مولانا ابو الکلام آزاد اور اُردو صحافت-عبد اللہ سلمان ریاض

جنرل سکریٹری آن لائن اسلامک سنٹر ومدیر اعلیٰ ماہنامہ پیام ِانسانیت، بنگلور
کسی نے کہا ہے:“Journalism is the first rough draft of history.” صحافت تاریخ کا پہلا مسودہ ہے۔مولانا آزاد صحافت کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اس کے اثرات کس قدر دُور رَس اور اہم ہیں اس سے بھی مولانا آگاہ تھے۔
مولانا آزاد کی شخصیت اپنے جلو میں بہت کچھ لئے ہوئے تھی۔آپ بیک وقت مستند عالم دین، بلند پایہ خطیب،زبردست انشاء پرداز، مقبول ملی و قومی رہنما، سیاسی لیڈر اور انتہائی اہم اور چوکنّا صحافی تھے۔مولانا اپنی فطری افتاد، اپنے افکار و تصورات، اپنے رجحانات و میلانات اور ذہنی اکتسابات کے تنوع کے لحاظ سے اس قدرغیر معمولی انسان تھے کہ بیک وقت نہ ہم ان کے جملہ فضائل و خصائص کا احصار کرسکتے ہیں۔ نہ ان کے دماغ کو مختلف خانوں میں تقسیم کرکے ان کی ادبی، علمی، مذہبی و صحافتی خصوصیات کے درمیان کوئی حدِ فاصل قائم کرسکتے ہیں۔
بقول علامہ نیاز فتح پوری: ”مولانا کے فضل وکمال کا تنوع،ان کے مطالعہ کی وسعت ان کا پاکیزہ جمالیاتی ذوق اور ایک خاص قسم کا عالمانہ رکھ رکھاؤ۔ ان سب کا اتنا دلکش کش امتزاج ان کے اندر پایا جاتا تھا کہ ہم ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جداکر ہی نہیں سکتے۔گویا وہ ایک ایسا کل تھے جس کاکوئی جزو اس سے علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے سامنے اگر مختلف رنگ کے پھول علاحدہ علاحدہ رکھ دیئے جائیں تو ہم ان کے رنگ ونکہت پر علاحدہ علاحدہ اظہارخیال کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ان سب کا گلدستہ بنا کر سامنے لایا جائے تو ہم اسے گلدستہ ہی کی حیثیت سے دیکھیں گے اور امتیازِ رنگ ونکہت کا کوئی سوال ہمارے سامنے نہ ہوگا۔ بالکل یہی حال مولانا کے ذہنی اکتسابات کے تعددوتنوع کا تھا کہ ہم ان کو ایک دوسرے سے علاحدہ کر ہی نہیں سکتے۔ خواہ وہ شعروادب سے متعلق ہوں۔خواہ مذہب و حکمت سے وابستہ ہوں۔ خواہ صحافت وسیاست سے!“ (۱)
بہر حال یہاں ہماری گفتگو کا محورمولانا آزاد کی صحافت ہے۔مولانا کی صحافتی خدمات کو تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ جس کا آغا ز مولانا نے ہفتہ وار ”المصباح“سے کیا تھا۔ اس کے بعد مولانا”احسن الاخبار“،”الندوہ،، ، سہ روزہ ”وکیل“ امرتسر، ہفتہ وار ”دارالسلطنت“ اور”لسان الصدق“سے وابستہ رہے اور ان رسائل واخبار کو اپنی دلکش اور نرالے طرز تحریر کے باعث صف اول میں جگہ دلادی اور”لسان الصدق“ کو مولانا نے اسم بامسمٰی بنا دیا تھا اور مولانا کو ملک گیر شہرت ”لسان الصدق“ہی کی بدولت حاصل ہوئی۔ دوسرا دور”الہلال“ کا ہے۔جس میں مولانا نے اخبار کے اصل مطمح نظر کو اس انداز سے پیش کیا کہ ہمیں اس کی نظیر اس سے قبل نہیں ملتی۔اور تیسرا دور”البلاغ“ کاہے۔
دورِ اول خالص علمی تھا۔دوسرا سیاسی اور تیسرا مذہبی واصلاحی اور ان تینوں زمانوں میں انھوں نے جو کچھ لکھا وہ ان کی انفرادیت اور انہیں کا خاصہ تھا اس کے بعد کسی نے ان کے اسلوبِ نگارش کو اپنا نہیں سکا۔
لارڈ جارج سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ صحافی بننے کے لئے ایک انسان کو کیا جاننا چاہئے۔انھوں نے جواب دیا۔”سب کچھ اور کچھ نہیں“ یعنی صحافی در اصل وہ ہے جو دنیا کی تمام باتوں کو جانے، لیکن ماہر کسی کا نہ ہو، لیکن مولانا کی یہ عجیب وغریب خصوصیت کہ وہ بہت کچھ جانتے تھے اور جو کچھ جانتے تھے ماہرانہ حیثیت سے جانتے تھے ایسی خصوصیت تھی جس کی نظیر دنیائے صحافت میں مشکل ہی سے مل سکتی ہے۔
چنانچہ اُنھوں نے صحافت کو اپنا وسیلہئ اظہار بناتے ہوئے معاشرتی اصلاحی،علمی، ادبی تحریک میں موثر کردارادا کرنے کی غرض سے ۳۱ جولائی ۲۱۹۱ ء؁ میں کلکتہ سے ”الہلال“ نامی اخبار شائع کیا جس سے اردو صحافت کو اچھوتا اسلوب، نئے موضوعات اور نیا انداز فکر عطا ہوا۔اور ایسا کیوں کر نہ ہوتا اس لئے کہ شعبہئ صحافت سے مولانا کا دیرینہ تعلق تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنگ آزادی میں ملک کے متعدد رسائل و اخبارات نے اہم کردار اداکئے لیکن جس طرح ”الہلال“ اور ”البلاغ“ تحریک آزادی میں اثر انداز ہوئے دیگر اخبارات اس طرح اثر انداز نہ ہوسکے۔ ”الہلال“ اور ”البلاغ“ ہی کا یہ کارنامہ تھا کہ لوگوں میں ملک کی آزادی کی خاطر قربانی کا جذبہ انگڑائیاں لینے لگا اور لوگ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔
مولانا آزاد نے ہفت روزہ الہلال کو معیاری ومنفرد اخبار بنانے کے لئے ایک کام یہ کیا کہ اس کا ظاہری ڈھانچہ گٹ اپ، عمدہ، دیدہ زیب بنایا اور معنوی اعتبار سے اس کی ترتیب و تہذیب اس طرح کیا کہ اس کا حسن ہر لحاظ سے دوبالا ہوگیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی اس کوشش کا نتیجہ سامنے یہ آیا کہ اس کے بعد دوسرے اخبارات ورسائل بھی اس کا اہتمام کرنے لگے۔
”الہلال“سے پہلے اخبار عموماً لیتھوپریس اور نستعلیق خط میں چھپتے تھے جس بنا پر اخبار میں تصویریں صاف نہیں ہوتیں اور کتابت کی اغلاط بھی بہت ہوتیں لیکن جب مولانا نے ”الہلال“نکالا تو کتابت کی غلطیوں سے مبرا،طباعت میں عمدہ اور کا غذ بے حدشاندار تھا نیز رنگین سرورق ہونے کے سبب جاذب نظر بھی تھا۔ اس اخبار کے کالموں میں تصاویر شائع کرکے صحافت کے میدان میں ایک نئی راہ کا آغاز کیا تھا،بھاری بھر کم اہم اصطلاحیں، نئی ترکیبوں،نئی تشبیہوں،نئے نئے استعاروں، نئے اسلوب بیان اور نئے نئے موضوعات و مواد کے سبب پڑھے لکھے طبقہ میں اس اخبار نے انقلاب پیداکردیا۔مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ جس دور میں کسی بھی اخباریا جریدے کی اشاعت سو سے زیادہ نہ تھی اُس دور میں اس اخبار کی اشاعت ۶۲ہزار تک پہونچ گئی۔ایسا نہیں تھا کہ اِس اخبار کی قیمت اُس دور میں کم رہی ہو بلکہ اُس وقت اِس کا چندہ بارہ روپئے تھا جو اُس زمانے میں ایک اچھی خاصی رقم تصور کی جاتی تھی۔اخبار کی قیمت زیادہ ہونے کے باوجود اس کی اشاعت اس لئے زیادہ تھی کہ اس اخبار میں شائع شدہ تحریریں ایسی ہوتی تھیں کہ پڑھے لکھے لوگوں کو اس اخبارکو خریدنے کے علاوہ کوئی چارۂ کا رہی نہ تھا۔اس اخبار سے صاحب ذوق افراد کو آسودگی حاصل ہوتی اور ذہن کو تسکین ملتی۔اس کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ اس کی اشاعت کا لوگوں کو شدت سے انتظار رہتا۔اخبار کے بازار میں آتے ہی لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے اور پرچے کو لوگ حلقہ بنا کر سنتے اوران کے ایک ایک فقرے پر غور و فکر کرتے۔یہی نہیں بلکہ عوام کی مانگ پر اخبار کی دوربارہ اشاعت بھی کی جاتی تھی۔
مالک رام کے مطابق: ”الہلال کئی لحاظ سے عہد آفریں ثابت ہوا۔ اس شان کا کوئی ہفتہ وار پرچہ اُردو میں شائع نہیں ہوا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی جو پرچے نکلے، ان کے سامنے نمونہ ”الہلال“کا ہی رہا۔ہر ایک کی یہی خواہش رہی کہ شکل وصورت، مضامین کی ترتیب،اداریے،تصاویر وغیرہ میں ”الہلال“کا تتبع کریں“۔ (۲)
الہلا ل کی مقبولیت کا راز:
الہلال کی مقبولیت کا راز جہاں تک میں سمجھتا ہوں مولانا کا اسلوب نگارش اور ترتیب و تہذیب اور خود مولاناکی اپنی شخصیت کے علاوہ اس کے ادارہئ تحریر میں اُس وقت کے مشہور عالم دین وصحافی سید سلیمان ندوی، عظیم مصنف سید عبدالسلام ندوی،معروف انشاء پرداز عبداللہ عمادی،عبدالواحد کانپوری، حامد علی صدیقی اور عبدالرزاق ملیح آبادی جیسے مشاہیر اہل قلم کی ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل رہنا اس کی مقبولیت کی بین دلیل ہے۔کسی دوسرے اخبار کے ادارہئ تحریر میں دنیائے صحافت کی اتنی عظیم ہستیاں نہ اس سے پہلے جمع ہوئیں اور نہ اس کے بعد۔
مالک رام لکھتے ہیں: ”الہلال کے تمام کارناموں سے قطع نظر اس کی اہمیت اور معیارکا اندازہ لگانے کے لئے صرف اس کا حیرت انگیز ادارہئ تحریر ہی کافی ہے،جو ملک کے صف اوّل کے ادیبوں اور انشاپردازوں پر مشتمل تھا۔ ہفتہ وار تو درکنار کسی اور ماہنامے کو بھی آج تک ایسا شاندار ایڈیٹوریل اسٹاف نہ ملا ہوگا“۔(۳)
دوسری اہم بات یہ تھی کہ مولانا نے اخبار کو تجارت کی غرض سے نہیں نکالاتھا بلکہ اُن کا منشاء یہ تھا کہ عوام کو صحیح حالات سے باخبر کیا جائے اور ان کے اندر آزادی کا جذبہ ابھاراجائے۔اور حق بات کو ڈنکے کی چوٹ پر کہا جائے۔مولانا اخبار کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد رکھنے کے خواہاں تھے اسی لئے اس کا باقاعدہ چندہ مقرر کیا گیا تھا۔چناں چہ جب انہیں ایک نواب نے اخبار کی اشاعت کے بعد عطیہ دینا چاہا تو انھوں نے عطیہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف ایک در کے محتاج ہیں جس در سے مانگنے کے بعد کوئی در نہیں جاتا۔
اُنھو ں نے ایک موقع پر کہا: ”اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے اور چاندی وسونے کا سایہ بھی اس کے لئے سم قاتل ہے، جو اخبار نویس رئیسوں کی ضیافتوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی عطیوں،قومی امانت اور اسی طرح فرضی ناموں سے قبول کرلیتے ہیں۔ وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نورایمان کو بیچیں بہتر ہے کہ َدریُوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر قلندروں کی کشتی کی جگہ قلم دان لے کر رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور گلی کوچہ ”قلم ایڈیٹری کا“کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔“ (۴)
مولانا ابوالکلام کی یہ تحریر صحافت کا پیشہ اختیار کرنے والوں کو محض محاسبہ کرنے کی دعوت ہی نہیں دیتی بلکہ ذہن وضمیر کو بیدار کرتے ہوئے اس طریقہئ کار کو صحافی اپنا شعار بنا لیں تو یقینا آزادئ فکر کا کہیں بھی گلا نہ گھونٹا جاسکے گا۔
الہلا ل کا اسلوب نگارش:
مولانا آزاد نے الہلال کے اندر ایک کمال یہ پیدا کیا کہ اس کی زبان کو پر جوش اور معیاری بنایا۔ مولانا کا یہ قدم مقتضائے حال کے مطابق تھا۔آج سے سوسال قبل اردو زبان کا معیار موجودہ دور کے بہ نسبت بہت بلند تھا، عموماً اُس زمانے میں قارئین ادبی وعلمی ذوق رکھتے تھے۔ الہلال کی ادبی زبان کے بارے میں مولانا عبدالماجد دریاآبادی نے لکھا: ”آج سے کوئی پچیس سال اُدھر کی بات ہے۔ الہلال افق کلکتہ سے نیا نیا طلوع ہوا تھا اور ملک کی ساری فضا ابوالکلامی ادب وانشاء کے غلغلہ سے گونج رہی تھی“۔(۵)
الہلال کی خصوصیت کے بارے میں مولانا عبد الماجد دریابادی نے ایک اور جگہ لکھا: ”جاذبیت کا یہ عالم کہ نکلتے ہی سکہء رائج الوقت بن گئے حالیؔ و شبلیؔ کی سادگی سرپیٹتی رہی اوراکبرالہ آبادی اور عبد الحق موجودہ بابائے اردو سب ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے“۔ (۶)
پروفیسر عبدالمغنی نے تو صاف لفظوں میں نہ صرف الہلال کی صحافت کو سراہا ہے بلکہ اس کے ادب کا بھی کھل کر اعتراف کیا ہے۔ ان کے یہ الفاظ دیکھئے: ”1912میں کلکتہ سے ”الہلال“مولانا ابوالکلام آزاد کے زیر ادارت اردوزبان وادب اور صحافت وسیاست نیز مذہب ومعاشرت کے لئے ایک صوراسرافیل بن کر نمودار ہوا“۔ (۷)
ابوالکلام آزادکی نثر کے تعلق سے ایک جگہ لکھتے ہیں: ”الہلال کی نثر کے جوش وخروش،منطق واستدلال اور دعوت وتبلیغ نے اردوداں معاشرے میں ایک زلزلہ ساڈال دیا، اس کے طرز بیان کی خطابت نے قارئین کے رگ وپے میں بجلیاں دوڑادیں“۔ (۸)
چنانچہ ”الہلال“کے اداریوں کے جوش وخروش کے سیلاب کا ذکر صباح الدین عبدالرحمٰن نے ایک جگہ کچھ اس انداز سے کیا ہے کہ اخبار کی اس دور میں علمی، ادبی اور سماجی خدمات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں: ”وہ”الہلال“میں اپنے الفاظ کے شکوہ فقروں کی چمک دمک،تحریر کی حرارت اور تاثیر سے بجلی بھی گراتے اور موتی بھی لٹاتے رہے۔پھول بھی برسائے اور انگارے بھی۔انہوں نے ”الہلال“کی ادارت کے زمانے میں محض اپنے قلم کے سحر سے ہندوستان کے مسلمانوں کو غلبہئ حق کا یقین دلایا۔ ان کے دلوں میں توحید اور ایمان کو راسخ کیا۔ طرابلس کے مظلوم مسلمانوں کے لئے ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں تڑپ پیدا کردی تُرک شہیدوں کے لئے ان کی آنکھوں سے خون کے آنسورلائے۔کانپور کی مسجد کے انہدام پر مسلمانوں کے گھر گھر میں ماتم برپا کردیا اور ان کے سیاسی ذہن پر ایک ضرب کلیمی لگا کر ان میں خود اعتمادی اور خودشناسی کے جذبات بیدار کئے۔“(۹)
ہفتہ وار”الہلال“کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ صحافت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے باوجود اپنے جلو میں ادب کی بے پناہ وسعتیں رکھتا تھا۔ صحافت کی لڑی میں ادب کے موتیوں کو پرونے کا جو کام الہلال نے کیا، وہ کوئی اور نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو ادب سے الگ دیکھا گیا لیکن الہلال اور مولانا آزاد کی صحافت کو کلی طور پر ادب سے الگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔علی جوادزیدی لکھتے ہیں: ”ادبی صحافت کی اصطلاح مولانا آزاد کے لئے مخصوص ہو کر رہ گئی ہے، کوئی دوسرا اس صفت خاص میں شریک نہیں، ادب اور صحافت کو اس طرح آمیز کرنا کہ صحافت کی عام پسندی اور وقتی ہمہ گیری بھی بر قرار رہے اور ادبی اسلوب کی دل نشینی اور تہہ داری بھی اپنے طور پر کار فرما رہے۔ اس قدر عجیب اور اس قدر مشکل کام تھا کہ مولانا کے بعد کوئی دوسرا شخص اس انداز کو اختیار نہ کرسکا“۔ (۱۰)
الہلال نے ان الفاظ میں اس کا اعتراف کیا ہے: ”اس کے طرز انشاء وتحریر نے اردو علم ادب میں دوسال کے اندر ایک انقلاب عام پیدا کردیا ہے……اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک جملہ ترکیب بلکہ عام تعبیر وترتیب واسلوب بیان اس وقت کے تمام اردو ذخیرہ میں مجددانہ ومجتہدانہ ہے“(۱۱)
الہلال کی ادبی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض ادیبوں وتجزیہ نگاروں نے اسے سیاسی وصحافتی اخبار کے ساتھ ادبی جریدہ بھی کہا ہے۔ علی جوادزیدی لکھتے ہیں: ”الہلال تمام تر ایک سیاسی پر چہ تھا…….عبارت کے رکھ رکھاؤ،لفظوں اور ترکیبوں کی نوک پلک،برجستہ وبرمحل اشعار کے شمول سے سیاست میں علم کا وزن اور ادب کی نمکینی اور چاشنی پیدا ہوجاتی تھی۔ لفظ اور جذبہ کا وہ توازن صحیح تھا کہ نثر میں شعریت اور عرب ویونان کی خطابت کا مزہ ملتا ہے“۔(۱۲)
الہلال مولانا کی تمام خصوصیات ذہنی کا ایک ایسا رنگین گلدستہ تھا جو بیک وقت اخبار بھی تھا اور قدر اوّل کا میگزین بھی جس میں سیاسی مقالات، علمی وتاریخی مضامین، مذہبی وادبی مباحث، مطالبات، منظومات الغرض وہ سب کچھ پایا جاتا تھا جس سے ہر ذوق انسانی آسودہ ہو سکتا ہے اور جو اپنے بعد ایسا خلا چھوڑ گیا جس کا پُر ہونا ممکن نہیں اور البلاغ ایک مذہبی تبلیغی آرگن تھا جس کا خطاب زیادہ تر مسلمانوں سے تھا تاکہ ان کے ذہن ودماغ سے رسم وروایات کے نقوش محو کر کے ان کو صحیح تعلیم قرآنی سے آشنا کیا جائے اور وہ سمجھ سکیں کہ اسلام کا حقیقی مقصود انسانیت پرستی کے سوا کچھ نہیں اور جو ماوراء دیرو حرم”ہر جا کنیم بِداں آستاں رسد“کا مبلغ ہے۔
الہلال کے ذریعہ مسلمانوں میں بیداری کا کام:
مولانا آزاد نے ”الہلال“کے ذریعہ مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا کیوں کہ اس دور میں مسلمان سیاسی اور شعوری طور پرد یگر قوموں کی بہ نسبت پچھڑتے جارہے تھے لہٰذا مولانا ”الہلال“ کے ذریعہ مسلمانوں کو منظم کیا تاکہ ان کی انفرادیت بر قراررہے۔انھوں نے اپنی دعوت وتبلیغ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ”الہلال“کی دعوت کا اصل الاصول مسلمانوں کو ان کی زندگی کے ہر عمل اور ہر عقیدے میں اتباع کتاب اللہ ورسول کی طرف بلاتا ہے اور ان کی پولیٹکل پالیسی بھی اسی اصول کو پیش کرتا ہے“(۱۳)
الہلال کے اداریوں میں مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے مولانا نے قرآن کریم کی آیتوں سے استدلال کیا تاکہ مسلمانوں کو بات آسانی سے سمجھ میں آسکے۔ مولانا کے اس طرز تحریر کی بدولت مسلمانوں میں احساس بیداری اور جذبہ ء حریت بیدار ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ہندؤں سے مل کر آزادی کی جنگ لڑنے کا عزم مصمم کیا۔ مسلمانو ں کو تقاضائے وقت کے تحت آگے بڑھنے کے لئے صرف آمادہ ہی نہیں کیا بلکہ افہام و تفہیم کا ایسا طریقہ اختیار کیا کہ بات جو دل سے نکلے وہ دل میں جاکر بیٹھے۔
مسلمانوں کی فہمائش کا ذرا نرالا انداز ملاحظہ فرمائیں: ”ہندوؤں کے دو پولیٹکل گروہ موجود ہیں آپ ان میں سے کس کے ساتھ ہیں؟ گذارش ہے کہ ہم کسی کے ساتھ نہیں بلکہ خدا کے ساتھ ہیں۔ اسلام اس سے بہت ارفع واعلا ہے کہ اس کے پیرؤں کو اپنی پولیٹکل پارٹی قائم کرنے کئے لئے ہندؤں کی پیروی کرنی پڑے۔ مسلمانوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی شرم انگیز سوال نہیں ہو سکتا کہ وہ دوسروں کی پولیٹکل تعلیموں کے آگے جھک کر اپنا راستہ پیداکریں ان کو کسی جماعت میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں وہ خود دنیا کو اپنی جماعت میں شامل کرنے والے اور اپنی راہ پر چلانے والے ہیں اورصدیوں تک چلا چکے ہیں،وہ خداکے سامنے کھڑے ہو جائیں تو ساری دنیا آگے کھڑی ہو جائے گی۔“(۱۴)
اخبار”الہلال“ کے مخاطب تو مسلمان ہوتے لیکن اس کے اصل مخاطب ہر محب وطن تھا مگر بظاہر مولانا نے مسلمانوں کو اپنا مخاطب اس لئے قرار دیا تھا کہ وہ اپنے ہم وطن ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر مغربی استعمار کو شکست دینے میں معاون و مددگار بن جائیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اداریوں میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی بات کرتے ہوئے کبھی بھی دیگر اقوام کی دل آزاری نہ کی بلکہ ان کا قلم ذاتیات سے بالا ہوکر چلتا تھا۔
بلا شبہ مولانا نے ”الہلال“کے ذریعہ مسلم عوام کو سیاسی شعور سے محض آشنا ہی نہ کیا بلکہ بدلتے ہوئے دنیا کے حالات سے بھی روشناس کرایا۔مولانا کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ملک کو آزاد کرانے کے لئے ہندوستان کے دیگر باشندوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا جذبہ مسلمانوں کے اندر پیدا کیا اور یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ ہندومسلم اتحاد کے بغیر نہ ہی ملک کو آزادی نصیب ہو سکتی ہے اور نہ ہی مسلم معاشرہ کے مسائل حل ہو سکتے ہیں چنانچہ انھوں نے آزادی کے آثار سے قبل ہی لکھا: ”یاد رکھئے ہندؤں کے لئے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا داخلِ حب الوطنی ہے مگر آپ کے لئے ایک فرض دینی اور داخل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“(۱۵)
آخری بات:
الہلال کی کڑک آواز سے برطانوی حکومت کی نیندیں اڑگئیں چناں چہ حکومت نے یہ دیکھا کہ اگر اخبار اسی طرح نکلتا رہا تو حکومت ہاتھوں سے نکل جائے گی لہٰذا اخبار نکلنے کے چند مہینے بعدہی,, الہلال،، پریس سے ضمانت طلب کی گئی۔ مولانا نے پانچ دن کے اندر ضمانت جمع کردی لیکن آزاد نے اخبار کی پالیسی کو تبدیل نہیں کیاچناں چہ مورخہ ۱۲/اکتوبر کو مشترکہ شمارہ نکلا جسے دیکھ کر حکومت بنگال نے ضبط کرلیا اور اخبار پر لگام لگانے کی غرض سے دس ہزار کی ضمانت طلب کی، مولانا کا یہ اخبار ۸۱/نومبر ۲۱۹۱ء تک جاری رہا۔ مزید ضمانت کو تحصیل حاصل سمجھتے ہوئے الہلا ل کو بند کرکے ”البلاغ“ کے نام سے دوبارہ اخبار نکالا لیکن ۱۳/ مارچ ۶۱۹۱ء تک صرف پانچ مہینہ ہی شائع ہوسکا، گیارہ سال بعد یعنی ۰۱/جون ۷۲۹۱ء کو ”الہلال“ دوبارہ منصہ شہود پر آیا لیکن ۶ماہ بعد ۹/دسمبر۷۲۹۱ء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔اس طرح اخبار صرف سوا دو برس ہی شائع ہوسکا۔
مولاناابو الکلام آزاد کی صحافت نے اُردو زبان و ادب کو بہت کچھ دیا۔اس سے اُردو زبان میں ایک نیا پن، ایک نیا اسلوب اور ایک نئی فکر ملی۔ جس سے اُردو زبان وادب آج بھی اپنے آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔اس کا ماضی روشن تھا، حال بھی روشن ہے اور مستقبل بھی انشاء اللہ روشن رہے گا۔ چوں کا اس کا تعلق دھڑکتے ہوئے دلوں سے ہے اور وہ ہے ہندوستان کے دینی مدارس و مکاتب، علماء و صلحاء، مجاوروخانقاہ جہاں آج بھی اُردو میں ہی سارے نظام چلتے ہیں۔اس لئے ہمیں اُردو زبان کا رونا رونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اپنے گھروں میں اس زبان کو برتنے کی ضرورت ہے۔
اخیر میں علامہ نیاز فتح پوری کا اقتباس نقل کرکے اپنی بات ختم کرتاہوں، وہ لکھتے ہیں:,,مولانا کے یہاں دینی وعلمی مقالات کا فاضلانہ لب ولہجہ،سیاسی مضامین کا مجاہدانہ وقائدانہ انداز،مذہبی افکار کا حکیمانہ اسلوب اور اسی کے ساتھ ان کی خطیبانہ بلندآہنگی،سرعسکرانہ رجز خوانی،مرد مجاہد کا سااذعان وایقان، کاہنوں کا ساوزن ووقار، جس نے ہم کو نیاولولہئ حیات، نیا جوشِ زندگی بخشا۔ ع
اب کہاں؟ اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔“ (۱۶)
مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں
شمعِ محفل کی طرح سب سے جدا سب کا رفیق!
٭٭٭
حوالہ جات:
(۱) مولانا آزادی کی صحافتی عظمت از نیاز فتح پوری، آج کل دہلی ابولکلام نمبراگست ۸۵۹۱ء
(۲) کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں،از:مالک رام،ص:۱۶ ناشر:مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی
(۳) مالک رام:صحافی وادیب (مضمون)،سہ ماہی”صبح دہلی“،”آزاد نمبر“،ص:۸۵
(۴) الہلال ۷۲/جولائی ۲۱۹۱ء؁ مطبوعہ اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ
(۵) عبدالماجد دریاآبادی، احوال وآثار از ڈاکٹر تحسین فراقی،مطبع ادارہئ ثقافت اسلامیہ۲۔کلب روڈ لاہور، صفحہ:۷۰۲
(۶) چند یادیں، صدقِ جدید ۴۱/مارچ ۵۸۹۱ء
(۷) ابو الکلام آزاد کا اسلوب نگارش،از:عبدالمغنی،ص: 37 ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ
(۸) ایضاً
(۹) ابوالکلام آزاد۔احوال وآثارمرتبہ مسعو الحسن عثمانی مطبع نامی پریس۔ص ۵۸۔۶۸
(۱۰)لانا ابوالکلام آزاد،شخصیت اور کارنامے“مرتبہ:خلیق انجم،مضمون:علی جوادزیدی،ص:۵۱۴،ناشر:اردواکادمی دہلی
(۱۱) الہلال:۴۲/جون۷۲۹۱،اداریہ
(۱۲) مولانا ابوالکلام آزاد،شخصیت اور کارنامے“مرتبہ:خلیق انجم،مضمون:علی جوادزیدی،ص:۵۱۴،ناشر:اردواکادمی دہلی
(۱۳) ضمیمہ الہلال ۲۲/ستمبر۲۱۹۱ء
(۱۴) الہلال ۸/دسمبر۲۱۹۱ء ؁
(۱۵) ایضاً
(۱۶) مولانا آزادی کی صحافتی عظمت از نیاز فتح پوری، آج کل دہلی ابوالکلام نمبراگست ۸۵۹۱ء

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*