موہن بھاگوت کے بیان کا خیر مقدم ہے۔ایم ودود ساجد

 

میں تمام ہوش وحواس کے ساتھ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے تازه بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔انہوں نے گزشتہ روز غازی آباد میں "راشٹریہ مسلم منچ” کے ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کئی باتیں بڑی اہم کہی ہیں ۔ انہوں نے یہ پہلی بار کہا ہے کہ ماب لنچنگ ہندوتوا کے خلاف ہے۔ یہ بھی پہلی بار کہا ہے کہ جو مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑنے کیلئے کہے وہ ہندو نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو اور مسلمانوں کو ڈوائڈ (تقسیم) کی نہیں ڈائیلاگ (مذاکرات) کی ضرورت ہے اور یہ کہ ہندوستان سب کا ہے اور یہ کہنا کہ ہندؤں کا زیادہ ہے یا مسلمانوں کا زیادہ ہے’ غلط ہے۔

میں نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ موہن بھاگوت کے بیان کا غیر مشروط خیر مقدم کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ اپنے بیان کی روشنی میں آپ حکومت سے کہیں کہ وہ ماب لنچنگ کے خلاف ایک سخت قانون بنائے’ متاثرین کو معاوضہ ادا کرے اور مجرموں کو سزا دلوائے ۔

میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کو موہن بھاگوت کے مذکورہ بیان کا فی الحال کوئی اگر مگر کئے بغیر خیر مقدم کرتے ہوئے مذکورہ مطالبہ دوہرانا چاہئے۔ آپ ان کے بیان کے "فریم” میں ہی ان سے عمل کا مطالبہ کیجئے۔ ان کے بیان سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہ کہئے۔ نتیجہ کا انتظار کیجئے مگر کسی ممکنہ نتیجہ پر بھی کوئی رائے ظاہر نہ کیجئے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*