موہن بھاگوت کے برعکس بھاجپالیڈر کا متنازعہ بیان ، مسلمان ہمارے بھائی نہیں ، ان کے خلاف ’ہتھیار ‘اٹھانا ضروری

الور؍جے پور:بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر گیان دیو آہوجا نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دے ڈالاہے۔ گیان دیو آہوجا نے کہا ہے کہ مسلم سماج کے لوگ اب ہمارے بھائی نہیں رہے،اب ہندوؤں کو ’شاستر‘ کے ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا پڑے گا۔ الور کے رام گڑھ تھانہ علاقہ میں ایک 12 سالہ نابالغ سے آبروریزی کے معاملہ میں گیان دیو آہوجا متاثرہ سے ملنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے 25 جولائی کو بہادر پور میں ہتھیار کے ساتھ ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا ہے۔اجتماعی آبروریزی متأثرہ کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد گیان دیو آہوجا نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندو تنظیموں کو شاستر کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی اٹھانا ہوگا، کیونکہ خاص مذہب (مسلمانوں)کے لوگ ہماری ہندو بیٹیوں کے ساتھ آئے دن ظلم وزیادتی اور آبروریزی جیسے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متأثرہ کے والد کو مالی لالچ دے کر رضا مندی کا دباؤ بنایا گیا۔ نہ ماننے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، اس لیے اب ہمیں اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ’ہتھیار ‘بھی اٹھانے ہوں گے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گیان دیو آہوجا نے کہا کہ بہادر پور کے تحصیل پرگنہ میں 25 جولائی کو لاٹھی ریلی نکالی جائے گی، جس میں ہندو تنظیموں کے 10000 لوگ جمع ہوں گے، اس میں کسی بھی مسلمان کو نہیں آنے دیا جائے گا۔ یہ لوگ ہمارے بھائی نہیں رہے، یہ بھائی تب ہوتے جب لوگ ہماری بہن بیٹیوں کے ساتھ آبروریزی نہیں کرتے۔ یہ ہمارے بھائی تب ہوتے ، جب یہ لوگ ہمارے مندروں کو نہ توڑتے،اور تبدیلی ٔ مذہب نہ کرواتے ۔ وہیں متاثرہ لڑکی نے عدالت سے آبروریزی کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ میری بیٹی کے ساتھ آبروریزی کرنے والے لوگوں نے ہمیں 2 دن تک رپورٹ درج نہیں کرانے دیا،ہمیں پیسوں کا لالچ دیا گیا۔ ساتھ ہی نہ ماننے پر جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی گئی، جب ہم نہیں مانے اور رپورٹ درج کرا ئی گئی ،تو اب دھمکیاں دی جارہی ہیں۔