانی ہونے کے باوجودچھوٹے معصوم بچوں کو الف با تا پڑھانے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھےـ یہ ان کے اعلی ترین معلم و مربی ہونے کی بین دلیل ہےـ تعزیتی نششت سے قبل حضرت کے برادر خرد حافظ ناظم رحمانی کے دروازہ پر قائم مکتبہ رحمت میں قرآن خوانی و ایصال و ثواب کا اہتمام کیا گیاـ آخر میں حافظ ناظم رحمانی،حافظ منت اللہ رحمانی،مولانا فضل اللہ ندوی نے اپنی طرف سے اور اپنے خاندان کی طرف سے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسلسل قرآن خوانی، ایصال ثواب اور دعاؤں کا اہتمام کیا اور یہ سلسلہ تا ہنوز جاری و ساری ہےـ نششت کا اختتام مولانا صفی الرحمن کی دعا پر ہواـ
مولانا کی رحلت پر جہاں ایک طرف قرآن خوانی، ایصالِ ثواب کا سلسلہ جاری ہےـ وہیں دوسری جانب ملی، سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات بھی موصول ہورہے ہیں ـ اس کے علاوہ سیکڑوں شخصیات کے تعزیتی پیغامات بذریعہ فون اور خط موصول ہو رہے ہیں ـ اس تعزیتی نششت میں مولانا سعید الرحمن قاسمی استاد مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ،مفتی عبدالسلام قاسمی، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ،مفتی عباداللہ قاسمی،مولانا عبدالقادر،مولانا اسرار صاحب مظاہری سمیت بڑی تعداد میں مقامی علمااور سیاسی و سماجی کارکنان موجود تھےـ