مودی حکومت کسانوں کی آواز دبارہی ہے:راہل گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پیر کو ایک بار پھر زراعت سے متعلق قوانین پر حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں اور باہر بھی کسانوں کی آواز دبائی جارہی ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں ان بلوں کی منظوری کے دوران ہنگاموں سے متعلق ایک خبر شیئرکرتے ہوئے ٹویٹ کیاکہ زرعی قوانین ہمارے کسانوں کے لئے موت کافرمان ہے۔ ان کی آواز پارلیمنٹ اور باہر دونوں جگہ دبائی گئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ختم ہوچکی ہے۔کانگریس کے رہنما نے جس خبرکا حوالہ دیا اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہریونش نے کہا تھا کہ اپوزیشن ممبران ایوان میں زراعت کے بلوں پر ووٹ مانگنے کے دوران اپنی نشستوں پر نہیں تھے، لیکن راجیہ سبھا کے ٹی وی فوٹیج سے اس کے برعکس بات ثابت ہوتی ہے ۔ مون سون کے حالیہ اجلاس میں پارلیمنٹ نے زرعی پیداوار تجارت (فروغ اور سہولت) بل -2020 اور کسانوں (امپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن) پرائس انشورنس معاہدے اور زرعی خدمات سے متعلق معاہدے بل 2020 کی منظوری دی۔ صدر رام ناتھ کووند نے اتوار کے روز ان بلوں کو منظوری دے دی، جس کے بعد وہ قانون بن گئے۔