مودی-شاہ کے ہاتھوں ہندوستانی جمہوریت کا خون-رام چندر گوہا

ترجمہ:راشد خورشید
دسمبر 2015 کو میں نے لکھا تھا کہ ہندوستان میری اصطلاح میں ”محض انتخابات کی جمہوریت“ بننے کے خطرے سے دوچار ہونے والا ہے. کیونکہ ایک بار جب کوئی پارٹی جیت جاتی اور اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے تو پارٹی کے لیڈران ایسے برتاؤ کرتے ہیں گویا وہ تنقیدی جانچ پڑتال سے بالکل محفوظ ہوگئے ہیں، اور آئندہ پانچ سالوں تک،جب تک الیکشن نہ ہو، وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی کرسکتے ہیں.
حقیقی جمہوریت اسے کہتے ہیں، جس میں جمہوریت براۓ نام نہیں ہوتی، اور عوامی عہدوں کیلئے منتخب لیڈران کے آمرانہ رجحانات کا ایک فعال پارلیمنٹ، آزاد پریس، آزاد انتظامیہ اور آزاد عدلیہ جیسے اداروں کے ذریعہ مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے. مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں زیادہ تر جمہوریت اسی طرز پر کام کرتی ہے. اور ہمارے ملک کے آئین سازوں نے بھی اسی طرح کی جمہوریت کی امید تھی-
چنانچہ آزادی کے بعد دو دہائیوں تک سب کچھ ٹھیک تھا. اندرا گاندھی اپنی وزارت عظمی کے ابتدائی دور میں اپنے پیش رو جواہر لال نہرو اور لال بہادر شاستری کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہوئے پابندی سے پارلیمنٹ کی بحثوں میں شریک ہوتی تھیں؛ عدلیہ اور انتظامیہ کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھتی تھیں اور پریس کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش نہیں کرتی تھیں. مگر 1969ء میں جب وہ کانگریس پارٹی سے برخاست کر دی گئیں تو سابقہ چیزوں کے متعلق ان کا رویہ بالکل تبدیل ہوگیا. انہوں نے ‘پابند’ عدلیہ اور ‘پابند’ بیوروکریسی کو فروغ دینا، پارلیمنٹ کی اہمیت کو نظر انداز کرنا اور پریس مالکان و ایڈیٹران کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا. انہوں نے کانگریس پارٹی کو فرد واحد ( ایک کنبہ) کی پارٹی بنا کر اس کی روحانی جمہوریت کو برباد کر ڈالا.
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ذریعہ آزاد اداروں کو کمزور کرنے کا سلسلہ ایمرجنسی سے قبل کئی سالوں تک جاری رہا. جون 1975ء اور مارچ 1977ء کے درمیان ہندوستانی جمہوریت بالکل مردہ ہوچکی تھی، جس میں اندرا گاندھی کے انتخابات کرانے کے تا دم حال غیر واضح فیصلے نے دوبارہ روح پھونک دی، البتہ وہ اور ان کی پارٹی اس الیکشن سے ہاتھ دھو بیٹھیں. 1977ء کے بعد اندرا گاندھی کے پامال کردہ جمہوری اداروں نے اپنی آزادی پھر سے بحال کرنی شروع کردی. خاص طور پر پریس نے؛ جیسا کہ روبن جیفری نے اپنی کتاب India’s Newspaper Revolution میں لکھا ہے کہ، انگریزی اور خصوصاً ہندوستانی زبانوں والے اخبارات و مجلات اب پہلے سے کہیں زیادہ بہادر ہوگئے تھے، وہ بلا تفریق ہر پارٹی کے سیاستدانوں کے جرائم کی محقق انداز میں نقاب کشائی کرتے تھے. عدالتی خود مختاری بالخصوص پارلیمنٹ کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری تھی. اس دوران، 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں پارلیمنٹ میں تقریباً اتنی ہی زور و شور کے ساتھ بحثیں ہوتی تھیں جتنا کہ 1950ء کے عشرے میں ہوا کرتی تھیں. اگر کوئی ادارہ اپنی آزادی بحال نہیں کرسکا تھا تو وہ بیوروکریسی تھی، جس میں اب افسران کی تعیناتی اور تبادلے میں اکثر و بیشتر پروفیشنل لیاقت کے ساتھ حکمران سیاستدانوں کی قربت بھی مشروط ہوگئی تھی.
ادارتی آزادی کی یہ بحالی جزوی اور نامکمل تھی؛ تاہم بہت سارے مبصرین (بشمول مضمون نگار) کو اس سے ایک امید بندھ گئی تھی کہ بانیان جمہوریت کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں جمہوریت نے ہندوستان میں کم از کم آدھا سفر تو طے کرلیا ہے. مگر عین اسی وقت 2014 کا الیکشن آن پڑا اور حکومت کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں آگئی جس کا انداز سیاست تخریب کاری میں بالکل اندرا گاندھی کے جیسا تھا. کیونکہ نریندر مودی نے گجرات میں بطورِ وزیر اعلی اپنی کارکردگیوں سے یہ ثابت کردیا تھا کہ ادارتی آزادی کے معاملے میں وہ اندرا گاندھی سے بھی زیادہ مشکوک ہیں؛ اور اسے ختم کرنے میں ان سے کہیں زیادہ پر عزم. اندرا گاندھی کی مانند انہوں نے بھی پریس کو گود لینے اور اسے ڈرانے دھمکانے؛ اپنے سیاسی مخالفین و حریفین کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیاں قائم کرنے؛ اور عدلیہ کو بے اثر کرنے کی پوری کوشش کی. حتی کہ انہوں نے فوج، ریزرو بینک آف انڈیا اور الیکشن کمیشن جیسے ان اداروں پر بھی اپنا منحوس سایہ ڈالا جو ابھی تک ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے. اور انہیں بھی اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوگئے.
نریندر مودی کے پاس پارٹی، حکومت اور پورے ملک پر اپنی مطلق العنانی قائم کرنے کیلئے گجرات سے اپنے دیرینہ ساتھی امیت شاہ کی شکل میں ایک کلیدی حلیف ہر وقت میسر رہا ہے. شاہ نے پہلے بحیثیت صدر پارٹی اور پھر وزیر داخلہ جمہوری اپوزیشن کو حکومت کے باہر ناکارہ بنانے میں ایک ناگزیر اور شیطانی مؤثر کردار ادا کیا۔
دسمبر 2015 میں، ڈیڑھ سال تک مرکز میں مودی-شاہ کی مشترکہ حکومت کا مسلسل مشاہدہ کرنے کے بعد مَیں نے ہندوستان کو ”محض انتخابات کی جمہوریت“ سے موسوم کیا تھا. مگر افسوس! اب اپنے گذشتہ فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور ہندوستانی جمہوریت کے معیار کو مزید گھٹانے کا وقت آگیا ہے. اب ہم بحیثیت ایک آزاد قوم ہماری تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر آگئے ہیں جہاں انتخابات کی اہمیت روز بروز کم ہوتی جارہی ہے.
اسی ہفتے کے شروع میں مرکزی حکومت کی جانب سے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے قریبی ساتھیوں پر ٹیکس کے چھاپے مارنے کا حکم جاری کیا گیا. بالکل اسی وقت، جب کانگریسی حکومت کا تختہ پلٹنے کی غرض سے ان کے ناراض نائب سچن پائلٹ کو بی جے پی کی طرف سے دعوت نامہ ملا تھا. یہ دعوت نامہ تو وقتی طور پر بظاہر ناکام ہوتا نظر آیا؛ مگر عین وبا میں سب سے پہلے جو کوشش کی گئی اس سے وہ توہین صاف ظاہر ہوتی ہے جس کے مرتکب مودی-شاہ آئینی جمہوریت کی قدر و منزلت اور اس کے طریقۂ کاروں کو اپنے قبضے میں کرکے ہوئے۔
راجستھان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ تو محض اس کا ایک جواب ہے جو مارچ میں مدھیہ پردیش اور گذشتہ سال کرناٹک میں ہوا تھا. انتخابات کے بعد ان دونوں ریاستوں میں غیر بی جے پی کی حکومت بر سرِ اقتدار آئی تھی؛ یعنی مدھیہ پردیش میں کانگریس کی اور کرناٹک میں جے ڈی (ایس) اور کانگریس کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی تھی. چنانچہ بی جے پی نے رائے دہندگان کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے، دونوں ریاستوں میں اپنی حکومت قائم کرنے کی غرض سے بر سرِ اقتدار حکومت کے اراکین اسمبلی کو خود میں شامل ہونے یا انہیں اپنی پارٹی سے استعفیٰ دینے کی طرف راغب کرنے لگی۔
کرناٹک ،مدھیہ پردیش اور اب راجستھان میں بی جے پی نے بہت ہی غیر اخلاقی و غیر جمہوری ذرائع کے ذریعہ انتخابات کے نتائج کو بدلنے کی پوری کوشش کی ہے. گوا اور منی پور میں آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے مودی یا ہندتوا کی محبت میں تو بی جے پی میں شمولیت نہیں کی تھی، بلکہ اس کے پیچھے ضرور پیسوں کا کھیل تھا. اسی طرح گجرات (اور دیگر صوبوں) میں راجیہ سبھا انتخابات سے قبل کانگریس کے اراکین اسمبلی جو اتنی تیزی سے بی جے پی جوائن کر رہے تھے، وہاں بھی موجودہ حکومت کی مادیت کارفرما تھی۔
اس میں اختلاف ہے کہ ان اراکین کو بی جے پی جوائن کرنے کیلئے کتنی رقم کی پیشکش کی گئی تھی. راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے بقول ہر رکن اسمبلی کو 25 کروڑ کی موٹی رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا. جن صحافیوں سے میں نے بات کی ان کے مطابق یہ اندازے وسیع پیمانے پر مناسب اور موزوں ہیں. ایک کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش اور کرناٹک کے اعدادوشمار ہم پلہ ہیں. اتنی بھاری رقوم واقعی حیرت انگیز ہیں. آخر یہ پیسے آتے کہاں سے ہیں؟ کیا اس بکاؤ الیکٹورل بونڈ سے، جس کی جانچ کرنے میں سپریم کورٹ ناکام ہوگئی ہے؟ یا پھر اور کسی خفیہ ذرائع سے؟
اس سودے بازی کے تناظر میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ، اگر اراکین اسمبلی کو کسی بھی وقت خریدا یا بیچا جا سکتا ہے تو پھر انتخابات کرانے کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟ کیا اس سے ان کروڑوں ہندوستانیوں کے جمہوری اختیار کو منسوخ کرنا لازم نہیں آتا جنہوں ان ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ دیا تھا؟ اگر بی جے پی ان مفت اور منصفانہ تصور کئے جانے والے انتخابات کو پیسوں کے بل بوتے اتنے کارگر طریقے سے بے اثر کرسکتی ہے، تو کیا ہندوستان کو ”محض انتخابات کی جمہوریت“ سے موسوم کیا جاسکتا ہے؟
میں نے تخریب کاری میں مودی کو اندرا گاندھی سے مشابہت دی تھی. جس سے میرا مطلب یہ ہے کہ مودی زیادہ پر اسرار ہونے کے ساتھ زیادہ سنگدل اور بے رحم بھی ہیں. اندرا گاندھی نے تو ان اداروں کو برباد کرنے کیلئے صرف کھرپی کا استعمال کیا تھا، مگر مودی تو تیز دودھاری تلوار کا استعمال کر رہے ہیں. اندرا گاندھی نے اپنے دیگر کارناموں بالخصوص ایمرجنسی کے متعلق اپنی رائے تبدیل کرلی تھی، چہ جائیکہ ندامت اور پچھتاوا ان کی زندگی سے عنقا تھا. مزید برآں وہ اپنی دیگر غلطیوں میں مذہبی اجتماعیت سے مربوط تھیں. جبکہ دوسری طرف مودی ایک میجورٹیرین (majoritarian) کے ساتھ ساتھ ایک مطلق العنان حکمراں بھی ہیں۔
اندرا گاندھی کے دور حکومت میں ہندوستانی جمہوریت کے علمبردار اداروں اور اس کی روح کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا تھا. اس کے بعد کسی حد تک ان میں سدھار آگیا تھا. گرچہ 1989ء سے 2014ء تک وہ آئین سازوں کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے اور ان میں تھوڑی بہت کجی تھی، مگر انہیں جمہوریت کے نام سے ہی پہچانا جاتا تھا. مگر، کیا مودی کے دور حکومت میں ہندوستانی جمہوریت کے علمبردار اداروں اور اس کی روح کی بازیابی ممکن ہے؟ … یہ ایک اہم سوال ہے۔

(اصل انگریزی مضمون ndtv.com پر شائع ہوا ہے)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*