Home خاص کالم مولانا کلیم صدیقی سے خوش گوار ملاقات- محمد رضی الاسلام ندوی

مولانا کلیم صدیقی سے خوش گوار ملاقات- محمد رضی الاسلام ندوی

by قندیل

عزیزی مولانا محمد زبیر ندوی اپنے چند دوستوں کے ساتھ میرے دفتر میں آئے – بے پناہ مسرّت ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی – کہنے لگے : ” مولانا ! بہت مبارک -” میں نے کہا : "کیا مولانا کلیم صدیقی گھر آگئے ہیں ؟” انھوں نے جواب دیا : "جی ہاں – یہی اطلاع دینے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں – ” میں نے دریافت کیا : ” کیا مولانا سے ملاقات ممکن ہے؟” کہنے لگے : ” کیوں نہیں ، مولانا آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گے – ” میں نے فوراً بھائی انعام الرحمٰن خاں کو فون کیا اور بعد نماز عصر مولانا سے ملاقات کا پروگرام بنا لیا –

مولانا کلیم صدیقی کو ستمبر 2021 میں جبر یا لالچ کے ذریعے لوگوں کا مذہب تبدیل کرانے اور اس کے لیے بیرونی ممالک سے غیر قانونی طور پر خطیر رقم جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا – ضمانت کی پیہم کوششوں کے باوجود انہیں ضمانت نہیں مل پارہی تھی – بالآخر سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی – پھر بھی انہیں باہر آنے میں ایک مہینہ لگ گیا – ان کی گرفتاری ، پھر ضمانت نہ مل پانا اور آخر میں ضمانت ملنے کے باوجود باہر آنے میں تاخیر ان کے منتسبین پر بہت شاق گزر رہی تھی ، اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ مولانا کو بے قصور پھنسایا گیا ہے – مجھے بھی بہت فکر اور تشویش لاحق رہتی تھی – برادر زبیر اور مولانا کے حلقے سے تعلق رکھنے والے اپنے دیگر احباب سے برابر مولانا کی خبر لیتا رہتا تھا ، اسی لیے عزیزی زبیر نے مجھے اطلاع دینا ضروری سمجھا تھا –

مولانا کلیم صدیقی سے میرا تعارف قدیم ہے – اگرچہ وہ صاحبِ تصانیف ہیں ، لیکن اصلاً وہ عمل کے آدمی ہیں – پُھلت (مظفر نگر) میں انھوں نے عرصہ ہوا ، جامعہ شاہ ولی اللہ کے نام سے ایک بڑا مدرسہ قائم کیا ہے – اس کے علاوہ بھی دینی تعلیم عام کرنے کے لیے مدارس کا جال بچھا رکھا ہے – ایک تعلیمی ادارہ مرکز جماعت اسلامی ہند سے قریب شاہین باغ میں بھی ‘مدرسہ سبیل السلام’ کے نام سے چل رہا ہے – لیکن ان کی اصل شہرت اس معاملے میں ہوئی کہ انھوں نے اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کا مشن اختیار کیا – اس مشن سے انھیں جنون کی حد تک وابستگی ہے – وہ درویش صفت اور روحانی آدمی ہیں – محبت عام کرنا ان کا مشغلہ ہے – لیکن ان کا یہ مشن بعض منافرت پسند لوگوں کو اچھا نہیں لگا – اس سے روکنے کے لیے ہی ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی – مجھے جامعہ شاہ ولی اللہ (پھلت) ، مدرسہ سبیل السلام (شاہین باغ) اور مولانا کے بعض دیگر مدرسوں میں بھی جانے کا موقع ملا – میں نے ان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا ہے اور ان مدرسوں کے اساتذہ مجھ سے محبت کرتے ہیں –

ہم مدرسہ سبیل السلام پہنچے تو وہاں مولانا سے ملاقات کے لیے آنے والوں کی بھیڑ تھی – لیکن یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ وہاں مولانا زبیر ندوی ، مولانا مسرت علی ندوی اور دیگر اساتذہ موجود تھے – امید بندھی کہ یہ حضرات آسانی سے ہماری ملاقات مولانا سے کروادیں گے – انھوں نے پہلے ہماری خاطر تواضع کی ، پھر ایک ہال میں پہنچادیا ، جہاں پچاس سے زائد لوگ پہلے سے موجود تھے اور فرش پر بیٹھے ہوئے تھے – مولانا تشریف لائے تو ہم نے ان سے معانقہ کیا – وہ ہمیں لے کر ایک طرف بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور ناشتہ لگانے کا حکم دیا – ہم نے عرض کیا : ” مولانا ! ابھی آپ کے یہاں ہی ہم ناشتہ سے فارغ ہوگئے ہیں -” لیکن انھوں نے کہا : ” ہم نے نہیں دیکھا ، ہمارے سامنے بھی کچھ لیجیے -”

بھائی انعام الرحمٰن خاں نے کہا : ” مولانا ! ہمیں آپ کے بارے میں بہت تشویش تھی – کچھ احوال سنائیے – ” مولانا نے فرمایا : ” گرفتاری کے بعد پندرہ دن میں پولیس ریمانڈ پر رہا ، لیکن افسران کا رویّہ بہت عزّت و احترام کا تھا – اے ٹی ایس کے ہیڈ نے ابتدا ہی میں کہہ دیا تھا :” کوئی آپ سے بدکلامی کرے تو مجھے بتائیے ، یہاں تک کہ اگر کوئی آپ سے ‘تم’ کہہ کر بات کرے تو بھی مجھے خبر کیجیے -” انھوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا :” پوچھ گچھ کے دوران میں آپ جتنی دیر بیٹھنا چاہیں بیٹھیں ، جب تکان محسوس کریں تو بتادیں ، ہم آپ کو آرام کرنے کا موقع دیں گے – ”

مولانا نے جیل کے حالات بھی بتائے – انھوں نے فرمایا : ” جیل کے ضوابط میں کافی سدھار ہوا ہے – تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جاتا ہے – کھانے کا معیار بھی اچھا ہوا ہے – کچھ شکایات سامنے آئیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – ”

مولانا سے دریافت کیا گیا : ” کیا جیل میں دوسرے قیدیوں سے ملاقات کا موقع دیا جاتا ہے؟ ” مولانا نے فرمایا : ” ایک بیرک میں جتنے قیدی ہوں وہ مل سکتے ہیں – ” انھوں نے مزید بتایا : ” غیر مسلم قیدی بھی ہمارا بہت خیال رکھتے تھے – ہم جماعت سے تراویح کی نماز پڑھتے تھے تو وہ اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے اور کونے میں دُبک جاتے تھے – ہم ان سے کہتے کہ آپ لوگ ایک طرف لیٹے رہیں ، لیکن ہم لوگ جب تک نماز پڑھتے ، وہ لیٹنا پسند نہیں کرتے تھے –

بھائی انعام الرحمٰن نے دریافت کیا : ” کیا جیل کے اندر رہتے ہوئے باہر کے حالات جاننے کا موقع رہتا ہے؟” انھوں نے جواب دیا :” جیل میں اخبارات آتے ہیں – ان سے باہر کی خبر ملتی رہتی ہے – جیل میں لائبریری بھی ہے – اس سے بھی استفادہ کا موقع رہتا ہے -”

مولانا کے پاس بیٹھنے کی مزید خواہش تھی – لیکن ملاقاتی برابر آتے جارہے تھے اور جگہ تنگ پڑ رہی تھی ، اس لیے ہم نے اٹھ جانا مناسب سمجھا – مولانا کی صحت کچھ متاثر لگ رہی تھی ، لیکن ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ انھوں نے قید کے ایام ہمّت اور حوصلہ سے گزارے ہیں – رخصت ہوتے ہوئے ہماری زبان پر مولانا کے لیے دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت بخشے اور انہیں تمام الزامات سے بری کردے – ہم نے یہ بھی دعا کی کہ مولانا کے جو رفقاء اور دیگر حضرات بے بنیاد الزامات میں ابھی قید میں ہیں اور انہیں رہائی نہیں مل سکی ہے ، اللہ تعالیٰ جلد اس کے اسباب فراہم کردے –

You may also like

Leave a Comment