وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑھتی داڑھی کا راز کیا ہے؟-مرزا اے بی بیگ

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی آج کل ٹی وی پر نظر آتے ہیں تو ان کی داڑھی پہلے سے کچھ بڑھی ہوئی نظر آتی ہے اور ہر بار لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ان کے داڑھی بڑھانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ کووڈ 19 کی وبا کے زمانے میں لاک ڈاؤن کے بعد جب وہ پہلی بار نظر آئے تو ان کی داڑھی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہرکس و ناکس نے اسے نوٹس کیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ان کی داڑھی کے متعلق بہت سے کمنٹس نظر آئے جن میں انھیں ہیری پوٹر کے کردار ڈمبل ڈور سے ملایا گیا تو کسی نے رزمیہ داستان مہابھارت کے کردار بھیشم پتامہ سے ان کا موازنہ کیا اور ان کی طرح داڑھی بڑھانے کا مشورہ دیا، کسی نے کہا کہ وہ عہد وسطی کے انڈین بادشاہ شیوا جی کی طرز پر داڑھی بڑھا رہے ہیں تو کسی نے کہا کہ مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات سے قبل بنگالی شاعر، ناول نگار اور نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی طرح نظر آنا چاہتے ہیں، کسی نے کہا کہ کرسمس سے پہلے وہ سانتا کے لک میں نظر آ رہے ہیں۔سابق صحافی ارینا اکبر لکھنوی نے لکھا: ‘مجھے یقین ہے کہ مودی جی اپنی داڑھی کے بڑھانے سے کوئی سیاسی پیغام دے رہے ہیں۔’

غرض جتنے منھ اتنی باتیں۔ اگر آج معروف صحافی اور کالم نگار خوشونت سنگھ زندہ ہوتے تو وہ داڑھی بڑھانے کے بارے میں کوئی نہ کوئی لطیفہ ضرور سناتے۔ ایک لطیفہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ‘ایک شخص کا رومال کہیں کھو گیا تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے اس کی تلافی کے لیے اپنی داڑھی کو شیو کرانا بند کر دیا۔ ایک دن بہت لمبی داڑھی والے ایک بزرگ کا ان کے سامنے سے گزر ہوا تو انھوں نے دوڑ کر ان کا دامن پکڑکر رونا شروع کر دیا۔ بزرگ بھی پریشان ہوئے اور ان کے ساتھی بھی۔ سب نے پوچھا کہ آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں۔ تو اس شخص نے کہا کہ میرا رومال گم ہوا تو میری داڑھی اتنی بڑھ گئی آپ کی تو ضرور چادر گم ہو گئی ہوگی۔’

وزیر اعظم مودی کے کارناموں کا ریکارڈ رکھنے والے کم از کم یہ تو کہہ سکتے ہیں آج تک انڈیا کے کسی وزیر اعظم کی نریندر مودی سے زیادہ لمبی، گھنی اور سفید داڑھی نہیں رہی۔ اس سے قبل انڈیا کے تین وزیر اعظم کی داڑھی تھی جن میں چندرشیکھر سنگھ، آئی کے گجرال اور منموہن سنگھ شامل ہیں۔ منموہن سنگھ کی داڑھی تو ان کے عقیدے کے سبب تھی جبکہ باقی دونوں رہنماؤں کے لیے داڑھی کو ان کا اپنا فیشن سٹیٹمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ ‘مودی جی کووڈ 19 کے خوف سے سٹائلسٹ سے بچ رہے ہیں۔’ تو کسی نے کہا کہ انھوں نے ‘کووڈ کے خاتمے تک داڑھی نہ کاٹنے کی قسم کھا رکھی ہے۔’

ویسے انڈیا میں گذشتہ چند برسوں کے دوران نوجوانوں میں داڑھی کا چلن عام ہوتا نظر آیا ہے اور اسے کسی فیشن سٹیٹمنٹ کے طور پر دیکھا گیا ہے چنانچہ اب اگر آپ انڈین کرکٹ ٹیم کو ہی دیکھ لیں تو داڑھی والے افراد کی اکثریت نظر آئے گی جبکہ پہلے ایسا بالکل نہیں تھا، خال خال ہی داڑھی میں نظر آتے تھے۔ویسے اگر آپ سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ وزیر اعظم مودی کے حامی ان کی داڑھی بڑھانے کے بارے میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کی داڑھی ترک دنیا، قربانی، پاکیزگی، ڈسپلین، احتیاط اور سماجی دوری وغیرہ کی علامت ہے۔

بہر حال بات جو بھی ہو کیوبا کے کمیونسٹ رہنما فیدل کاسترو کی موت کے بعد دنیا کے کسی بھی رہنما کی اتنی نمایاں داڑھی نظر نہیں آئی ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی داڑھی بڑھائی تو سوشل میڈیا پر وہ بھی بحث کا موضوع رہے۔ وبا کے زمانے میں بہت سے لوگ حجام سے دور رہے اور ان کی شیو بھی بڑھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے ہر عمل کے پیچھے ان کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور اس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ آپ روز مرہ کی زندگی پر اگر ایک سرسری نظر ڈالیں تو نوجوانوں کا امتحانات کے ایام شیو بڑھ جانا، غم کے زمانے میں لوگوں کا شیو کا بڑھ جانا نظر آ سکتا ہے لیکن یہ سب ایک سٹیٹمنٹ ہے یعنی کبھی انتہائی مشغول ہونے کی علامت تو کبھی دنیا سے بے رغبتی کی علامت ہے کہ کسی چیز میں دل ہی نہیں لگتا۔ چنانچہ آپ بالی وڈ کی فلموں میں اس کا اظہار بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ کب کوئی کردار دیوداس بن گیا اور کب وہ سائنسداں بن گیا۔امریکی ویب سائٹ ووکس نے اسے ‘کرائسس والی داڑھی’ کہا ہے جو کسی موقعے اور حالات کے تحت سانے آ جاتی ہے۔ کرسٹوفر اولڈ سٹون مور نے اپنی کتاب ‘آف بیئرڈو اینڈ من: دی ریویلنگ ہسٹری آف فیشیل ہیئر’ میں کہا ہے کہ آج کل جو داڑھی کا چلن عام ہو رہا ہے وہ در اصل مردانگی کے اظہار کا پرانا چکر ہے جو رواج میں واپس آ گیا ہے۔

انھوں نے مردانگی کے بدلتی ہوئی علامات کے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘مردوں کی تاریخ واقعتاً ان کے چہروں پر لکھی ہوتی ہے۔’ انھوں نے مڈ ڈے اخبار کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنس اور جسم کی تاریخ کے بارے میں بہت مطالعے ہو رہے ہیں ایسے میں مردوں کی داڑھی پر از سر نو غور کرنا بہتر ہوگا۔ ان کے خیال میں اگر داڑھی منڈانا رواج میں ہے اور کوئی شخص داڑھی بڑھاتا ہے تو وہ اس دور کے خلاف اس کا احتجاج ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ یورپی ممالک میں سنہ 1830 کی دہائی، سنہ 1960 کی دہائی یا پھر ابتدائی اکیسویں صدی میں نظر آتا ہے۔’

ان کے مطابق کسی عہد میں مرد کے اختیار کو ظاہر کرنے کا یہ معیار ہو سکتا ہے جیسا کہ 16ویں صدی کے نشاۃ الثانیہ کے دوران تھا جب لوگ فطری رنک و آہنگ کو زیادہ مناسب سمجھ رہے تھے۔ اپنے زمانے کے عہد پر تنقیدی نگاہ رکھنے والے شاعر اور بیرسٹر سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی نے لارڈ کرزن کی داڑھی کے متلعق ایک شعر کہا تھا جو اس زمانے یعنی بیسویں صدی کے اوائل کے رجحان کو پیش کرنے کے لیے کافی ہے:

کردیا کرزن نے زن مردوں کو صورت دیکھیے

آبرو چہرے کی سب فیشن بناکر پونچھ لی

سچ یہ ہے انسان کو یورپ نے ہلکا کردیا

ابتدا ڈاڑھی سے کی اور انتہا میں مونچھ لی

اس سے قبل اکشے کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ان داڑھی اور فیشن سٹیٹمنٹ کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اپنے کپڑے خود دھونے اپنی غریبی اور کپڑے کو آئرن کرنے کا ذکر تو کیا لیکن داڑھی کے بارے میں کوئی جواب دینا شاید بھول گئے۔ امید کہ اب کبھی اگر کوئی اکشے کمار ان سے داڑھی کے بارے میں سوال کر سکے تو وہ کوئی مزیدار جواب دیں ویسے وہ اپنی ‘فقیری’ میں مطمئن نظر آتے ہیں۔

(بشکریہ بی بی سی اردو)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*