بادشاہ مودی کا غلامانہ نظام  دوسری پارٹیوں کےخاندانی نظام سے بہتر نہیں ہے-یشونت سنہا

ترجمہ: احمد حسین( جوہرلال نہرو  یونیورسٹی، نئی دہلی)

ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں کسی بھی پارٹی کے اندر  جمہوری نظام نہیں ہے، بی جے پی میں بھی نہیں؛  بی جے پی ایک شخص کی ماتحتی میں ہے۔وراثت ازل سے  باشاہوں اور حکمرانوں کی جانشینی کا ایک اہم اصول رہا ہے،  لیکن جمہوریت کے ظہور اور شاہی نظام کے خاتمے کے بعد  جیسا کہ کہا جاتا ہے حکمراں ملکۂ وقت کے پیٹ سے نہیں بلکہ بیلیٹ باکس سے جنم لینے لگے۔

ہندوستان سمیت بہت سارے جمہوری ممالک ، جہاں سیاسی خاندانوں نے حکومت کی اور نسل در نسل قیادت کرتے رہے، ان میں سے ہندوستان میں ایک معروف گھرانہ نہرو-گاندھی گھرانہ ہے، تین نسل تک بلا واسطہ اور ایک نسل بالواسطہ حکومت کرنے کے بعد   پانچویں نسل اب کانگریس پارٹی کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے۔

خاندانی اور توریثی نظام ملک کے وزیر اعظم کے نشانے پر ہے،  وہ چاہتے ہیں کہ اس نظریہ کو عوام جمہوریت کی بہتری کے لیے یکسر خارج کر دیں۔ میں جناب وزیر اعظم سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں،  لیکن اس کا متبادل کیا  ہے؟  ہم اس اہم مسئلے کا ذرا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

آج کے ہندوستان میں نہرو-گاندھی خاندان ہی حکمراں  خانداان نہیں ہے،  ہندوستان کے مختلف حصوں میں بہت سے ایسے خاندان ہیں،  ان میں سے کچھ تو صرف اور صرف خاندانی نظام اور اس نظریے کے بغاوت میں ابھرے تھے لیکن جوں ہی انھیں موقع ملا وہ بھی اسی کے شکار ہو گئے۔  کیا جمہوری نظام میں خاندانی نظام کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے؟ اور اس کی مخالفت ہونی چاہیے؟ بالکل ؛لیکن جب عوام ہی اس کی پذیرائی کریں اور وہ انتخاب میں کامیاب بھی ہو جائے تب کیا کیا جاسکتا ہے ؟

بہار کے حالیہ اسبملی الیکشن میں لالو یادو کے بیٹے تیجسوی یادو نے جم کر مقابلہ کیا اور کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئے۔  عوام نے اور بالخصوص میڈیا نے تیجسوی کی خوب تعریفیں کیں اور کسی نے ان کے سلسلۂ نسب پر سوال کھڑے نہیں کئے سوائے وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کے؛لیکن اس بابت خود بی جے پی کہاں کھڑی ہے، جو ہمیشہ اس غرور میں رہتی ہے کی وہ ہندوستان میں واحد پارٹی ہے جہاں جمہوریت کا بول بالا ہے اور تسلسل کے ساتھ مختلف عہدوں کے لیے باضابطہ انتخابات ہوتے ہیں، اس کے کارکنان اپنی صلاحیت اور کارکردگی کی وجہ سے ترقی کرتے ہیں نا کہ نسل اور خاندان کی وجہ سے۔ مگر بی جے پی میں کئی سال گذارنے کے بعدمیں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان کا یہ دعوی  کھوکھلا اور بے بنیاد ہے۔

پارٹی کے داخلی انتخابات اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ محض ڈھکوسلہ ہوتے ہیں، مستقبل کے عہدے داران بالخصوص اعلی عہدوں اور صوبائی سطح کے ذمے داران پہلے ہی چن لیے جاتے ہیں  اور یہ  ایک بے نام حلقے کی جانب سے انجام پاتا ہے جس میں آر ایس ایس کے قد آور لیڈر شامل ہوتے ہیں۔  اس کے بعد الیکشن کا ایک ڈرامہ سجایا جاتا ہے جس میں پہلے سے منتخب حضرات کے ناموں کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

ایک دفعہ میں نے اس مروجہ نظام کو  چیلنج کرنے کا رادہ کیا، نتن گڈکری اس وقت پارٹی  کےصدر تھے، سربراہان کی جانب سے یہ طے کیا گیا کہ اگلے ٹرم کے لے بھی وہی اپنے عہدے پر برقرار  رہیں گے،  مجھے ان کے اس منصوبے کو ناکام بنانا تھا، انتخابات کی تیاریاں مکمل تھیں، اس کے لیے بدستور ایک آفیسر کی تعیین بھی کر لی گئی، الیکشن کا شیڈول بھی آ گیا، اب کوئی  بھی اپنی نامزدگی کروا سکتا تھا، مجھے پہلے سے اچھی طرح معلوم تھا کہ الیکشن میں کامیاب توہونا دور ، مجھے اپنی نامزدگی کے کاغذات داخل کرنے تک کے لیے  کوئی تائید نہیں  ملنے والاتھا  پھر بھی میں نے نامزدگی کے کاغذات داخل  کر ڈالے۔

نامزدگی کی خبر فورا ہی میڈیا میں پھیل گئی، اس معمولی عمل کی وجہ سے سربراہان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑی ۔  پھر فوری طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ گڈکری کو دوسرا موقع نہیں ملے گا اور ان کی جگہ راجناتھ سنگھ منتخب ہوئے، میرا کام ہو گیا تھا لہذا میں نے معاملہ کو یہیں چھوڑ دیا، اور راجناتھ سنگھ بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔ اگرچہ بطور نام ہی سہی، بی جے پی میں داخلی انتخاب کا نظام ہے، کانگریس اور دیگر پارٹیوں کو اس کی بھی پرواہ  نہیں اور برسوں سے اس میں کوئی انتخاب نہیں ہوا ہے،  ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں اندرون پارٹی جمہوریت کہیں بھی نہیں ہے، سوائے لیفٹ پارٹیوں کے۔

اب تو بی جے پی میں حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں، خاص طور پر حالیہ چند برسوں میں جب سے ایک بہت ہی طاقتور شخص کا عروج ہوا ہے،  پارٹی اور حکومت دونوں کی حالت یکساں ہے ۔  خاندانی نظام کسی بھی جمہوری ملک کے لئے بہت ہی برا  ہوتا ہے اور خاص طور پر جب یہ سلسلہ چلتا ہی رہے، جیسا کہ آج کی کانگریس میں ہے،  راہل گاندھی پارٹی کی قیادت نہیں کرنا چاہ رہے ہیں لیکن پارٹی والے انہیں جانے بھی نہیں دے رہے ہیں،  اتنی بڑی پارٹی کا کسی خاندان پہ اس قدر  منحصر ہونا افسوسناک ہے۔ یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا مودی حکومت میں بنے رہیں گے۔

لیکن خود بی جے پی کتنی جمہوری ہے؟آج کی بی جے پی غلاموں کی پارٹی بن چکی ہے،  آپ کو میری بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، اس کی مثال خود ہماری تاریخ میں ملتی ہے۔  ایک وقت تھا جب ہندوستان میں غلاموں کی حکومت تھی اور کئی دہائیوں تک برقرار رہی،  قطب الدین ایبک اپنے آقا  معزالدین کے سب سے چہیتےغلام تھے اور دہلی کے سلطان بھی ہوئے،  ان کے بعد  ان کے غلام التمش حاکم بنے پھر بلبن اور یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ رضیہ سلطانہ نے غلاموں کی سلطنت کا خاتمہ کیا،  لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انھوں نے تین یا چار نسلوں تک حکومت کی۔

بہت سارے لوگ بھول چکے ہوں گے کہ گوا میں  پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں کس طرح مودی وزیراعظم کے امیدوار منتخب ہوئے تھے، لیکن وہ یہ نہیں بھول سکتے کہ کیسے دہلی میں ایل کے اڈوانی کے گھر کے باہر احتجاج ہوا تھا صرف اس لئے کہ وہ گوا کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مودی کےحامیوں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہیں، اور یہ ہونا ہی تھا۔

اس کے بعد ہی پارٹی نے مودی کے آگے مکمل طور پرخود سپردگی کر دی، 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بڑی کامیابی  نے تو انہیں سپریم لیڈر بنا دیا، اب تو جو ان کے دل میں آئے کر سکتے ہیں،  انہوں نے کئی طرح سے اپنی طاقت کا  اعتراف کروایا ہے،  بڑوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا، بعض کو  مارگ درشک کا درجہ دے کر پارٹی کی سرگرمیوں سے برطرف کردیا ، باقی تو کسی شمار  میں آئے  ہی نہیں۔

اب حاکم صاحب اپنے کسی بھی محبوب غلام  کو کسی بھی عہدہ کے لئے چن سکتے ہیں، لہذا ایک صوبائی وزیر کو پارٹی کا صدر اور دوسرا سب سے اہم لیڈر بنایا جاتا ہے،  دوسرے محبوب لیڈران بھی ترقی کہ راہ پر ہیں، آج پارٹی کا ڈھانچہ کچھ اس طرح ہے؛ ایک سلطان اور غلاموں کا ایک جتھہ۔

کوئی مجھے بتائے گا کہ کیسے یہ غلاموں کی حکمرانی خاندانی حکمرانی سے بہتر ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں مزید جمہوری ہونے کی ضرورت ہے،  ہندوستانی جمہوریت پارٹی کی داخلی جمہوریت کے بغیر ناقص ہے،  ہمیں خاندانی نظام اور غلامانہ نظام دونوں کو  مسترد کرنا ہوگا۔

آج کے نئے ہندوستان میں احتجاج کی کوئی جگہ نہیں ہے،  احتجاج کرنے والوں کو غدار وطن کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے، لوگ سوال بھی نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ وہ ڈرے سہمے ہوئے ہیں، دستوری اداروں کی اہمیت یا مکمل طورپر  ان کا وجود ہی ختم کر دیا گیا ہے،  میڈیا کی نگاہ حاکم سے زیادہ ان لوگوں پر ہے جو حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

نازی جرمنی کے تعلق سے ایک سوال  مجھے ہمیشہ پریشان کرتا ہے: ایک شخص کے جنون کو توسمجھاجاسکتا ہے؛ لیکن پوری قوم کا جنون سمجھ سے بالا تر ہے، ہم آج اسی مقام پر ہیں،  ہندوستان کو بہت شدت سے ایک مضبوط  اور نئےحزب مخالف کی ضرورت ہے،  موجودہ غیر موثر اور منتشر حزبِ  مخالف سے کچھ نہیں ہو سکتا،  وہ لوگ جو آج سیاست میں ہیں، خواہ بی جے پی میں ہوں یا حزبِ مخالف میں، اس جانب توجہ  دیں؛ تاکہ ہماری جمہوریت اور ملک کی اقدار کاتحفظ ہوسکے۔

(اصل انگریزی مضمون دی وائر،انگریزی پر شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*