مودی کسانوں کاسامناکرنے کی ہمت نہیں کرتے-ادھیررنجن چودھری

نئی دہلی:وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز کسان اسکیم کی قسط کسانوں کے کھاتے میں ڈال دی اور کسانوں سے خطاب کیا۔اپوزیشن پارٹی کانگریس (کانگریس) نے وزیر اعظم مودی کے خطاب پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہاہے کہ کسانوں کی حالت کورونا کی وجہ سے پریشان کن ہے۔ ان کی تحریک چل رہی ہے اور مودی جی کے ذریعہ ان کا احترام نہیں کیا جارہا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق کانگریسی لیڈرنے کہاہے کہ مودی جی میں ہمت نہیں ہے کہ وہ مظاہرہ کرنے والے کسانوں سے آمنے سامنے بات کریں اورکوئی حل تلاش کریں۔ حکومت 18000 کروڑ روپیے براہ راست کسانوں کے کھاتے میں ڈالنے کی بات کر رہی ہے۔ آپ چلے جائیں۔ دیکھو یہ رقم ہزاروں کسانوں کے کھاتے میں نہیں جاتی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ مودی جی کہتے ہیں کہ پیسہ براہِ راست بیچارے کے بغیر کھاتے میں جاتا ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے ، ہزاروں کسان ابھی بھی محروم ہیں۔ رقم 5000کسانوں کے کھاتے میں جاتی ہے اور پھر نوٹس آتا ہے ، آپ کو غلطی سے دیاگیاہے۔ ادھیر رنجن چودھری نے وزیر اعظم مودی سے پوچھاہے کہ اگرآپ کسانوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو کیوں لاکھوں کسان کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ کیا قانون کوتبدیل کرکے آسمان ٹوٹ جائے گا۔ 20 کسان مر چکے ہیں۔ تو ضد پرآپ کیوں ہیں۔