مولانا محمد قاسم مظفر پوری:حیات و خدمات پر ایک نظر-انوار الحق قاسمی نیپالی

قدرے درازقد،نہ ہی زیادہ فربہ اور نہ ہی زیادہ لاغر، سادگی پسند اور تواضع کے پیکر، علم و عمل میں ہم آہنگی،بل کہ عمل علم پر غالب ،متانت وشرافت کامجسمہ،ہمہ وقت خدمت خلق کے جذبہ سے معمور،پڑھنے لکھنے سے انتہائی دلچسپی،انتظامی امور میں ماہر،کبر کے جرثومہ سےیکسرخالی ،عمدہ اخلاق کےحامل ،بےمثال قاضی،فن خطابت کےشہسوار،انشا پردازی میں اپنی مثال آپ،قاضی مجاہدالاسلام-علیہ الرحمہ-کے معتمدعلیہ،اکابر دیوبند کے خوشہ چیں، دارالعلوم دیوبند کے ہونہار فرزند، مدرسہ رحمانیہ سپول کے سابق شیخ الحدیث، امارت شرعیہ پٹنہ کے عہدۂ قضاپر فائز،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی، مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپورانگواں،ججوارہ مظفر پورکےسرپرست،کئی اداروں کے بانی ونگراں حضرت مولانا قاضی محمد قاسم صاحب مظفر پوری بھی طویل علالت کےبعد تراسی سال کی عمر میں مؤرخہ یکم ستمبر ۲۰۲۰ء سہ شنبہ کوطلوع آفتاب سےقبل اپنی حیات مستعار کی آخری سانس لیتےہوئےاپنےخالق ومالک سےجاملے،انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت قاضی صاحب کے علم و فضل اور زہد و تقوی کا چرچا پورے ملک ہندوستان اور ملک نیپال میں عموما اور صوبہ بہار کے کونے کونے اور گوشے گوشے میں خصوصاعام تھا؛ باوجود اس کے ناچیز کو حضرت- علیہ الرحمہ -کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے اور ان سے کچھ سیکھنے کا موقع نہیں مل سکا،جب کہ احقر عرصۂ دراز تک صوبہ بہار کے سب سے مقبول و معروف ادارہ الجامعة العربية اشرف العلوم کنہواں،ضلع سیتامڑھی بہارمیں از درجہ اعدادیہ تادرجہ عربی پنجم متعلم رہا ہے، مگر اس دوران ایک دفعہ بھی ان کی علمی محفل و مجلس میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملا، اس کاقلق اور صدمہ تادم زیست رہے گا، البتہ سن ۱۴۳۹ھ میں دارالعلوم دیوبند میں جب رابطہ مدارس عربیہ کا جلسہ بڑےہی شان وشوکت کےساتھ منعقد ہوا تھا،اس میں حضرت قاضی صاحب- علیہ الرحمہ- بھی شریک ہوئے تھے ،اسی موقعےسے دارالعلوم کےمہمان خانہ کے پاس حضرت سے علیک سلیک اور مصافحہ کا موقع ملا تھا، حضرت سے مل کر دل کو بہت ہی سکون و اطمینان میسر ہوا تھا، اس معمولی ملاقات ہی میں ان کی محبت ناچیز کے دل و دماغ میں پہلے سے مضاعف ہوگئی اور اسی وقت سے احقر حضرت کے لیے دعائیں کرتا رہا کہ قادرمطلق حضرت کے سایۂ عاطفت کو ہم خردوں پر تادیر قائم رکھے۔
حضرت کے انتقال سے قبل مسلسل کئی دنوں تک سوشل میڈیا پر ان کے سخت علیل ہونے کی خبر اور دعاے صحت کی درخواست گردش کر رہی تھی، اس موقعےسے ہر ایک نے اور ناچیز نے بھی حضرت کے لیے صحت یابی کی دعائیں کی تھیں؛ مگربالآخر وہی ہوا جو ہر جاندارومتنفس کے ساتھ اس کےوقت موعود پر ہوتا ہے، یعنی مؤرخہ یکم ستمبر سن ۲۰۲۰ء کی صبح حضرت کے انتقال پر ملال کی خبر نا چیز کی کانوں سے ٹکرائی اور بڑے ہی رنج والم کے ساتھ کہنا پڑا:انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا کی پیدائش سن ۱۹۳۷ءمیں صوبہ بہار کے ضلع مظفر پور کی بستی مادھو پور، ڈاک خانہ انگواں،وایاججوارہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ اور مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں یکے بعد دیگرے داخل ہوئے،ان اداروں کےآپ کے مشہور اساتذہ میں حضرت مولانا مقبول احمد خان صاحب اور حضرت مولانا عبدالجبار صاحب ہیں۔
پھر متوسطات اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے سن ۱۹۵۲ء میں ازہر ہند دارالعلوم /دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں آپ نے ہر فن مولی کبار علمائے کرام سے مختلف علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھیں اورسن ۱۹۵۷ء میں سند فضیلت حاصل کی، آپ اپنی ذہانت اور غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر اس وقت، جب کہ دارالعلوم /دیوبند کےہائی اور آخری نمبرات ۵۰ تھے،دورہ حدیث شریف کی تمام ہی کتابوں میں سوائےایک کے۵۰ سے زائد نمبرات :یعنی کسی میں ۵۳توکسی میں ۵۲ اور کسی میں ۵۴وغیرہ حاصل کیے، آپ اپنے درسی ساتھیوں میں اپنی ذہانت وذکاوت، کثرت محنت اور انتہائی کدوکاوش کی وجہ سے غیر معمولی امتیاز بھی رکھتے تھے۔
مولانا کے دل و دماغ اور جسم کے ہررگ وریشے میں اپنے علاقے کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی چنانچہ آپ نے اپنے علاقے سے جہل کے خاتمے کے لئے نیز ہر ایک کےسینے کوعلوم الہیہ اورعلوم نبویہ سے منور کرنےکےلیے اپنے تدریسی سلسلے کا آغاز مدرسہ امدادیہ لہیریاسرائے دربھنگہ بہار سے کیا، اس کے بعد آپ مستقل دلجمعی اور بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ مدرسہ رحمانیہ سپول میں چھیالیس سالوں تک تدریسی خدمات کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔
آپ کا انداز درس نہایت ہی نرالا تھا ،آپ کے شاگردوں کی تحریروں سے معلوم ہوتاہےکہ آپ دوران درس طلبا کے ذہنی معیار کے مطابق کلام کیا کرتے تھے، اگر طلبااعلی ذہن کے حامل ہوتے ؟تو پھر آپ کا کلام اعلی ہواکرتا تھا ،اگر طلبامعمولی ذہن کے حامل اور کند ذہن ہوتے ،تو پھر آپ کا کلام ادنیٰ ہوا کرتا تھا اور اگر آپ کے درس میں دونوں طرح کے طلبا ہوتے، تو پھر آپ ادنی کی رعایت کرتے ہوئے معمولی کلام کیا کرتے تھے، اس سے مقصد آپ کا یہ ہوتا کہ ہر طرح کے طلبہ کماحقہٗ عبارت کا مفہوم سمجھ جائے، اور الحمدللہ آپ کےانداز درس سے ہرایک طالبعلم خوش بھی رہتاتھا۔
مولانا بے مثال اور باکمال مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست قاضی بھی تھے، اپنی فراغت کے ابتدائی دور میں معاون قاضی کی حیثیت سے کارقضا بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے اور پھر باضابطہ سن ۱۹۷۶ء میں عہدہ قضا پر فائز ہو گئے۔
آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو چٹکیوں میں حل کر دیا کرتے تھے ،آپ ہرایک مقدمہ کو قرآن ،حدیث، اجماع، قیاس کی روشنی میں نہایت ہی جامع اسلوب میں حل کیا کرتے تھے، جس سے فریقین بھی فرحاں وشاداں رہتے تھے، کسی کی زبان پر کسی طرح کاکوئی شکوہ نہیں ہوتا تھا۔
مسائل فقہیہ میں آپ کے کامل مہارت کی ایک واضح دلیل حضرت مولانا مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی- زیدمجدہم-کاایک قول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے باضابطہ حضرت قاضی -علیہ الرحمہ -سے تو کوئی کتاب نہیں پڑھی ہے؛ البتہ حضرت قاضی صاحب جب کبھی بھی امارت شرعیہ پٹنہ تشریف لایا کرتے تھے تو حضرت سے ملنے جایا کرتا تھا،ایک دفعہ حضرت قاضی -علیہ الرحمہ -سے کہا کہ حضرت ایک مسئلہ مجھے اب تک سمجھ میں نہیں آرہا ہے، تو حضرت نے کہاکہ فرمائیں وہ کیامسئلہ ہے؟ تو میں نے کہا کہ حضرت اکراہ کی صورت میں اگر "مومن” کا قلب مطمئن ہو، تو کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے پر مومن کافر نہیں ہوتا ؛بل کہ مومن ہی رہتاہے،ارشاد باری ہے :وقلبه مطمئن بالايمان.اس کے برخلاف اگر شوہرحالت اکراہ میں طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کردیتا ہے تو "طلاق” واقع ہو جاتی ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے، کہ ایمان جو درجے میں طلاق سے بڑھاہوا ہے اور طلاق جورتبے میں ایمان سے کمتر ہے،پھر بھی "مومن” کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے پر "کافر” نہیں ہوتا ہے اور "شوہر "کے طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے پر اس کی” بیوی” مطلقہ ہو جاتی ہے، حضرت قاضی -علیہ الرحمہ – نے اس مسئلہ کو فقط دو لفظوں میں حل کر دیا، فرمایا :کہ حالت اکراہ میں کلمۂ کفر زبان سے ادا کرنے پر "مومن "کافر؛ اس لیے نہیں ہوتاہےکہ "ایمان”کاتعلق "دل”سے ہے نہ کہ "زبان”سے، اور حالت اکراہ میں” شوہر "کے طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے پر بیوی؛ اس لیے مطلقہ ہو جاتی ہے کہ "طلاق” کا تعلق "زبان” سے ہے نہ کہ”دل” سے ،حضرت کے اس جواب سے دل کو کافی سکون ملا، اس سے حضرت کے تبحرعلمی اور مسائل فقہیہ میں کامل مہارت کا پتہ چلتا ہے۔
حضرت قاضی شریعت باکمال مدرس اور بےمثال قاضی ہونے کے ساتھ بڑے مصنف بھی تھے حضرت کے اشہب قلم سے کئی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں، جن سے لوگوں نے خوب خوب استفادہ کیا،ان کتابوں کےاسماء مندرجہ ذیل ہیں :(۱)ادلة الحنفيه ( ۲)رہنمائےقاضی(۳)قرآنی سورتوں کاتعارف (۴)مکاتیب رحمانی (۵)تذکرہ عثمانی۔
حضرت قاضی صاحب جبل العلم ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی متواضع بھی تھے، اسی طرح حضرت چھوٹوں پر انتہائی شفقت کی نگاہ رکھتے تھے اور کام کرنے کے مواقع فراہم کرتے تھے ،خوب حوصلہ افزائی فرماتے تھے ،جس سے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار ہوتا تھا۔
حضرت بڑے متقی و پارسا انسان تھے حضرت کو دیکھ کر اولیاء اللہ کی یادیں تازہ ہو جایا کرتی تھیں، الغرض حضرت میں ہرچوٹی بڑی عمدہ خصلتیں موجود تھیں ۔
اللہ رب العالمین حضرت کی کلی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو اپنےانوار وبرکات سے بھر دے، انہیں کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے ،پس ماند گان اور ان کے خوشہ چینوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو حضرت کانعم البدل عطا فرمائے، آمین۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*