معترضین و مخالفین کو گالی دینے کی بجائے خود کو قرآن فہمی سے آراستہ کریں – مسعود جاوید 

 

امریکہ میں ٹوین ٹاورز پر حملے کے بعد اسلام کو اس کے اصل مفہوم سلامتی امن، شانتی اور peace کے برعکس نفرت اور تشدد کا مذہب قرار دیا گیا اور قرآن کریم کو قتل و غارتگری اور جہاد کے لیے مائل کرنے کا (مصدر) سورس بتایا جانے لگا۔ اسلاموفوبیا کی لہر اس قدر تیز کر دی گئی کہ امریکیوں اور یوروپینز میں اسلام اور قرآن جاننے کا تجسس پیدا ہوا ان میں سے بہت سے لوگوں نے قرآن کریم کے ترجمے اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل لٹریچر خرید کر پڑھنا شروع کیا۔ اسی پڑھنے اور سمجھنے کے نتیجے میں بے شمار لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں کہا ہے : ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين. بے شک قرآن سرچشمہ ہدایت ہے۔ إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ. جو لوگ straight forward ہیں غیر متعصبانہ مطالعہ کرتے ہیں یہ قرآن ان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

عسی ان تکرهوا شيئا و هو خير لكم(Blessings in disguise)تو وسیم رضوی کا شوشہ بعید نہیں کہ غیروں میں قرآن فہمی کی لہر پیدا کر دے۔

 

لیکن غیروں کی بات کیا کریں ہم نے خود اپنوں کے لئے آج تک قرآن فہمی کی تحریک نہیں چلائی ( بعض استثناءات کے ساتھ)دیگر قوموں کی طرح اللہ نے ہمارے اندر بھی ہر طرح کی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں، ہم مسلمان انگریزی زبان کے ماہر ، انجنیئر ڈاکٹر کمپیوٹر سائنٹسٹ بن سکتے ہیں،چینی فرانسیسی و دیگر زبانوں پر دسترس حاصل کر سکتے ہیں مگر قرآن کا ترجمہ و تفسیر اپنی مادری زبانوں میں بھی پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں اور عذر لنگ یہ کہ عربی بہت دشوار زبان ہے۔ اسلامی تعلیمات سے خود کو آراستہ کرنے کی بجائے مولوی مولانا پیر صاحب کے محتاج رہتے ہیں۔ آج تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں اینڈرائڈ موبائل اسمارٹ فون نیٹ کے ساتھ ہے۔ انگلی کے ایک اشارہ پر سکنڈ میں ہر قسم کی معلومات مہیا ہو جاتی ہیں مگر ہر مسئلہ کے لئے مولویوں کے دست نگر !

خود قرآن فہمی سے دور رہنا اور رضوی جیسوں پر لعنت بھیجنا مشتعل ہونا ان کے خلاف دریدہ دہنی کالم گلوج کرنا زیب نہیں دیتا ہے۔

بعض جماعتوں ، گروپس( بالخصوص جماعت اسلامی ہند) کی طرف سے درس قرآن کا نظم کیا جاتا ہے، ان سے جڑنے اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے معاون بننے کی ضرورت ہے، مگر افسوس اس راہ میں مسلکی عصبیت ہمیشہ حائل ہو جاتی ہےـ اگر تفہیم القرآن میں لکھی بعض تفاسیر پر آپ کو اعتراض ہے تو شیخ الہند، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا عبدالماجد دریابادی مولانا آزاد رحمہم اللہ کے ترجمے و تفاسیر لے کر بیٹھیں ۔

بعض مسلکی متعصب فضائل اعمال والے زبان قال سے نہ سہی زبان حال سے درس قرآن کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں اسی طرح بعض متعصب درس قرآن والے کہتے ہیں کہ دعوت دین کا کام تو در اصل غیر مسلموں میں کرنے کا ہے لیکن یہ لوگ مسلمانوں میں کرتے ہیں ! جبکہ حقیقت یہ ہے جیسا کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ہم کوئی دکان کھول کر نہیں بیٹھے ہیں وہ لوگ بھی دین کا کام کر رہے ہیں اور ہم لوگ بھی۔ بس دائرہ کار الگ الگ ہے۔ ہم سب کو اپنے کام اور جذبوں کا تجزیہ اسی کی روشنی میں کرنا چاہیے، لیکن ان تمام وضاحتوں کے باوجود درس قرآن کے میدان میں جماعت اسلامی کے علاوہ باقی سبھی دینی تنظیموں کی طرف سے کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عصری درسگاہوں سے وابستہ لڑکے اور لڑکیوں کو درس قرآن کی طرف مائل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس لئے کہ سب سے زیادہ غیر مسلموں کے ساتھ انٹرایکشن اسی طبقے کا ہوتا ہے۔

اہم یہ ہے کہ درس قرآن کی ایک گھنٹہ روزانہ یا ہفتہ وار مجلس منعقد ہو۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*