مون سون اجلاس:پارلیمنٹ میں تحریری شکل میں ملیں گے سوالوں کے جوابات،اپوزیشن اب بھی غیر مطمئن

مون سون اجلاس:پارلیمنٹ میں تحریری شکل میں ملیں گے سوالوں کے جوابات،اپوزیشن اب بھی غیر مطمئن
نئی دہلی:پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے میں ابھی کچھ ہی دن باقی ہیں۔ کورونا بحران کی آڑ میں اس بار بہت ساری تبدیلیاں ہوچکی ہیں اور وقفۂ سوال کو ختم کردیا گیا ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے اس معاملے پر اعتراضات ظاہر کرنے کے بعد اب حکومت نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اب پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے دوران ممبران پارلیمنٹ تحریری طور پر سوالات کرسکیں گے، جن کا جواب صرف تحریری طور پر مل سکے گا۔ تاہم حزب اختلاف ابھی بھی اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ اجلاس سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کو بتایا جاتا ہے کہ اس بار راجیہ سبھا میں کوئی وقفۂ سوال نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں تمام ممبر اپنے سوالات پہلے دے سکتے ہیں، جس کا تحریری جواب دیا جائے گا۔واضح رہے کہ کرونا بحران کے دوران اس بار پارلیمنٹ کا اجلاس 14 ستمبر سے شروع ہورہا ہے جو بغیر کسی تعطیل کے یکم اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس بار دونوں ایوان الگ الگ شفٹوں میں چلیں گے تاکہ قواعد پر عمل کیا جاسکے۔ لیکن وقفۂ سوال اور وقفۂ صفر کو ختم کئے جانے کی وجہ سے حزب اختلاف غیر مطمئن ہے۔ ٹی ایم سی رہنما ڈیرک او برائن نے حکومت کے اس فیصلے کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ آپ نے وقفۂ سوال کو منظوری نہیں دی ہے۔ جہاں وزراء کو اراکین پارلیمنٹ کو جواب دینا پڑتا ہے۔ لیکن اب آپ تحریری سوالات اور جوابات پر راضی ہوگئے ہیں۔ ٹکڑے پھینکنا بند کردو، یہ پارلیمنٹ ہے، گجرات جم خانہ نہیں۔کانگریس کے رہنما ششی تھرور سمیت بہت سارے رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر حکومت کا گھیراؤ کیا۔ کانگریس کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹامپ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ جہاں سوالات پوچھنا منع ہے اور صرف اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کیے جائیں گے۔