مومنِ ‘صادق’ کی وفات ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مشہور شیعہ عالم اور دانش ور مولانا کلب صادق (ولادت 1939) گزشتہ شب واقعی وفات پاگئے _ وہ 82 برس کے تھےـ ان کی وفات کی اطلاع ان کے صاحب زادے سبطین صاحب نے دی ـ ‘واقعی’ کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ ایک ہفتہ قبل اسی طرح کی خبر عام ہوگئی تھی ، جو غلط ثابت ہوئی تھی _ الہ آباد کے میرے ایک بزرگ کرم فرما ڈاکٹر سرفراز عالم نے 18 نومبر کی دوپہر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجھے ان کی وفات کی خبر دی ـ اُس وقت تک سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی ـ تھوڑی ہی دیر میں ان کا دوبارہ فون آیا اور انھوں نے اس کی تردید کی ـ بہر حال اس غلط خبر سے مولانا کی عالمی سطح پر مقبولیت کا بہ خوبی اندازہ ہوگیا تھا _ کیوں کہ نہ صرف ملک کے مسلم اور غیر مسلم تمام طبقات نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا تھا ، بلکہ بیرونِ ملک میں بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا تھاـ
مولانا کلب صادق کا وطن لکھنؤ تھا _ انھوں نے ابتدائی تعلیم سلطان المدارس لکھنؤ سے حاصل کی تھی ، پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا تھا اور لکھنؤ یونی ورسٹی سے عربی زبان و ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی تھیں ـ
مولانا کا تعارف ایک عظیم ماہر تعلیم اور سماجی مصلح کی حیثیت سے تھاـ انھوں نے 1984 میں غریب اور نادار طلبہ کی تعلیمی امداد کرنے اور انہیں اسکالرشپ فراہم کرنے کے لیے توحید المسلمین ٹرسٹ قائم کیا تھاـ اس کے علاوہ بہت سے مقامات پر تعلیمی اور طبی ادارے قائم کیے تھے ، مثلاً یونِٹی کالج لکھنؤ ، یونِٹی مشن اسکول لکھنؤ ، یونِٹی انڈسٹیریل سینٹر لکھنؤ ، یونِٹی پبلک اسکول الہ آباد ، مدینۃ العلوم کالج علی گڑھ ، ایرا چیریٹیبل ہاسپٹل لکھنؤ ، ٹی ایم ٹی میڈیکل سینٹر شکار پور وغیرہ ـ انھوں نے لکھنؤ میں ایرا میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل قائم کیا تھا ، جس کی منتظمہ کمیٹی کے وہ صدر تھےـ
اہلِ تشیّع اور اہلِ سنّت کے درمیان مختلف اسباب سے دوریاں پائی جاتی ہیں اور خود غرض اور مفاد پرست لوگ خلیج کو مزید گہری کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ـ لکھنؤ میں اس کا مظاہرہ آئے دن ہوتا رہتا تھاـ میرے قیامِ لکھنؤ کے زمانے (1975 تا 1983) میں دونوں میں کئی بار چھوٹے بڑے فسادات ہوچکے تھےـ مولانا ان شیعہ علماء میں سے تھے جنھوں نے اس خلیج کو پاٹنے کی حتی الامکان کوشش کی اور بڑی حد تک اس میں کام یاب ہوئےـ
مولانا کلب صادق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھےـ اس منصب پر وہ کافی عرصہ فائز رہےـ بورڈ کو ملک کے تمام طبقات میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور امت اس کے فیصلوں کی تائید کرتی ہے اور اپنے مسائل میں اس کی طرف دیکھتی ہےـ بدخواہوں نے کئی مرتبہ اسے کم زور اور بے اعتبار کرنے کی کوشش کی ـ اس طرح کی ایک کوشش اس وقت ہوئی جب الگ سے شیعہ مسلم پرسنل لا بورڈ بنانے کی کوشش کی گئی اور مولانا کو آفر دیا گیا کہ وہ متحدہ بورڈ کو چھوڑ دیں تو انہیں شیعہ بورڈ کا صدر بنا دیا جائے گاـ لیکن مولانا نے اس پیش کش کو ٹھکرایا اور اتحاد باقی رکھاـ مولانا بہترین واعظ تھےـ مسلمانوں کے تمام طبقات میں انہیں مقبولیت حاصل تھی ـ وہ اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے پر بہت زور دیتے تھےـ
مولانا کلب صادق اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھی ـ وہ مسلمانوں کی تمام دینی جماعتوں کی خدمات کو قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھےـ جماعت اسلامی ہند کے اکابر اور ذمے داروں سے بھی ان کے قریبی تعلقات تھےـ جماعت کے اجتماعات میں انہیں مدعو کیا جاتا تو وہ بغیر کسی تحفّظ کے شرکت کرتے تھےـ
ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی کی علمی و تحقیقی خدمات کو وہ تحسین و ستائش کی نظر سے دیکھتے تھےـ ادارہ کا مجلہ سہ ماہی تحقیقات اسلامی ان کی خدمت میں اعزازی طور پر پابندی سے بھیجا جاتا تھاـ تحقیقات اسلامی کے 25 برس مکمل ہونے پر میں اس کا ایک خصوصی شمارہ (اکتوبر ـ دسمبر 2016) نکالا گیاـ اس موقع پر ملک و بیرون ملک کے نام ور علماء اور دانش وران سے تاثرات کی خواہش کی گئی ـ مولانا نے جواب مرحمت فرمایا تو اپنے خط میں لکھا : ” ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کی کوشش و کاوش قابلِ ستائش ہےـ میں اس ادارہ کی خدمات کا قدر دان ہوں ـ ربِّ کریم توفیقات میں اضافہ فرمائے ـ ” یہی نہیں ، بلکہ کچھ دنوں کے بعد مولانا علی گڑھ آئے تو ادارہ تشریف لائے اور تعلقِ خاطر کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنی جیبِ خاص سے ایک قابلِ قدر رقم ادارہ کو عطا کی ـ
مولانا عملی آدمی تھے ، جو کہتے تھے اس پر پہلے خود عمل کرتے تھے _ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اصلاحِ معاشرہ کی مہم چلائی گئی ـ اس کے تحت آسان نکاح منعقد کرنے کی ترغیب دی گئی تو مولانا نے خود اس پر عمل کیاـ الہ آباد کے ڈاکٹر سرفراز صاحب نے کچھ دنوں قبل مجھے یہ واقعہ سنایا کہ لکھنؤ میں انہیں بعض احباب سے معلوم ہوا کہ مولانا کلب صادق نے اپنی بیٹی کا نکاح صرف تین سو روپے میں کیا ہے تو انھوں نے مولانا کو فون کیا ، انہیں بیٹی کے نکاح کی مبارک باد دی اور دریافت کیا : ” کیا یہ بات درست ہے کہ اس نکاح پر صرف تین سو روپے کا خرچ آیا ہے؟” مولانا نے جواب دیا : ” کسی حد تک درست ہے ، مکمل درست نہیں ہےـ اس نکاح پر تین سو نہیں ، ساڑھے تین سو کا صرفہ آیا تھا ـ جو لوگ نکاح کے لیے آئے تھے ، چائے بسکٹ سے تواضع کرکے انہیں رخصت کردیا گیا تھاـ بعد میں میں نے بیٹی سے کہا : چلو تمہیں تمھارے گھر رخصت کرآؤں ـ اس طرح رات میں اسے اس کی سسرال پہنچا آیا تھاـ”
مولانا ملّت کا درد رکھنے والے ، بہت بے باک اور اس کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہتے تھےـ سالِ رواں کے اوائل میں جب پورے ملک میں شہریت ترمیم قانون (CAA) کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہورہے تھے ، لکھنؤ گھنٹہ گھر میں خواتین دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں ـ ان دنوں مولانا کی طبیعت کافی خراب تھی ـ اس کے باوجود وہ وہیل چیئر کے سہارے دھرنے کی جگہ پہنچے اور مظاہرہ کرنے والوں سے یک جہتی کا مظاہرہ کیاـ
مولانا کلب صادق جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور بعد میں صدیوں تک یاد کیے جاتے ہیں _ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین، یا رب العالمین !