مودی نے بہارسے ’’غریب کلیان روزگاریوجنا‘‘کی شروعات کی

نئی دہلی:وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز’’غریب کلیان روزگارابھیان‘‘ کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کا آغاز بہارکے کھگڑیا ضلع کے تیلیہار گاؤں سے ہوا۔بہارمیں اسی سال الیکشن ہے اوربڑی تعدادمیں مزدورنتیش سرکارسے ناراض ہیں۔اس لیے مزدوروں سے متعلق پروگرام کابہارسے افتتاح الیکشن سے جوڑاجاسکتاہے۔ مودی نے اپنے خطاب کا آغاز لداخ میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ شہدا کے لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ پورا ملک ان کے ساتھ ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بہار سے منصوبہ شروع کرنے کی وجہ اس سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات ہیں۔وزیراعظم نے کہاہے کہ جب کورونا کی وبا کا بحران بڑھنے لگا تو آپ سب ریاست اور مرکزی حکومت کے خدشات میں مبتلا تھے۔ ہم نے اپنے مزدور بہن بھائیوں کے لیے خصوصی ٹرینیں بھی چلائیں۔انھوں نے یہ نہیں بتایاہے کہ دوماہ تک بے یارومددگارکیوں چھوڑدیاگیااورلاکھوں مزدورپیدل یاٹرک میں سوارہوکرنقل مکانی پرمجبورہوئے۔ٹرینیں توکافی بعدچلائی گئیں۔وزیراعظم نے کہاہے کہ کورونا کا اتنا بڑا بحران ہوا، جس کی وجہ سے دنیا حیرت زدہ تھی ، لیکن آپ ثابت قدم رہے۔ ہندوستان کے دیہات نے جس طرح سے کوونا کا مقابلہ کیا ہے ، اس نے شہروں کو بھی سبق سکھایا ہے۔ گائوں کے لوگوں نے انتہائی موثر اندازمیں کورونا انفیکشن کی روک تھام کی ہے۔ دیہات کی آبادی 80-85 کروڑ ہے ، جو پورے یورپ ، امریکہ ، روس اورآسٹریلیا سے زیادہ ہے۔ اس آبادی کا کورونا کے ساتھ مقابلہ کرنابہت بڑی بات ہے۔ پنچایت تک ، ہمارے جمہوری نظام ، طبی سہولیات ، فلاح و بہبود کے مرکز کی صفائی مہم نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ پرسوں ، پٹنہ میں کوروناٹیسٹنگ کی ایک بڑی جدید ٹیسٹنگ مشین شروع کی جارہی ہے۔ اس مشین سے ہر دن تقریباََ 1500 ٹیسٹ ممکن ہوں گے۔ جب کہ بہارایسی ریاست ہے جہاں سب سے کم ٹیسٹ ہوئے ہیں اورطبی میدان میں نتیش سرکارمکمل طورپرفیل ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہاہے کہ آج روزگار کے لیے غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے ایک بہت بڑی مہم شروع ہوگئی ہے۔ یہ مزدوری بہن بھائیوں کے لیے گائوں میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے وقف ہے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جولاک ڈاؤن میں اپنے دیہات لوٹ چکے ہیں۔میں نے اترپردیش کی ایک خبر دیکھی۔ کچھ مزدور وہاں قرنطینہ میں تعینات تھے۔انہوں نے رنگنے پینٹنگ اور پی او پی کے کام میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے سوچا کہ وہ رہیں گے ، اس سے کچھ ہنراستعمال کریں گے۔ انہوں نے مصوری سے اسکول کو بہت اچھا بنایا۔ اس نے میرے دماغ کو متاثر کیا۔ تب اس منصوبے کاخیال آیا۔