مولانا امین اشرف قاسمی کی رحلت: مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے- ڈاکٹر جسيم الدين

شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی
موت سے کسی کو مفر نہیں، ایک اللہ کی ذات ہے جس کو فنا نہیں، باقی سب کے لیے موت برحق ہے، کوئی شخص موت سے لڑ سکتا ہے اور نہ ہی اس کو ٹال سکتا ہے اگر انسانوں کو ان کے امتیازی خصائص کی وجہ سے موت نہ آتی تو بے شمار انسان صبح قیامت تک زندہ رہتے، اس لیے جب کوئی شخص داعی اجل کو لبیک کہتا ہے تو ہمیں موت حادثہ معلوم نہیں ہوتی، بلکہ جو شخص کائنات کی بزم سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی رحلت ایک سانحہ نظر آتی ہے، پھر یہ کہ جانے والا کوئی بلند وبالا عالم، زاہد شب بیدار، متقی وپرہیزگار، عابد وصالح اور مرجع خلائق عمر فانی پوری کرکے راہی عالم بقا ہوتا ہے تو صدمہ یہ نہیں ہوتا کہ موت نے اپنا مشن کیوں پورا کیا، صدمہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ اور دن بزم کائنات سجائے رکھتے تو اس میں حرج کیا تھا. سرزمین بہار کے ضلع سیتامڑھی میں واقع ممتاز ومنفرد دینی و تعلیمی ادارہ دعوۃ الحق مادھو پور سلطانپور کے مہتمم اور میرے محب ومخلص دوست نجیب اشرف نجمی حال مقیم ریاض کے والد محترم مولانا امین اشرف کی ذات والا صفات اور ان کا وجود مسعود نہ صرف سرزمین سیتامڑھی بلکہ پورے بہار کے لیے رحمت وحیات کا سرچشمہ تھا، ان کی رحلت نے عجیب و غریب انداز میں سکتہ طاری کردیا ہے، ان کی وفات کی اطلاع میرے عزیز دوست حسان جامی قاسمی حال مقیم دبئی نے بذریعہ واٹس ایپ دی، موبائل کے اسکرین پر جیسے یہ پیغام ملا، میرے ہوش اڑ گئے اور کچھ دیر کے لیے دار العلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی میں مولانا مرحوم کے بڑے صاحبزادے نجیب اشرف قاسمی کے ساتھ گزرے ہوئے حسین لمحات کے نقوش رواں دواں ہوگئے، نجیب اشرف قاسمی سے قربت کی متعدد وجوہات تھیں جن کا ذکر یہاں ضروری نہیں ہے یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ مولانا امین اشرف کو اللہ تعالیٰ نے جن اوصاف وکمالات سے نوازا تھا وہ تمام خوبیاں اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی دیوبند تشریف لاتے تو اپنے صاحبزادے کے علمی اشتغال و انہماک کی پوری روداد طلب کرتے، مولانا مرحوم کا آبائی وطن رونی سید پور کے مضافات میں واقع مادھوپور سلطان پور تھا، یہاں سے میرے گاؤں کی مسافت تقریباً دس کلومیٹر ہے، بارہا میں نے مولانا کے چمنستان علم ادارہ دعوۃ الحق کو قریب سے دیکھا کئی ایکڑ اراضی پر انھوں نے ایک دور افتادہ گاؤں میں علم وفضل کا روشن مینارہ قائم کیا ہے وہ قابل رشک ہی نہیں لائق تحسین بھی ہے۔
مولانا سے میری دہلی میں ایک آفس میں ملاقات ہوئی جہاں میں جزوقتی اکیڈمک اسسٹنٹ تھا، مولانا نے مجھے یہاں پاکر اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز طالب علم رہے ہیں، آپ یہاں وقت برباد نہ کریں آپ دعوۃ الحق میں عز وشرف کے ساتھ تدریسی خدمت کے لیے خود کو آمادہ کریں، مولانا کا یہ مشورہ کوئی مفاد پر مبنی نہ تھا، بلکہ میرے ساتھ ہورہے ناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہوکر انھوں نے یہ پیش کش کی تھی، لیکن جب میں نے اپنے مستقبل کے عزائم سے انھیں آگاہ کیا تو انہوں نے نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ ہر طرح کے علمی ومادی تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی۔
مولانا ایک عظیم ادارہ کے مہتمم نہیں تھے، بلکہ پورے علاقے میں علمی و اصلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے ان کا تعلق اہل اللہ سے بھی تھا، وہ علاقے کی بزرگ ہستیاں مولانا شمس الہدی راجو، مولانا عبد المنان قاسمی ناظم مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی، خلیفہ محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کے چشمہ صافی سے تزکیہ قلب کیا کرتے تھے. مولانا کا پورا خانوادہ علمی خانوادہ آپ کے سبھی برادران اعلی تعلیم یافتہ ہیں، آپ کے بڑے بھائی مفتی ثمین اشرف قاسمی حبطور مسجد دبئی کے امام و خطیب ہیں، مولانا فطین اشرف، رزین اشرف وغیرہ سب اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہیں. مولانا امین اشرف اپنی بے مثال قوت لسانی، فکر ونظر کی پختگی اور انسانیت سے بے لوث محبت کے پیش نظر شمالی بہار کی ہر دل عزیز شخصیت تھے، لوگوں کے عیب پر پردہ پوشی عمر بھر کا شیوہ رہا، خوبیوں پر نگاہ رکھتے اور کمزوریوں کو در گزر فرماتے۔
قسام ازل نے آپ کو گوناگوں امتیازی خصوصیات سے نوازا تھا، آپ اپنی ذات میں بے مثال خطیب، متبحر عالم دین، اعلیٰ مدبر نابغہ اور صاحب بصیرت انسان تو تھے ہی مگر ساتھ ہی معاملہ فہمی، مزاج شناسی، دوست داری، وضع داری، تحمل وروا داری جیسی صفات بھی آپ کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں، یہی وہ بنیادی وجوہ ہیں کہ آپ مرجع خلائق اور عوام وخواص کے دلوں کی دھڑکن تھے. زندگی کے تمام مراحل میں نیک نام اور ہر دل عزیز رہے. آپ کی وفات ایک خانوادے کے لیے دل گیر نہیں بلکہ پورے ملک بطور خاص شمالی بہار کے عوام وخواص کے لیے ناقابل تلافی خسارہ ہے. مولانا نے دور افتادہ علاقوں میں شبانہ روز کی جدوجہد سے جہالت و خرافات کا قلع قمع کیا ساتھ ہی انھوں نے فضائل ومسائل زکوٰۃ، فضائل ومسائل رمضان وروزہ جیسی متعدد علمی تصانیف کے ذریعے امت کو فیضیاب کیا. خدا ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے. میں اپنی غیر مربوط تحریر جو میرے احساسات ہیں کے ذریعے آپ کے جملہ برادران مفتی ثمین اشرف، مولانا رزین اشرف، ڈاکٹر فطین اشرف، مولانا حسین اشرف اور صاحبزادے نجیب اشرف قاسمی، لبیب اشرف وجملہ اہل خانہ کی خدمت میں تعزیہ مسنونہ پیش کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرماکر ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے ذریعے کیے گئے علمی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔
فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*