مودی ملک کوتباہ کرنے کے بعد بھی غلطی قبول نہیں کریں گے:کانگریس

نئی دہلی:مرکزی حکومت کے تینوں زرعی آرڈیننسز کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کسان کورونا وائرس کے انفیکشن کے خطرے کونظرانداز کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ کاشتکار نہ صرف احتجاج کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ بہت سے اصولوں کو بھی توڑ رہے ہیں۔ ان دونوں بلوں کے بعد پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا میں منظور ہوا ، پنجاب میں سیاست عروج پر ہے۔ اکالی دل کی لیڈر ہرسمرت کور بادل کے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دینے کے بعد سیاست تیزہوئی ہے۔ریاستی کانگریس کے صدر سنیل جاکھر نے اتوار کے روزکہاہے کہ انہوں نے اکالی دل کے غرورکو توڑا ہے ، اب مرکز میں بی جے پی حکومت کی باری ہے۔ سنیل جاکھر ،جو پنجاب یوتھ کانگریس کے زیر اہتمام کسان مارچ ٹریکٹر ریلی کا افتتاح کرنے آئے تھے ، نے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان تینوں زرعی بلوں کو وقار کا سوال بنا دیا ہے اور اب وہ کسی کی بات نہیں سننے جارہے ہیں ، چاہے کسان ہوں یا سارا ہندوستان تباہ ہو جائے۔ایک سوال کے جواب میں سنیل جاکھر نے کہا کہ اگرچہ ان کسان مخالف بلوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی پریشان نہیں ہے ، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس بل سے پورے ہندوستان اورکسان کا مقابلہ ہوگا۔ جب سنیل جاکھر سے پوچھا گیاہے کہ کیا کانگریس ان بلوں کو انتخابی مسئلہ بنائے گی توانہوں نے کہاکہ یہ معاملہ انتخاب کا نہیں ہے، کسان کاہے اورجب کسان نہیں بچے گا تو پھر انتخابات کیا ہوں گے۔