مودی سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی پر شیوسینا نے کہا،یہ رافیل سے زیادہ اہم،مگر نفاذ مشکل

ممبئی:شیوسینا نے مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری کی جانے والی نئی تعلیمی پالیسی کے بارے میں کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی رافیل فائٹر جیٹ کی خریداری سے زیادہ اہم ہے،لیکن اس کے نفاذ کے بارے میں فکر لاحق ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اچھا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے ملک کی تعلیمی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ یہ 34 سال بعد ہوا ہے۔ یہ فرانس سے آنے والے رافیل طیاروں سے زیادہ اہم ہے۔ اب جب ہمیں نئی وزارت تعلیم مل گئی ہے، تو ایک نیا وزیر تعلیم بھی ملے گا ۔ اگر کوئی تعلیمی شعبے میں بہتر معلومات رکھنے والا شخص ہے تو اسے یہ عہدہ دینا چاہئے۔ بہت سارے لوگ ہیں ایسے ہیں جنہیں فائنانس کی معلومات نہیں ہے، یا صحت کے شعبے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہے لیکن انہیں وزارت دی گئی اور انہوں نے وہاں بہت اچھا کام نہیں کیا۔شیوسینا نے پانچویں جماعت تک اپنی مادری زبان میں تعلیم دئیے جانے کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم پارٹی نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ اصول صرف سرکاری اسکولوں تک ہی محدود ہوگا اور پرائیو یٹ یا مشنری اسکولوں تک نہیں پہنچ پائے گا؟انگریزی پر زور دینے کی وجہ سے بہت ساری زبانیں اور بولیاں ختم ہو رہی ہیں۔ سنگھ پریوار ہمیشہ مادری زبان میں تعلیم پر زور دیتا رہاہے۔ شیوسینا نے سوال اٹھایا کہ آخر کار کون ہے جو نئی تعلیمی پالیسی پر نیا نصاب تشکیل دے گا اور اس کے لئے کون سی یونیورسٹی خاص کام کرے گی ؟ پارٹی نے نئی تعلیمی پالیسی میں اخلاقی تعلیم پرکوئی زور نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔