مولاناحسن الہاشمی کی حیات و خدمات پر مشتمل ماہنامہ طلسماتی دنیا کے خصوصی نمبرکا اجرا

مولاناحسن الہاشمی کی حیات و خدمات پر مشتمل ماہنامہ طلسماتی دنیا کے خصوصی نمبرکا اجرا
دیوبند:(سمیر چودھری)عالمی روحانی تحریک کے سربراہ اور معروف روحانی معالج مرحوم مولانا حسن الہاشمیؒ کی حیات و خدمات پر مشتمل ’ماہنامہ طلسماتی دنیا‘ کے خصوصی نمبر کی رسم رونمائی گزشتہ شب یہاں عیدگاہ روڈ واقع ھاشمی روحانی مرکز فاؤنڈیشن میں علماء کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اس موقع پر مقررین نے مولانا حسن الہاشمیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالی ۔ پروگرام کی صدارت سابق شیخ القراء قاری ابوالحسن اعظمی نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا محمود الرحمٰن صدیقی نے انجام دیے ۔اس موقع پر رابطہ عالم اسلامی کے رکن قاری ابوالحسن اعظمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مولانا حسن الہاشمی ایک بہترین انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا قلم بہت رواں دواں ،ان کا اسلوب تحریر و انداز تعبیر اپنے اندر ادبی ذوق کی ترجمانی کرتا رہا ۔ مولانا حسن الہاشمی بہت ہی ماہر روحانی معالج تھے،ان کے کاموں کا دائرہ بہت وسیع تھا ،انہوں نے مختلف سمتوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔ رب کریم ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی اولادوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہاکہ مولانا حسن الہاشمی جد و جہد اور مستقل مزاجی کے حامل شخص تھے ،انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے کام کیے ،ان کا میدان روحانی نہیں تھی لیکن انہوں نے 25سالہ مدت میں روحانیت کے میدان میں وہ کمال اور درک حاصل کیاجس کی مثال مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے درسی ساتھی تھے اور ان سے میرا تعلق قدیم تھا ۔ انہوں نے اپنے لیے جس میدان کا انتخاب کیا اس میں وہ بڑے کامیاب اور ممتاز رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا ،جس کا استعمال  بڑے سلیقہ اور خوبی سے کیا ،وہ صاف دل کے مالک تھے ،تعلقات کو نبھاتے تھے ،غریبوں ،مسکینوں اور ضرورتمندوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے ۔ ممتاز قلمکار و ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے مولانا حسن الہاشمی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا حسن الہاشمی کا رشتہ قلم و قرطاس سے بہت مضبوط تھا ،وہ ایک ادیب اور پختہ قلم کار تھے ،انہیں نظم و نثر میں یکساں عبور حاصل تھا ،مولانا عامر عثمانی کے انتقال کے بعد اکثر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ تجلی رسالہ کو اس کے رنگ وآہنگ کے ساتھ باقی رکھنا نا ممکن ہے ایسے وقت میں کامیابی کے ساتھ 6سال تک انہوں نے تجلی کی ادارت کی شاندار ذمہ داری نبھائی ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ خدمت خلق کے پلیٹ فارم سے ا ن کی رفاہی خدمات یاد کی جاتی رہیں گی ۔دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا مفتی عارف قاسمی نے کہا کہ مولانا مرحوم نے ادارہ خدمت حلق دیوبند کے تحت مثالی خدمات انجام دیں ،وہ صاحب علم و قلم ،متواضع اور بے حد مخلص و اخلاق مند انسان تھے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ۔ معہد انور کے استا ذ حدیث مولانا فضیل احمد ناصری نے کہا کہ مولانا حسن الہاشمی متحرک ،فعال ،ہمدرد اور سخی انسان تھے ،انہوں نے ساری زندگی خدمت خلق کے لیے وقف کردی ۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا واصف حسین نے کہا کہ سرزمین دیوبند کے دامن میں ایسی شخصیات کثیر تعداد میں ہیں جنہوں نے اپنے علم وفکر اور خدمت خلق کی بنیاد پر ملت اسلامیہ کی خیر خواہی فریضہ بخوبی انجام دیا ۔ معروف قلم کا ر سید وجاہت شاہ نے کہا کہ مولانا حسن الہاشمی بلند کردار انسان تھے ،دیوبند کے ضرورتمندوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ہمدردانہ تعاون سے مستفیض ہوتی تھی ۔ ادارہ خدمت خلق کے تحت  خاموشی سے ضرورتمندوں کی جو مدد کی وہ لائق تقلید اور قابل ستائش ہے ۔علاوہ ازیں دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مفتی احسان قاسمی، نئی روشنی پبلک اسکول کے منیجر فائز سلیم صدیقی ڈاکٹر عبد السمیع فاروقی ،ندیم شمسی ،مشتاق احمد ،وقاص ہاشمی ،ربیع ہاشمی اور عاطف ہاشمی نے بھی مولانا مرحوم کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی ۔آخر میں مولانا مرحوم کے جانشیں وقاص ہاشمی نے تمام مہمانوں کاشکریہ اداکیا۔ اس موقع پر مفتی طاہر اصغر، دارالعلوم دیوبند کے استاذ قاری فوزان،مولانا مسرورقاسمی،قاری زبیر احمد قاسمی،مولانا ندیم قاسمی،مفتی محمد شاکر ،نسیم انصاری ایڈوکیٹ ،سلیم قریشی ، مولانا خلیل خاں ،عمیر احمد عثمانی،رضوان سلمانی ،معین صدیقی ،فہیم عثمانی ،عارف عثمانی ،فہیم صدیقی ،عمر الٰہی،نصر الٰہی،راشد قیصر،ماسٹر جاوید عثمانی،محمد رفیع صدیقی اور شہر کی دیگر معزز شخصیات شریک رہیں۔