آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان محض شبیہ ٹھیک کرنے کی کوشش :قاسم رسول الیاس

نئی دہلی(پریس ریلیز):ویلفیئرپارٹی آف انڈیا آر ایس ایس سرسنگھ چالک مسٹر موہن بھاگوت کے بیان کو گمراہ کن ، منافقانہ اور اپنی شبیہ درست کر نے کی ایک کوشش سمجھتی ہے۔ویلفیئرپارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ مسٹر موہن بھاگوت نے اپنی ذیلی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے ایک پروگرام میں تقریر کر تے ہو ئے آر ایس ایس کی داغدار شبیہ کو ٹھیک کر نے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے دور اقتدار میں مسلمانوں کے خلاف جس منافرت، بغض و عناد اور اشتعال انگریزی کا اظہار ہو رہا ہے،جس طرح کبھی گئو کشی کے نام پر اور کبھی لو جہاد کے نام پر پورے ملک میں لنچنگ کے واقعات ہو رہے ہیں،انتخابی ریلیوں میں مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کو پولارائز کر نے کی کوشش ہو رہی ہے،سی اے اے اور این آر سی کے نام پر ان کی شہریت پر ہی سوال کھڑے کیے جارہے ہیں اور اب آبادی کنٹرول کے نام پر ایک نیا شگوفہ چھوڑا جا رہا ہے اس نے نہ صرف ملک کی تصویر کو عالمی سطح پر داغدار کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بی جے پی اور اس کی سر پرست آر ایس ایس کو ایک متشدد، جمہوریت مخالف اور فسطائی تنظیم کے بطور جانا جارہا ہے۔مسٹر بھاگوت کی یہ تقریر اپنی شبیہ کو درست کر نے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ڈاکٹر الیاس نے آگے کہا کہ حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے اس پر سوال اٹھانا شروع کر دیا تھا نیز عالمی سطح پر جو سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیاں ہو رہی ہیں وہ بھی اس وقت بھارت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔موہن بھاگوت نے اپنے اس بیان کے ذریعہ بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کا ماحول تیار کر رہے ہیں یا ان کی لنچنگ کر رہے یا انھیں ملک سے باہر کر دینے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں ،وہ ہندتوا کے مخالف ہیں۔ان کے بیان کے جو اجزاء اخبارات میں شائع ہو ئے ہیں وہ بظاہر یہ تاثر دیتے ہیں کہ گو یا ملک میں جو کچھ مسلمانوں کے خلاف ہو رہا ہے وہ غلط ہے اور یہ سب کچھ سیاست کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پھر انہوں نے مسائل کو حل کر نے کے لئے ڈائیلاگ کی بات کی ہے۔ویلفیئر پارٹی کے قومی صدر نے کہا کہ جو لوگ آر ایس ایس کی فکر اس کے لٹریچر اس کے سربراہوں کے بیانات(جو تحریری طور پر موجود ہیں)، اس کی قائم کر دہ سیاسی پارٹی بی جے پی اور اس کے سربراہوں کی اشتعال انگیزی، اس کی متعدد ذیلی تنظیموں کی کاروائیاں، بابری مسجد کی شہادت، رام مندر کے لیے چلائی جانے والی نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مہم سے جو لوگ ناواقف ہوں وہ شاید اس بیان کو ایک مثبت اورایجابی قدم قرار دیں تاہم جب تک وہ اپنے لٹریچر، سابقہ بیانوں سے رجوع نہیں کر تی اور ان کے منافرانہ کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت نہیں کر تی اور حکومت پر دبائو ڈال کر مجرموں کوکفیرکردار تک نہیں پہنچاتی ان بظاہر خوبصورت الفاظ کی کو ئی معنویت نہیں ہے۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ بی جے پی اور آرایس ایس کا فکری منہج ایک ہی ہے۔آرایس ایس کے سربراہ اگر واقعی ملک کی ترقی و فلاح چاہتے ہیں تو انہیں بی جے پی اوراپنی تمام ذیلی تنظیموں کو لگام دینی چاہیے۔مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف اٹھائے گئے تمام اقدامات کو واپس کر وانا چاہیے، حکومت کے ذریعہ سی اے اے قانون کو واپس اور بے گناہ مسلمانوں پر سے تمام جعلی مقدمات واپس لے کر انھیں رہا کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح آرایس ایس کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ ملک ایک کثیر مذہبی، کثیر تہذیبی اور کثیر لسانی ملک ہے۔ ملک کے دستور نے جو حقوق یہاں کے تمام طبقات بشمول مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دیئے ہیں ان کا اسے احترام کر نا چاہیے۔ان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ہندوئوں کی اکثریت اور انصاف پسند لوگوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اور متشدد کاروائیوں کی مخالفت کی ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان سات سالوں میں ہندوئوں کے ایک بڑے طبقہ کے ذہن و دماغ کو آرایس ایس اور بی جے پی نے پراگندہ کر دیا ہے۔آر ایس ایس کو مسلمانوں کی جان و مال، دینی شناخت،مذہبی آزادی کا اسی طرح احترام کر نا چاہیے جس کا تقاضہ ملک کا دستور کرتا ہے۔اگر آر ایس ایس واقعی اپنے رویہ اور طرز عمل کو بدلنے کے لیے آمادہ ہے تو اس کی شروعات اسے اپنے آپ سے کر نی چاہیے۔اپنی تمام عسکر ی و متشدد تنظیموں کوختم کر دینا چاہیے۔اس ملک کی تکثیری ،متنوع اور فیڈرل حیثیت کو تسلیم کرلینا چاہیے۔اگرایسا کچھ نہیں ہو تا تو موہن بھگوت کے اس بیانات کو سوائے گمراہ کن اور منفقانہ بیان کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*