محمد شہاب الدین چھوٹا راجن نہیں تھے! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
محمد شہاب الدین ایک سیاست داں تو تھے، مگر وہ چھوٹا راجن نہیں تھے۔ ان کے چھوٹا راجن نہ ہونے کا نتیجہ سامنے ہے؛ دہلی کے ایک بنیادی سہولت سے عاری دواخانے ’دین دیال اپادھیائے اسپتال‘ میں کووڈ ۱۹ سے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے لڑتے محمد شہاب الدین نے جنگ ہاردی۔ انہیں چھوٹا راجن کی طرح ’ایمس‘ نہیں بھیجا گیا۔ حالانکہ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی سرکار کو باقاعدہ محمد شہاب الدین کے بہتر علاج کی ہدایت دی تھی، اور چار دفعہ کے ایم پی اور دو دفعہ کے بہار اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے یہ محمد شہاب الدین کا حق تھا کہ انہیں ملک کے اس اسپتال میں، جہاں بڑے سے بڑے اور چھوٹے چھوٹے سے سیاست دانوں کا علاج ہوتا ہے، یعنی ’ایمس‘ وہاں بھیجا جاتا۔ اور وہ وہاں اچھے ڈاکٹروں کی نگرانی میں دیے جاتے، پھر چاہے اللہ انہیں زندگی دیتا یا موت۔ لیکن کیجری وال کی سرکار نے انہیں ’ایمس‘ میں داخل کرنے کے قابل نہ سمجھا اور محمد شہاب الدین نے ’دین دیال اپادھیائے اسپتال‘ میں اپنی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کےلیے موند لیں۔
یہ ہے ہمارے بھارت کی ’جمہوریت‘ ۔ ایک ڈان ، چھوٹا راجن کو کورونا کے علاج کےلیے اعلیٰ ترین اسپتال ’ایمس‘ میں داخل کیاجاتا ہے ۔ اور ڈان سے سیاست داں بنے محمد شہاب الدین کو ’ایمس‘ کی چوکھٹ سے گزرنے کی اجازت تک نہیں ملتی۔ شاید چھوٹا راجن اور محمد شہاب الدین کے درمیان تفریق کی وجہ یہ رہی ہو کہ کسی دور میں شیوسینا پرمکھ بال ٹھاکرے کی زبان سے چھوٹا راجن کےلیے ’ہندو ڈان‘ کے الفاظ نکلے تھے۔ بات ان دنوں کی ہے جب داؤد ابراہیم کو ’مسلم ڈان‘ قرار دیاگیا تھا۔ ممبئی کے سلسلہ وار بم دھماکوں کا الزام داؤد ابراہیم پر عائد ہواتھا اور ’غنڈہ گردی‘ کو بھی ’ہندو مسلم‘ کی بنیاد پر تقسیم کردیاگیاتھا، یہ اور بات ہے کہ کبھی چھوٹا راجن خود داؤد ابراہیم کا دست راست ہوا کرتاتھا اور داؤد ابراہیم کے کہنے پر نہ جانے کتنے بڑے بڑے ہندو دھنّا سیٹھوں کو کنارے لگا چکا تھا۔ خیر بات محمد شہاب الدین کی ہورہی تھی۔ محمد شہاب الدین کی عمر موت کے وقت ۵۳ سال کی تھی، جن میں سے گزشتہ ۱۵ سال تو جیل ہی میں گزرے تھے۔ یقیناً محمد شہاب الدین پر مجرمانہ معاملات درج تھے، اغوا سے لے کر قتل وغارت گری تک کے لیکن ایک سیاست داں کی حیثیت سے انہیں عوام کا اعتماد حاصل تھا، اور وہ اپنی پارٹی یعنی لالو پرساد کی سربراہی والی راشٹریہ جنتا دل میں اہم مقام رکھتے تھے، لہذا کیجری وال ہو ں یا کہ مرکز کی مودی حکومت یا بہار کی نتیش سرکار ، سب کویہ خیال رکھناتھا کہ معاملہ ایک ایسے سیاسی لیڈر کا ہے جس نے سماج پر منفی ہی نہیں مثبت اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ اور جس طرح دوسرے سیاسی لیڈروں کا خیال رکھاجاتا ہے محمد شہاب الدین کا بھی خیال رکھاجاناچاہیے تھا۔ ۔۔رہی بات کریمنل ہونے یا نہ ہونے کی تو کتنے ہی سیاست داں ہیں جن پر قتل سے لے کر عصمت دری تک کے الزامات عائد ہیں، ان میں بی جے پی کے بھی سیاست داں ہیں، تو کیا اگر یہ کبھی جیل پہنچے اور بیمار ہوئے تو انہیں ’ایمس‘ نہیں بھیجا جائے گا۔ لالو پرساد یادو ’ایمس‘ ہی میں تو داخل ہیں! امیت شاہ بیمار ہوتے ہیں تو ’ایمس‘ ہی میں جاتے ہیں حالانکہ ان پر کتنے ہی مجرمانہ الزامات لگے ہیں۔ افسوس اس بات پر ہے کہ محمد شہاب الدین کے معاملے میں وہ لالو پرساد یادو ، راشٹریہ جنتا دل کے وہ لیڈران اور تیجسوی یادو بھی سامنے نہیں آئے جنہوں نے ان سے اور ان کے نام پر خوب سیاسی فائدے حاصل کیے تھے۔ کوئی یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ لالو پرساد یادو تو خود جیل میں تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے باوجود محمد شہاب الدین کے لیے ان کے علاج کےلیے اور ان کی موت کے بعد بہار میں ان کی تدفین کےلیے آواز تو اُٹھا ہی سکتے تھے، مگر آواز نہیں اُٹھائی۔ کچھ ایسا ہی سماج وادی پارٹی کے قد آور لیڈر محمد اعظم خان کے ساتھ بھی ہورہا ہے، ملائم سنگھ یادو سے لے کر اکھلیش یادو تک جیسے ان کا نام ہی بھول گئے ہیں!