مولانا جنید احمد بنارسی سپردِ خاک،علما کا اظہارِ تعزیت

ممبئی:عروس البلاد ممبئی کی قدیم دینی و علمی دانشگاہ دارالعلوم امدادیہ کے صدر مولانا جنیداحمد بنارسی ندوی کا 26 نومبر کی شب دہلی کے الشفاء اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم کچھ دنوں سے بیمار تھے، کورونا سے ری کور بھی ہوگئے تھے لیکن وقت اجل آ پہنچا تھا خدا کو پیارے ہوگئے۔ آپ بنارس کے ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ شہر بنارس کے مشہور عالم دین مولانا محمد اسحاق علیہ الرحمہ کے صاحبزادے تھے۔ نماز جنازہ بعد نماز جمعہ اقرامسجد جسولہ وہار دہلی میں ادا کی گئی اور تدفین شاہین باغ قبرستان میں عمل میں آئی۔ مولانا جنید احمد بنارسی ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ممبئی کے مشہور تاجر تھے، ملی کاموں میں خاموشی کے ساتھ تعاون کرتے تھے، آپ متحدہ جمعیت علمامہاراشٹر کے 1986سے1994 تک صدر بھی رہ چکے تھے، آپ صاف گو اور سنجیدہ مزاج کے حامل تھے۔ ان کے انتقال کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا کے توسط سے وائرل ہوئی دارالعلوم امدادیہ کے طلبہ و اساتذہ سمیت دینی و علمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا مرحوم کے انتقال پر دارالعلوم امدادیہ کے ناظم اعلی حافظ عظیم الرحمان صاحب نے ان کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے آج ایک مخلص رفیق کھودیا ہے جو دارالعلوم امدادیہ کے بے لوث خادم تھے اپنی دیگر مصروفیات کے باوجود مدرسہ کی خیر خواہی کے لیے کوشاں رہتے تھے ان کے نزدیک ہمیشہ مدرسہ کا مفاد مقدم رہتا تھا اللہ تبارک و تعالی مدرسہ امدادیہ کو نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ دارالعلوم امدادیہ کے نائب ناظم مولانا محمود احمد خان دریابادی نے کہا کہ ان کا جانا ایک طرح سے میرا ذاتی نقصان بھی ہے، اس لئے تمام احباب سے خصوصی التجا ہے کہ مرحوم کو دعوات صالحات میں ہمیشہ یاد رکھیں۔ دارالعلوم امدادیہ کے ٹرسٹی وقف دارالعلوم دیوبند کی مجلس مشاورت کے رکن حافظ اقبال چونا والانے کہاہے کہ مولاناجنیداحمدبنارسی کاانتقال ملت اسلامیہ کے لیے بڑانقصان ہے۔مولانابنارسی ملت اسلامیہ کادردرکھنے والے فکرمندعالم دین تھے ،وہ بہت زیادہ محبت رکھنے والے اوراخلاق وکردارکے اعلیٰ درجہ پرفائزتھے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ مولاناجنیداحمدبنارسی سے میری پہلی ملاقات خطیب الاسلام حضرت مولانامحمدسالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہوئی تھی،پھراس کے بعدیہ ملاقات ایک مخلصانہ تعلق میں بدل گئی اورآخردم تک یہ تعلق برقراررہا۔جب مجھے دارالعلوم امدادیہ ممبئی کی ٹرسٹ میں شامل کیاگیاتواس موقع پر مولانا جنید احمد بنارسی صاحب نے مجھے مبارکباددی اوراس انتخاب پراپنی بے انتہاخوشی کااظہارکیا۔ مولانا دارالعلوم امدادیہ کے صدرنشیں ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ دارالعلوم امدادیہ کی تعمیروترقی کے لئے فکرمندرہتے اورکوشاں رہتے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ حضرت مولانابنارسی کی مغفرت فرمائے، اہل خانہ اورمتعلقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب نے کہا کہ مولانا جنید بنارسی کے سانحہ ارتحال کی خبر بہت باعث رنج و غم ہے، اللہ ان کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام دے۔ آپ بہت تعلقات نبھانے والے اور ضرورت مندوں کے کام آنے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کورونا سے پہلے کئی بار تشریف لائے تھے، ملک کے موجودہ حالات سے بہت نالاں اور فکر مند تھے، اللہ رب العزت ان کے ساتھ کرم کا معاملہ کرے اور تمام پس ماندگان کو صبر جمیل دے، آمین۔ جمعیت علماء ضلع تھانہ کے ذمہ دار مولانا مفتی حذیفہ قاسمی بھیونڈی نے کہا کہ مولانا جنید بنارسی ہمارے حلقے کے ایک بہت ہی اہم آدمی تھے وقت موعود پہ سبکو جاناہے کوئی پہلے کوئی بعد۔ اللہ تعالی ملت کو انکا سچا جانشیں اور نعم البدل عطا فرمائے۔ انہوں نے تمام متعلقین وذمہ داران مدارس وائمہ کرام سے مولانا محروم کےلیے دعاے مغفرت وایصال ثواب کی درخواست بھی کی۔