مودی جی کی علی گڑھ تقریر:خوش ہونے کی کوئی بات نہیں-ڈاکٹر عابد الرحمن

لوگ خوش ہیں کہ مودی جی علی گرھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب میں شریک ہوئے اور انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اس کے سابق طلباء کو سراہا بلکہ اپنی ہی پارٹی کے لیڈران اور حواریوں جوچھوٹی چھوٹی باتوں پر اسے بدنام کر تے رہتے ہیںجو اسے داخلی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیںان کے بر خلاف مودی جی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ یونیورسٹی کا کردار ہمیشہ سیکولر رہا ہے اور وہاں تمام مذاہب کا احترام کیا جا تا ہے اور وہاں سے کئی سوتنترتہ سینانی بھی نکلے ہیں۔ لیکن اسی بیچ انہوں نے یونیورسٹی کو’ منی انڈیا ‘قرار دیا ۔ ہمارا سوال ہے کہ مودی جی نے ڈائریکٹ انڈیا کیوں نہیں کہا یہ کیوں نہیں کہا کہ یہی انڈیا ہے یہی انڈیا کی تہذیب ہے اسی کردار اور مختلف مذاہب کے احترام کا نام انڈیا ہے؟آخر انڈیا میں منی انڈیا کا مطلب کیا ہے؟ہم سمجھتے ہیں یہ دراصل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تئیں ان کی پارٹی کے نظریہء اعتصاب کی جھلک ہے ، شاید انہوں نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردادر پر چوٹ کی ہے انڈیا میں اقلیتی ادارے کی تخصیص کو منی انڈیا قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ ان کی سرکار نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر رکھا ہے یعنی مودی جی نے خود یونیورسٹی آکر وہی بات کہہ دی جو وہ کورٹ میں کہہ چکے ہیں۔ مودی جی نے اپنی تقریر میں سر سید کا ایک قول سنایا کہ ’ اپنے دیش کی چنتا کرنے والے کا پہلا اور سب سے بڑا کرتویہ ہے کہ وہ سبھی لوگوں کے کلیان کے لیے کاریہ کرے بھلے ہی لوگوں کی جاتی مت یا مذہب کچھ بھی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ سر سید نے اپنی بات کو وستار دیتے ہوئے ایک مثال دی تھی کہ جس طرح مانو جیون اور اس کے اچھے سواستھ کے لیے شریر کے ہر انگ کا سوستھ ہونا ضروری ہے ویسے ہی دیش کی سمردھی کے لیے اس کا ہر استر پر وکاس ہونا ضروری ہے ۔ اور پھر یہ اعلان بھی کیا کہ ان کی حکومت اسی اصول پر کام کر رہی ہے کہ ’ دیش آج اسی مارگ پر بڑھ رہا ہے جہاں ہر ناگرک کو بنا کسی بھید بھاؤ دیش میں ہو رہے وکاس کا لابھ ملے ۔۔۔ دیش آج اس مارگ پر بڑھ رہا ہے جہاں مذہب کی وجہ سے کوئی پیچھے نہ چھوٹے ہر ویکتی کو آگے بڑھنے کے سمان اوسر ملیں سبھی اپنے سپنے پورے کریں ، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس یہ منتر اس کا مول آدھار ہے ۔ دیش کی نیت اور نیتیوں میں یہی سنکلپ جھلک رہا ہے اس ضمن میں انہوں نے بہت ساری اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو دیش کا ہے وہ سبھی دیش واسیوں کا ہے اور اس کا لابھ ہر دیش واسی کو ملنا چاہئے ہماری سرکار اسی بھاؤنا کے تحت کام کررہی ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سرکار کی اسکیمیں بنا کسی بھید بھاؤ کے مسلمانوں تک بھی اسی طرح پہنچ رہی ہیں جس طرح دیگر شہریوں تک لیکن ہمارے خیال سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یہ سب باتیں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مسلمانوں کو بھی دوسرے شہریوں کے برابر مواقع بنا کسی بھید بھاؤ کے مل رہے ہیںتو پھر ان کے اداروں کو اقلیتی اداروں کی تخصیص کی کیا ضرورت ہے ؟ مودی جی نے اپنی اس تقریر میں جہاں کسی جاتی مت یا مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ سے انکار کیا وہاں یہ بھی کہا کہ دیش آج اس مارگ پر بڑھ رہا ہے جہاں دیش کا ہر ایک ناگرک سنویدھان سے ملے اپنے ادھیکاروں کو لے کر نشچنت ( بے فکر ) رہے اپنے بھوشیہ کو لے کر نشچنت رہے ۔ ان کا یہ جملہ سننے کے بعد تو گویا ہماری آنکھوں کے پردے پر ایک فلم سی چلنے لگی جس میں مودی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) اور اس کے تحت این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ان مظاہرین پر ہوئے پولس ایکشن کی دسمبر جنوری کی کڑ کڑاتی ٹھنڈ میں شاہین باغ میں احتجاج کر نے والی بوڑھی خواتین اور بچوں کی تصاویر ، خود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اس قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کے بعد پولس بربریت کی جس میں کئی طلباء کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انہی پر مقدمات بھی قائم کیے گئے تھے ۔اور اس سب پر یامودی جی کی خاموشی اور سی اے اے کی پر زور حمایت کی یاد آگئی۔ جب مودی حکومت مذہب اور کسی بھی بنیاد پر بھید بھاؤ کے بغیر کام کر نے میں وشواس رکھتی ہے تو سی اے اے قانون تو اسے اتنا منھ چڑھا رہا ہے کہ اس آئینے میں منھ دیکھتے ہوئے اسے شرم آنی چاہیے کہ یہ تو مذہب کی بنیاد پر کھلم کھلا بھید بھاؤ ہے جس میں اسلام کے علاوہ تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو شہریت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی آسام کی طرح اگرپورے ملک میں این آر سی کروایا گیاجس کا بار بار شور کیا جارہا ہے جس کی دھمکی آمیز گھوشنائیں کی جارہی ہیں تو اس میں اپنی شہریت ثابت نہ کرپانے والے مسلمان دوبارہ شہریت کے حاصل کرنے کے لائق نہیں بچیں گے جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو سی سی اے کے تحت شہریت مل جائے گی ۔اس ضمن میں مودی جی کی مذکورہ تقریر نے ان کے قول و فعل کے شدید تضاد کو روز روشن کی طرح عیاں کردیا ہے ۔ ایک طرف مودی جی اپنی حکومت کو دیش کے ہر ناگرک کے سنویدھانک ادھیکاروں کی ادائیگی کا پابند کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے قوانین بنارہے ہیں جو خود لوگوں کے آئینی حقوق پر ضرب ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مودی جی کی مذکورہ تقریر ان کے چینج آف مائنڈ کی غماز ہے ۔ہمیں تو نہیں لگتا پھر بھی اگر ایسا ہی ہے اور ہمارے سارے شکوک و شبہات ’بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ‘ کے مصداق ہیں تو انہیں یہیں سے اس کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے سی اے اے کے متعلق مسلمانوں کے شکوک و شبہات کو دور کرنے والا کوئی اعلان ہی کر دینا چاہئے تھا یونیورسٹی کے جن طلباء کو اس کے خلاف احتجاج کی وجہ سے مقدمات کا سامنا ہے ان کے مقدمات کی واپسی کا اعلان بھی ہوسکتا تھا ،لیکن ایسا نہیں ہوا ، پھر بھی اگر یہ مودی جی کا چینج آف مائنڈ ہے تو اس کے عملی اظہار کا انتظار کئے بغیر ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے تھا کہ جب ان کا نظریہ یہ ہے ان کی حکومت کا اصول یہ ہے تو ان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم کیوں چلائی جا رہی ہے ہمارے خلاف حملے کیوں بڑھے ہیں اور خود ان کی سرکار نے ایسا قانون کیوں بنایا جو مسلمانوں کو دوسرے شہریوں کی بہ نسبت غیر مساوی قرار دیتا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مودی جی نے جو باتیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے متعلق کی ہیں وہ اپنے بھکتوں کو بھی سمجھادیںتو عرض ہے کہ بھکت ہم سے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مودی کیا اور کیوں کہہ رہے ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)