سولہ سال سے جیل میں بند محمد رئیس کوحضرت مولانا کلیم صدیقی و حافظ ادریس قریشی نے رہا کروایا ۔ ایڈوکیٹ اسامہ ندوی

“ ہماری رہائی کسی غریب مفلس لاچار پریشان حال کی رہائی سے متعلق ہے اگر تم نے ان لوگوں کو جیل سے چھڑوا دیا تو اللہ تمہارے کیس میں بھی تمہیں کامیابی دے گا،بابو ہمارے لئے دنیا کی عدالت میں نہیں اللہ کی عدالت میں عرضی لگاؤ” یہ باتیں مجھے حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب ہر بار ملاقات پر اور عدالت میں پیشی پر کہتے تھے،اور دعا دیتے ہیں کہ ان شاء اللہ تم مظلوموں کی آواز بنو گے۔
حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب اور حافظ ادریس قریشی صاحب جب جیل پہنچے تو وہاں ان کے بیرک میں ایک ادھیڑ عمر شخص ملا جس سے دھیرے دھیرے بات چیت بڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ صاحب مشرقی یوپی کے رہنے والے ہیں اور نام محمد رئیس ہے ،عمر قید ہوئی ہے، سولہ سال سے جیل میں بند ہیں، کوئی پیروکار ان کے گھر پر نہیں ہے ،جو ان سے ملاقات کر سکے اور ان کے لئے اپیل کرسکے ،حضرت مولانا نے کہا ان شاء اللہ ہم تمہیں باہر نکلواتے ہیں ،اس کے بعد حضرت مولانا نے ہر ملاقات اور حافظ صاحب نے ہر بار فون پر حکم دیا بابو ہم تو تمہیں تب وکیل مانیں جب تم ہمارا یہ کام کرو اور رئیس کو جیل سے چھڑوا دو،میں نے کیس کی نوعیت دیکھی فائل پڑھی سینئرز کے ساتھ صلاح مشورہ اور ان کی رائے لیتے ہوئے اللہ کا نام لے کر اپیل داخل کری‌۔ اللہ نے بزرگوں کی دعا سے جج صاحب کے دل میں رحم ڈال دیا، انہوں نے بیل گرانٹ کردی، اس کے بعد ایک مہینے تک معاملہ پرانا ہونے کی وجہ سےفائلیں نہیں ملی، دس دس بار ایک کورٹ روم سے دوسرے میں چکر کاٹنے پڑے، ایک آفس سے دوسرے آفس، جیسے تیسے کڑی مشقت اور محنت کے بعد محمد رئیس صاحب ۲۷ جولائی کو جیل سے رہا ہوگئے ہیں ، جو لکھنؤ کی جیل میں 4/3/2007 سے بند تھے،حضرت مولانا اور حافظ ادریس صاحب نے جیل سے میرا نمبر دے کر بھیجا تھا، باہر نکلتے ہی انہوں نے کسی کے فون سے مجھے فون کیا اور کہا: اسامہ بھائی! میں باہر کھڑا ہوں، حضرت جی اور حاجی صاحب کا حکم ہے کہ آپ مجھے جیل کے گیٹ سے لے جائیں اور بس میں بٹھا دیں ،میں جیسے تیسے حکم کی تعمیل میں صبح ساڑھے نو بجے لکھنؤ شہر سے جیل کے لئے اپنی کار کو دوڑایا، لگ بھگ ۴۵ منٹ میں جیل کے گیٹ پر پہنچا، تو وہاں ان صاحب کو تلاش کرنے لگا کیونکہ میں ان کو نہیں پہچانتا تھا،جس کے نمبر سے فون کیا تھا وہ بھی وہاں سے جا چکا تھا،میں نے دیکھا ایک صاحب ٹوپی پہنے بیٹھے ہیں ،میں نے نام معلوم کیا آپ کا نام رئیس ہے کیا ؟انہوں نے الٹا پوچھا آپ ایڈوکیٹ اسامہ ہو ؟ میں نے کہا ہاں ،بس پھر کیا تھا ،گلے لگ گئے جناب اور کہنے لگے کہ آپ کا شکر گزار ہوں،میں نے کہا رئیس بھائی آپ کو رہائی مبارک ہو، میں نے اپنی کار میں بٹھایا اور ان کو ہوٹل پر لے جاکر ناشتہ کرایا ،کرایہ کے لئے جو حکم تھا، وہ پورا کیا اور پھر ان کو وہیں سے ان کے گھر کے لئے روڈ ویز بس میں بٹھا دیا،رئیس صاحب نے میرے فون سے اپنے گھر پر فون کیا، تو ان کی ایک بوڑھی بہن ان کی آواز سن کر بس اڈے پر بیٹھ گئی اور جب تک یہ گھر نہیں پہنچ گئے، مجھے اپنی علاقائی زبان میں فون کرکے پوچھتی رہی “وکیل صاحب ہمرا بھیا اب تک نا ہی پہنچ سکت ہے” رئیس صاحب نے گھر پر پہنچ کر مجھے اپنے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دی ،الحمد للّٰہ ، جب رئیس صاحب کو میں نے جیل کے گیٹ سے لیا تھا میری جو کیفیت تھی، وہ بیان سے باہر ہے۔ ان شاء اللہ اس بارے میں گفتگو اگلی بار ہوگی۔